جانشینِ پیغمبر ﷺ،سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے القاب۔۔۔!!!

جانشینِ پیغمبر ﷺ،سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے القاب۔۔۔!!!
جانشینِ پیغمبر ﷺ،سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے القاب۔۔۔!!!

  

حضراتِ انبیاء کرام علیھم السلام کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلٰی و ارفع نفوس قدسیہ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہی ہیں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا وخوشنودی ہی ان کا مقصد حیات تھا جس میں وہ کامیاب و کامران ٹھہرے،اللہ تعالی نے انہیں دنیا میں ہی حزب اللہ، مفلحون،فائزون،صادقون،راشدون،عادلون، متقون، مومنون حقًا قرار دیتے ہوئے تاقیامت تک آنے والی انسانیت کیلئے معیارِحق قرار دیا،رشد و ہدایت کے یہی وہ مینارے ہیں جنہوں نے اسلام کی جڑوں کو مضبوط کرنے کیلئے اپنا تن من دھن قربان کردیا،اور آہ نہ بھری۔ ان حضرات (رضی اللہ عنھم ورضو عنہ)کے ایثار و قربانی کے ایمان افروز واقعات کو تاریخ نے ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا ہے جو آج بھی اسلامیان عالم کو دعوت ِ عمل دے رہے ہیں ۔یقیناً اصحاب رسولﷺ ہی وہ پاکیزہ نفوس تھے جن کی کوششوں اور محنتوں سے دینِ اسلام مشرق و مغرب کے کناروں تک پہنچا،اور شمال و جنوب لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کے پاکیزہ نعرے سے گونجنے لگے،فارس کے بت کدے منہدم ہوئے اور قیصر وکسریٰ کے غرور کو پاؤں تلے روند ڈالا ۔

شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم نے کتنی خوبصورت عکاسی کی ہے کہ 

دیں آذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں

کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں

دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے

بحرِ ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے 

یہ  اصحاب رسول ﷺ ہی تھے جن کے قلوب کا تزکیہ حضور خاتم النبیین،خاتم المعصومین صلی اللہ علیہ وبارک وسلم نے فرمایا اور انکی تعلیم وتربیت کا فریضہ احسن طریقہ سے سرانجام دیا ،جس کے نتیجہ میں کفر والحاد ،شرک ونفاق ،ظلم وزیادتی،غرور وتکبر ،حُب جاہ و مال،خود غرضی و خود پسندی ،بددیانتی و خیانت،جھوٹ وچغل خوری ،حسد وبغض،ضد وعناد ،نمود و نمائش،بے اعتدالی و بے مروتی اور بدکرداری و بداخلاقی جیسے امراض سے اللہ تعالی نے ان کے قلوب و اذہان کو مصفٰی و مزکی بنا دیا۔۔۔۔اللہ اکبر کبیرا۔۔۔!!!!

