کسی اور زمانے کا انسان،قاضی حسین احمد

کسی اور زمانے کا انسان،قاضی حسین احمد
 کسی اور زمانے کا انسان،قاضی حسین احمد

  

خوبصورت اور روشن چہرہ،جسم بھرا ہوا،گھنی داڑھی سفید براق جو چہرے پر خوب جچتی۔رفتار ایسی تھی کہ چلتے تو ساتھ ساتھ چلنے والے ساتھ نہ دے پاتے۔شخصیت وجیہ،قددرمیانہ،گفتگو کرتے تو علم کے موتی لٹاتے، سننے والوں کی طلب کم نہ ہوتی۔گفتگو مدلل ہوتی ہے جس میں قرآن وسنت کے حوالہ جات اور تاریخی ا مثال ہوتیں۔ حالات حاضرہ پر بات کرتے تو معلومات کے دریا بہا دیتے،کارکنان کوعزم دینا ہوتا تو اپنے ہاتھ کو مکّا بناکر کہتے”میرے عزیزو“اور کارکنان میں بجلیاں بھر دیتے۔ جذبات گرما دیتے،سننے والے اپنے ہوتے یا غیر،یکساں امید پاتے۔قاضی صاحب کو اپنی بات کہنے کا فن ہی نہیں آتا تھا، بلکہ وہ دل و دماغ میں اتارنا بھی جانتے تھے۔تحرک،جدوجہد اور بے قراری ان کی شخصیت کے جوہر تھے۔ ان کی زندگی شہادت حق اور اقامت دین کا چلتا پھرتا نمونہ تھی۔تمام عمر فریضہ اقامت دین، دن دیکھا نہ رات، جدوجہد کرتے رہے۔

جہاد انکی محبت تھی اس محبت کوفراواں کرنے اور دیوانگی میں بدلنے کے لیے معرکہ آزما رہے۔ جہاد افغانستان ہو یا جہاد کشمیر،وہ حقیقی معنوں میں کے پشی بان اور معمار تھے۔جدوجہد آزادی کشمیر کو انہوں نے نیا آہنگ دیا۔جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہوئے تو جماعتی کاز آگے بڑھانے اور جماعت کی مقبولیت میں اضافے اور دعوت و خدمت کی سیاست کو عوامی رنگ دینے کے لیے مجاہدانہ انداز اپنایا۔عوامی مہمات ہوں یا روڈ کارواں، یا ٹرین مارچ۔عوامی جلسے ہوں یا جلوس اور دھرنے،انہو ں نے ان پروگرامات کا طوفانی سلسلہ شروع کیا۔ پاکستان میں دھرنا سیاست انکی ایجاد کردہ ہے جسے انہوں نے عوامی تحرک اور عوامی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا۔پاکستان اسلامی فرنٹ بنا کر عوام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی اسی طرح پاسبان کا آئیڈیا خوبصورت اور نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے والا آئیڈیا تھا۔

پاکستان اسلامی فرنٹ اور پاسبان جیسے آئیڈیازجماعت ہم آہنگ کرپاتی تو شاید آج پاکستانی سیاست کے انداز ہی اور ہوتے اورجماعت اسلامی پاکستان سیاست میں پیش قدمی کی راہ پر ہوتی۔قاضی حسین احمد ذاتی زندگی میں اجلے اور مضبوط کردار کے عملی انسان تھے۔ ایک بار ایک مجلس میں کسی صاحب نے انہیں بتایا کہ ڈاکو ہم سے گاڑی چھین کر لے گئے تو قاضی صاحب نے کہا کہ اگر میں ہو تاتو ڈاکوؤں کو ہرگز گاڑی نہ لے جانے دیتا۔سفر میں ہوتے تو جہاں ذکر و اذکار کرتے،وہیں رابطوں کا کام بھی جاری رہتا۔نمازوں کے بارے میں بہت حسّاس تھے۔نماز کا ٹائم ہوجاتا تو فوری ادائیگی کا اہتمام کرتے۔ رات کی نماز انکو بہت محبوب تھی۔ چاہے گھر ہوتے یا سفر میں،رات کو لازمی اٹھتے اور تہجد کا اہتمام کرتے۔ان کا چہرہ شب زندہ دار ہونے کی گواہی دیتا۔ روشن روشن، توجہ کھینچنے والا، پرکشش اور پرامید اور عزم سے معمور! تعلق بااللہ کی یہ کیفیت جہدوجہد میں عزم امید اور روشنی کی علامت بن جاتی۔ان سے ملنے والے جہاں ان میں کشش محسوس کرتے ہیں ان کی گفتگو میں چاشنی اور جاذبیت۔

ان کے پاس چند لمحات گزارنے والااپنائیت اور اخلاص محسوس کرتا۔ وہ کھرے، صاف ستھرے اور انمول آدمی تھے۔ایسی شخصیات اور کردارمعاشر ے سے ناپید ہوتی جارہی ہیں۔ بڑے قد اور وڑن کے لوگوں کے چلے جانے سے قحط الرجال کا سماں ہے۔معاشرے میں ایسے کردار اور اعمال کے لوگ کم ہوتے جارہے ہیں جو خود نیکی پر کاربند تھے اور نیکی کی آبیاری کرتے تھے۔بدی کی روک تھام اورقلع قمع کے لیے کمر بستہ رہتے۔ اپنے اقدار و روایات کی نہ صرف حفاظت بلکہ ان پر عمل پیرا جو صرف خود ہی نہیں اس آگ کی تپش اور تمازت سے آشنا کرتے۔ قاضی حسین اگلے زمانے کے انسان تھے۔ پاک نظرو پاکباز،تمتی و بے نیاز، بندہ مولاصفات۔ مولانا ظفر علی نے اگلے زمانے کے مسلمانوں کا نقشہ کھینچا۔ اب کہاں وہ مسلمان اگلے زمانے والے۔ گردنیں قیصری و کسریٰ کی جھکانے والے بات کیا تھی، کہ نہ روما سے نہ ایران سے دبے۔چندے تربیت سے اونٹوں کے چرانے والے۔ جن کا کافور یہ ہوتا تھا نمک کا دھوکہ بن گئے خاک کو اکسیر بنانے والے۔ اقبال کے اشعار اردوہو ں یافارسی ان کی گفتگو کا حصہ ہوتے۔ان کی مسکراہٹ دل آویز اور دلنواز ہوتی۔ جھپٹنا،پلٹنا،پلٹ کرجھپٹنا، لہو گرم رکھنے کا ہے ایک بہانہ۔ ان کی شخصیت کا دصف تھا۔وہ اقبال کے کتنے ہی اشعار کا نمونہ تھے۔

خاکی ونوری نہاد،بندۂ مولاصفات

ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیاز

اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیل

اس کی ادا دل فریب، اس کی نگہ دل نواز

نرم نرم گفتگو، گرم دم جستجو 

رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاکباز

مزید :

رائے -کالم -