ترقی کا انوکھا سفر

       ترقی کا انوکھا سفر
       ترقی کا انوکھا سفر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  پاکستان میں کچھ عرصے سے صرف سیاست ہو رہی ہے۔ جہاں چارلوگ اکٹھے ہوتے ہیں چند منٹ کے بعد موضوع سیاست ہوتا ہے۔ ٹی وی چینلز دیکھیں تو شاید ہی سیاست کے علاوہ کسی موضوع پر بحث سننے کا موقع ملے۔ کالم نگار بھی گھوم پھرا کر بات سیاست پر ہی ختم کرتے ہیں سیاست کے شعبے میں موضوعات کی کمی نہیں۔ کچھ دنوں پہلے تک تو ایک ہی موضوع تھا کہ الیکشن کب ہوں گے شک کرنے والے اب بھی موجود ہیں لیکن اب یہ بحث ٹھنڈی پڑ گئی ہے البتہ اب اگلا شک یہ ہے کہ کیا الیکشن واقعی شفاف ہوں گے؟ اور کیا سب پارٹیوں کو لیول پلینگ فیلڈ ملے گی؟ ان دو سوالوں پر تفصیلی بحث سے شکوک و شبہات کو تقویت ملتی ہے  پھر یہ سوال رہ جاتا ہے کہ کیا اِس الیکشن کے نتائج کو تسلیم کیا جائے گا اور کیا الیکشن کے نتیجے میں سیاسی استحکام پیدا ہو گا؟ گویا ہمارے ہاں کسی سوال پر بھی اتفاق رائے نہیں۔ شکوک و شبہات کی ایک دبیز تہہ ہے اور ہر شخص بے یقینی کا شکار ہے۔ ظاہر ہے یہ کوئی اچھا شگون نہیں لیکن بدقسمتی سے صورتحال یہی ہے۔

بے یقینی کی اس فضاء میں چند چیزیں البتہ ایسی ہیں جو تقریباً یقینی ہیں آپ شاید حیران ہوں لیکن ایسا ہے پہلی بات یہ کہ کم از کم یہ طے ہے کہ جو آدمی وزیراعظم، وزیراعلیٰ یا کسی اوراہم سیاسی عہدے پر متمکن ہو گا اُسے سبکدوش ہونے پر جیل جانا پڑے گا۔ یہ کہیں لکھا ہوا تو نہیں نہ میری خواہش ہے بلکہ ہماری تاریخ سے یہی ثابت ہوتا ہے شاید یہ قیادت کی تربیت کیلئے ضروری ہے اور ایک وارننگ بھی ہے کہ جو اِس بحر میں شناوری کا شوقین ہے اُسے اندازہ ہونا چاہئے کہ پانی کتنا گہرا ہے لہٰذا جو لوگ آج کل زیرعتاب ہیں وہ اتنے معصوم نہیں کہ انہیں اپنے اعمال کے نتائج کا کوئی علم نہ ہو۔ ہم نے انتخابات کو صاف اور شفاف بنانے کے لئے نگران حکومت کا آئیڈیا اپنایا ہے اگرچہ یہ شایدصرف ہم نے ہی اپنایا ہواہے۔اب شفافیت کی تعریف تو ہر پارٹی یا طبقے کی اپنی ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے شفاف الیکشن کا مقصد شاید پورا نہیں ہو رہا لیکن اس کے کئی پہلو مثبت ہیں۔ اِس صورتحال کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ کرسی کے خواہشمند اب سوچ لیں کہ وہ   گہرے پانیوں میں اُترنے کا راستہ اپنانا چاہتے ہیں یا نگرانوں والا محفوظ راستہ۔ ایک اور بات تقریباً طے ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عہدے کی مدت اب طے نہیں گویا نہ نگران کی مدت طے ہے نہ منتخب عہدیدار کی۔ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ منتخب وزیراعظم کی مدت دو سے چار سال کے درمیان ہو سکتی ہے آئین میں اگرچہ یہ مدت پانچ سال ہے لیکن یہ ابھی تک Actulize نہیں ہو سکی کیونکہ کسی وزیراعظم نے یہ مدت پوری نہیں کی۔نگران وزیراعظم کی مدت بھی تین ماہ نہیں بلکہ سال سوا سال یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔اِس کے کئی فائدے ہیں مثلاً زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچنے کا موقع مل رہا ہے لہٰذا سیاستدانوں میں پٍُراُمیدی کی فضاء رہتی ہے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑتا۔

ایک زمانے میں پاکستان کی سیاست میں ایک پارٹی یا نظریے کے ساتھ وابستگی بہت اہم سمجھی جاتی تھی لیکن اب اس کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ کچھ عرصے سے نظریہ نام کی کوئی چیز نہیں رہی اور حتیٰ کہ پارٹیاں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں لہٰذا Electables کی پارٹی تبدیلیوں پر بھی اعتراض ختم ہو جاتا ہے۔ 

وقت کے ساتھ منشور کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہی کیونکہ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ اس پر عمل کرنا مقصد ہی نہیں ہوتا ویسے بھی آئیڈیا لوجی اور منشور کی جگہ اب ”بیانیے“ نے لے لی ہے۔ چند جملوں پر مشتمل بیانیے کو دہرانا بھی آسان ہوتا ہے اور برسراقتدار آکر لکھے ہوئے منشور کی طرح اس پر باقاعدہ عملدرآمد کا سوال بھی  نہیں بنتا۔ایک طبقے نے اِن سارے معاملات کو کوزے میں بندکر دیا ہے کہ لیڈر ایماندار ہونا چاہئے۔ایمانداری کی تعریف سب کی اپنی اپنی ہے۔ ہمارے ہاں ماشاء اللہ اول تو ایماندار لیڈر کا ملنا بڑا مشکل ہے لیکن اگر کوئی مل جائے تو پھر کچھ اور سوال پیدا ہو جاتے ہیں نہ چاہتے ہوئے بھی مثال دینی پڑتی ہے کہ ایک دینی جماعت کے پاس شاید ایماندار لیڈر شپ موجود ہے لیکن انہیں ووٹ کوئی نہیں دیتا جس سے پتہ چلتا ہے کہ نعرے کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن صحیح معنوں میں ایماندار ی ہمیں سوٹ نہیں کرتی کیونکہ اس طرح تو ”کاروبار زندگی“ ٹھپ ہو نے کا خطرہ ہے۔

پس نوشت: بدقسمتی سے پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل افسوسناک خبریں مل رہی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک ماہ کے دوران ہمارے چار کولیگزیہ دنیا چھوڑ گئے، میں نے اِس پر کالم لکھا تھا لیکن اب بدھ کے روز ایک اور کولیگ ضیاء الدین بٹ بھی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اسلام آباد کلب میں ہماری محفل کو رونق بخشنے والے دو سینئر جسٹس علی نواز چوہان اور حفیظ اللہ چیمہ بھی کچھ دن پہلے ہمارا ساتھ چھوڑ گئے۔ جسٹس چوہان گیمبیاکے چیف جسٹس رہے پھر ہیگ میں عالمی عدالت کا حصہ رہے۔ چیمہ صاحب بھٹو کا بینہ میں وفاقی وزیر رہے۔ لاہور میں چند دن پہلے ممتاز مصور، خطاط اور ادیب اسلم کمال بھی اِس دنیاسے سدھار گئے۔ اسلم کمال صاحب نے میری کتاب ”پی ٹی وی میں مہ وسال“ کاسرورق بنایا تھا اور کتاب کا نام بھی طے کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ سب پر اپنی رحمت نازل کرے۔

مزید :

رائے -کالم -