گلشنِ نبوت ﷺ کے مہکتے اور چمکتے ہوئے پاکیزہ و منزہ،معطر و منور پھولوں میں وہ ہستیاں بھی ہیں جنہوں نے حضور نبی کریم ،رؤف رحیمﷺ کی رحلتِ مبارکہ کے بعد اس امت کے زمامِ اقتدار،امارت و قیادت و سیادت کی ذمہ داری سنبھالی، امورِ سلطنت اور نظامِ حکومت چلانے کیلئے ان کے اجتہادات اور فیصلوں کو شریعتِ اسلامی میں ایک قانونی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ان بابرکت شخصیات میں سے نمایہ ہستی خسرِ مصطفےﷺ ،جانشین مصطفےﷺ،یارِ غارو مزار،رمزشناس نبوت ﷺ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سب سے اعلٰی مرتبے اور بلند منصب پر فائز تھے،آپ رضی اللہ عنہ ایثار وقربانی،بصیرت و تدبر،عزم واستقلال،وفاداری و فداکاری کا حسین مرقع تھے،وہ ثانی اثنین فی الغار،فدائےِ ذات نبی ﷺ ،پروانۂ رخِ زیبائےِ مصطفےﷺ، عالمِ اسلام کے پہلے خلیفہ راشد اور انبیاء ورسل علیھم السلام کے بعد صدیقین کے سرخیل اور صالحین میں سب سے افضل واعلٰی ،بلند و بالا ہیں،اور علی الاطلاق حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین میں سب سے افضل و اشرف اور سب سے زیادہ علم،تقوی و طہارت رکھنے والے پاکیزہ انسان ہیں۔ انہی کے بارے میں حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ؛ اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو وہ ابوبکر (صدیق اکبر رضی اللہ عنہ) کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ( بخاری شریف، 6573) ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگو! اللہ نے مجھے تمہاری طرف (رسول بنا کر ) مبعوث کیا۔لیکن تم نے میری تکذیب کی اور ابوبکر(رضی اللہ عنہ) نے میری( نبوت و رسالت کی) تصدیق کی اور اپنی جان اور اپنے مال سے میری نصرت و تائید کی۔ تو کیا تم میری خاطر میرے دوست کو (ستانا) چھوڑ نہیں سکتے۔۔؟؟ آپﷺ نے یہ بات دو مرتبہ ارشاد فرمائی۔۔۔۔۔(بخاری شریف ،کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ،3661) 

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کے متعلق شہادت دیتے ہوئے فرمایا ؛ابوبکر (رضی اللہ عنہ) ہمارے سردار ہیں،ہم میں سب سے بہتر و افضل اور رسول اللہ ﷺ کو ہم میں سے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔۔۔۔(ترمذی شریف،3656) 

حضرت محمد بن علی رحمتہ اللہ علیہ (المعروف محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ علیہ) بیان فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد خلیفہ راشد حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے افضل کون ہیں۔۔۔؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابوبکر (رضی اللہ عنہ)۔۔۔(بخاری شریف ،فضائل الصحابہ 3671)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتنۂِ ارتداد،مانعینِ زکوۃ اور مدعیانِ نبوت جیسے فتنوں کا قلع قمع کیا،ان کی فہم وفراست اور بصیرت وحکمت پر مبنی فیصلوں نے نوخیز خلافت و امارت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔آپ رضی اللہ عنہ کا نظام حکومت اور عہدِ زریں دنیا کیلئے مشعلِ راہ ہے۔۔۔۔۔۔!!!!

1-حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام و نسب و کنیت۔۔۔۔!!! آپ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ اور کنیت ابوبکر ہے،ابن عساکر رحمہ اللہ علیہ نے آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلۂِ نسب یوں بیان کیا ہے؛؛ عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعید بن تمیم بن مُرہ بن کعب بن لوی۔۔۔(تاریخ دمشق 3398) آپ رضی اللہ عنہ کے والد ماجد کا نام عثمان اور کنیت ابو قحافہ تھی اور والدہ ماجدہ کا نام سلمٰی اور کنیت ام الخیر تھی،، 

خاندانی رشتہ میں حضرت سیدہ سلمٰی رضی اللہ عنھا اپنے شوہر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  کی چچا زاد تھیں۔۔۔۔(طبقات ابن سعد )حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ کا سلسلۂِ نسب یوں ہے سلمٰی بنت صخر بن عمرو بن کعب،(ابن جریر طبری ج2, 615)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سلسلۂِ نسب ساتویں پست میں مرہ بن کعب پر حضور نبی کریم ﷺ کے نسبِ مطہرہ سے جا ملتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد مکرم حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ)اور والدہ مکرمہ حضرت سلمٰی ام الخیر بنت صخر (رضی اللہ عنھا) دونوں مشرف بہ اسلام ہوئے  بلکہ حضور نبی کریمﷺ کی صحبت پائی اور رضی اللہ عنھم ورضو عنہ کا خدائی تمغہ پا کر دنیا میں ہی جنت کی بشارت کے مستحق قرار پائے،،،سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔۔۔۔۔

2-حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے القاب۔۔۔!!! آپ رضی اللہ عنہ کے مختلف القاب ہیں،جو آپ رضی اللہ عنہ کے بلند مرتبہ،عالی مقام اور خاندانی شرف پر دلالت کرتے ہیں،

۱-پہلا لقب عتیق ۔۔۔!!! یہ لقب حضور نبی کریمﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا،ام المؤمنین سیدہ طیبہ طاھرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ ایک دن حضور نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے،تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا؛انت عتیق اللہ من النار،ترجمہ! تم جھنم سے اللہ کے عتیق(آزاد کردہ) ہو۔۔۔۔۔۔۔۔تو اُسی روز سے آپ رضی اللہ عنہ کا نام عتیق پڑ گیا۔۔۔۔(ترمذی شریف 3679)

۲-دوسرا لقب صدیق۔۔۔۔۔!!! یہ لقب بھی آپ رضی اللہ عنہ کو حضور نبی کریم ﷺ نے عطا فرمایا،حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر،حضرت عمر ، حضرت عثمان رضی اللہ عنھم احد پہاڑ پر چڑھے،وہ ہلنے لگا،تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ " .ترجمہ !اے احد! ٹھہر جا!اس وقت تیرے اوپر ایک نبی ( ﷺ )، ایک صدیق (رضی اللہ عنہ) اور دو شھید(رضی اللہ عنھما) ہیں۔ (بخاری شریف,3675)

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ احد پہاڑ پر تشریف فرما تھے،وہ اچانک ہلنے لگا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ! حِرَا ٹھہر جا! تجھ پر نبی ،صدیق اور شھید ہیں۔ اس وقت سیدنا ابوبکر صدیق،سیدنا عمر فاروق،سیدنا عثمان غنی،سیدنا علی المرتضی،سیدنا طلحہ،سیدنا زبیر، اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنھم بھی آپ ﷺ کیساتھ تھے۔(مسلم شریف 2417).

اسی طرح ایک روایت میں وارد ہوتا ہے کہ جب حضور نبی کریم ﷺ سفرِ معراج سے تشریف لائے تو مشرکین مکہ مکرمہ نے اس بات پر بہت تعجب کیا اور آپ ﷺ کیخلاف سخت پروپیگنڈہ کیا،تو اس وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول( ﷺ) ہیں۔ تو اس کمالِ تصدیق کی بنا پر آپ رضی اللہ عنہ کا لقب صدیق پڑ گیا۔۔(مسند البزار،3484,دلائل النبوہ للبیہقی،355 تا 357)

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ یرموک کے دن میں نے (اہل کتاب کی) بعض کتب میں یہ بات دیکھی کہ ابوبکر یقیناً صدیق(بہت زیادہ سچے) ہیں،تم نے ان کا یہ نام (صدیق) درست ہی رکھا، اور عمر یقیناً الفاروق ( حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے) ہیں،وہ گویا(۔ لوہے کی بنے ہوئے ہیں،تم نے ان کا نام(الفاروق) درست ہی رکھا ہے۔ 

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھم کی صحیح السند اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب کے ہاں یہ بات مشہور و معروف تھی کہ حضرت ابوبکر الصدیق اور حضرت عمر الفاروق (رضی اللہ عنھما) ہیں۔ ( واسنادہ صحیح ،مسند احمد بن حنبل 74)

اسی طرح طبقات ابن سعد میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ  نے شبِ معراج میں جبریل امین سے پوچھا کہ میری قوم میں اس واقعہ کی تصدیق کون کرے گا،انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! "ابوبکر" وہ آپ کی تصدیق کریں گے وہ صدیق (رضی اللہ عنہ) ہیں ۔۔۔۔۔!!!!!!!

سورۂ زمر کی آیت نمبر 33 ترجمہ! اور جو لایا(حضور نبی کریم ﷺ ) سچی بات اور سچ مانا اُس کو (سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس آیت مبارکہ کے اولین مصداق ہیں )وہی لوگ ہیں ڈرنے والے ۔۔۔۔۔۔!!!!

۳- تیسرا لقب صاحب۔۔۔۔!!!! یہ عظیم الشان لقب حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنھم ورضو عنہ کو اللہ تعالی نے عطا فرمایا جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ترجمہ! اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی،جب اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنہوں نے کفر کیا،جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا،جب وہ دونوں غار میں تھے،جب وہ اپنے صاحب( ابوبکر ) سے کہہ رہا تھا غم نہ کر،بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔تو اللہ نے اپنی سکینت (سکون و اطمینان )اس پر اُتار دی اور اسے ان لشکروں کیساتھ قوت دی جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کی بات نیچی کر دی جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی بات ہی سب سے اونچی ہے اور اللہ سب پر غالب ،کمال حکمت والا ہے،،(سورۂ توبہ آیت نمبر 40) 

اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیت کریمہ میں "صاحب" (ساتھی)سے مراد حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ کی جاں نثاری قابل صد آفرین ہے یارِ غار کی مثل جو دنیا میں مشہور ہے وہ یہیں سے چلی ہے،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھے صرف غار کی فضیلت دے دیں اور مجھ سے تمام عمر کی عبادت اور نیکیاں لے لیں تو میں اس پر راضی ہوں۔۔۔۔۔ مگر یہ وہ امتیازی خدائی انعام و اکرام تھا جس نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو پوری امت میں افضل واعلی،اشرف و اکرم بنا دیا یعنی اللہ تعالی نے آپ رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا اعلان اپنی پاکیزہ و آخری کتاب قربان مجید فرقان حمید میں فرما دیا ۔۔۔۔۔۔!!!!!

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ جب حضور نبی کریم ﷺ غار میں پناہ گزیں ہوئے  تو میں نے آپ ﷺ سے عرض کی،کہ اگر ان کافروں میں سے کسی نے اپنے قدموں کے نیچے کی طرف دیکھ لیا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا ،تو اس موقع پر آپ ﷺنے ارشاد فرمایا،اے ابوبکر (رضی اللہ عنہ)! ان دونوں کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے۔۔۔؟؟؟(بخاری شریف 3653)

ایک دفعہ حضور نبی کریمﷺ  نے (حضرت) حسّان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے حسّان(رضی اللہ عنہ)! تُو نے ابوبکر (صدیق رضی اللہ عنہ) کے بارے میں کچھ کہا ہے۔ تو حضرت حسّان (رضی اللہ عنہ )نے عرض کیا‘ جی ہاں: چنانچہ اُنہوں نے  یہ شعر پڑھے:

وَثَانِیَ اثْنَیْنِ فِی لْغَارِالْمَنِیْفِ

 وَقَدْطَافَ الْعَدُوُّبِہٖ اِذْصَعِدُواالْجَبَلاً

وَکَانَ حَبَّ  رَسُوْلِ اللّٰہِ قَدْ عَلِمُوْا

خَیْرُالْبَرِیَّۃِ لَمْ یَعْدِلْ بِہٖ رَجُلاً

’’وہ مبارک غار میں دو میں دوسرے ہیں۔ دشمنوں نے آپ ﷺ کا گھیرائو کیا جب کہ وہ پہاڑ پر چڑھے اور آپ (رضی اللہ عنہ) رسول اللہ ﷺ کے محب ہیں ۔ لوگ جانتے ہیں‘ کہ ساری مخلوق سے بہتر ذاتِ ستودہ صفات نے آپ ﷺ کے برابرکسی شخص کو نہیں کیا۔‘‘

یہ اَشعار سُن کر آپ ﷺ اِس قدر مسکرائے کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم نے بالکل سچ کہا۔ واقعی ابوبکر(صدیق رضی اللہ عنہ) ایسے ہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!

حضرت طلحہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ اصحاب صفہ (رضی اللہ عنھم) نے اپنے کھانے کے متعلق حضور نبی ﷺ سے شکایت کی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، میں اور میرا یہ ساتھی(ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) مسلسل اٹھارہ (18) دن رات اس حال میں رہے ہیں کہ ہمارے کھانے کیلئے پیلو کے کچے اور ترش پھل کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔۔۔(مستدرک حاکم،4290 ،مسند احمد,487/3. 15994)

3- اللہ تعالی نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اصحاب فضل اور ارباب وسعت قرار دیا۔۔۔!!!!

قرآن مجید سورۂ نور کی آیت نمبر 22 میں حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اصحاب فضل اور ارباب وسعت قرار دیا چنانچہ ارشاد ربانی ہوتا ہے کہ ترجمہ!" اور تم میں سے اصحاب فضل اور ارباب وسعت یہ قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، ان کو چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر کریں، کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہاری مغفرت کر دے اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔۔۔"  

 یہ آیتِ مبارکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی ہے، جب سن 6ہجری میں غزوۂ بنی المصطلق سے واپسی پر صدیقہ بنت صدیق ،ام المؤمنین سیدہ عفیفہ طیبہ طاھرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا پر منافقین کیطرف سے تہمت لگائی گئی (واقعہ افک و تہمت) تو حضرت مسطح رضی اللہ عنہ بھی نا دانستہ طور پر اس سازش کا شکار ہو گئے ،جو کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی تھے،چنانچہ جب ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی برات نازل ہوگئی اور اس تہمت کو اللہ تعالی نے بہتان عظیم قرار دیا تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حضرت مسطح رضی اللہ عنہ پر بہت رنج ہوا، حضرت مسطح رضی اللہ عنہ یتیم تھے اور ان کی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پرورش فرمائی تھی اور ان پر اپنا مال خرچ کیا کرتے تھے،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غم و غصہ کیوجہ سے حضرت مسطح رضی اللہ عنہ پر خرچ کرنے کے متعلق قسم اٹھا لی۔حضرت مسطح رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  سے معافی مانگی اور معذرت کی لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سخت غم و غصہ میں تھے وہ دوبارہ حضرت مسطح رضی اللہ عنہ کے اخراجات بحال کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے تب یہ آیت نازل ہوئی اور حضرت ابوبکر صدیق  (رضی اللہ عنہ نے رجوع کرلیا،قسم توڑ کر کفارہ بھی ادا کیا اور فرمایا کیوں نہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرما دیں اور میں اب (حضرت) مسطح رضی اللہ عنہ پر پہلے سے زیادہ خرچ کروں گا۔ (جامع البیان جز ١٨ ص ١٣٧۔ ١٣٦، دارالفکر بیروت)

یہ آیت حسب ذیل وجوہ سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے  فضائل و مناقب پر دلالت کرتی ہے۔۔۔

(١) تواتر سے ثابت ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

(٢) اس آیت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اولوالفضل والسعۃ (اصحاب فضل اور ارباب وسعت) فرمایا ہے۔

(٣) اولو الفضل والسعۃ جمع کا صیغہ ہے اور جب واحد شخص پر جمع کا اطلاق کیا جائے تو اس کی تعظیم کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔

(٤) اللہ تعالیٰ نے فضل کو مطلق فرمایا اور اس کو کسی قید کے ساتھ مقید نہیں فرمایا اس سے یہ معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فاضل علی الاطلاق تھے اور آپ رضی اللہ عنہ میں ہر اعتبار اور ہر جہت سے فضیلت تھی۔

(٥) اللہ تعالیٰ نے فرمایا اولوالفضل منکم یعنی جو تم سب میں سے صاحب فضیلت ہیں اس میں یہ دلیل ہے کہ یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صفت مخصوصہ ہے۔

(٦) فضل کا معنی ہے زیادہ یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام مومنوں سے زیادہ اللہ کی عبادت کرنے والے تھے۔

(٧) اور فرمایا جو تم سب سے زیادہ صاحب وسعت ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ مسلمانوں کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے والے تھے وہ عبادت بھی سب سے زیادہ کرتے تھے اور مسلمانوں پر شفقت بھی سب سے زیادہ کرتے تھے اور خالق کی تعظیم اور مخلوق پر شفقت کرنے کے سب سے زیادہ جامع تھے۔۔۔۔۔۔!!!!!!

نوٹ: یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -