کبھی یہ سب کتنا دلکش و دلنشیں تھا

       کبھی یہ سب کتنا دلکش و دلنشیں تھا
       کبھی یہ سب کتنا دلکش و دلنشیں تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  میری نسل کے وہ لوگ جنہوں نے ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بچپن اور نوجوانی گزاری، اور اگر ان کا تعلق میری طرح دیہاتی زندگی سے بھی جڑا ہے، تو وہ محسوس کر سکتے ہیں، کہ وقت کس قدر تیزی سے بدلا ہے۔ اس وقت کی تیز رفتاری کے ساتھ   ہم نے اپنے بچپنے کی معصومیت اور نوجوانی کا خمار ہی نہیں کھویا، بلکہ بہت سے دلکش و حسین چہرے، بہت سے قریبی دوست اور وہ رشتے بھی کھو دیے جن کی جدائی نے پھر کبھی چین سے سونے نہ دیا۔

سہہ سہہ جوڑ سنگت دے میں ڈیھٹے، آخر وتھاں پیاں 

جناں باج اک پل نیں ء ساں جیندے او صورتاں یاد ناں رہیاں 

جوانی کے بہت سے ادھورے سپنے بھی سوہان روح بنے رہے۔ وہ نوجوانی کا زمانہ بقول ہمارے  ایک عزیز دوست کہ جب ہم بے فکری سے فکر مندی کے گھوڑے دوڑایا کرتے تھے، وہ پلک جھپکنے میں گزر گیا۔ وہ معصوم معصوم سی بے ضرر خواہشیں اور شرارتیں جب گناہ کرنے سے زیادہ گناہ کی نیت میں مزا آتا تھا۔۔۔             بقول عدم

جو دلکشی گناہ کی نیت میں ہے عدم

وہ دلکشی کبھی نہ ملی ارتکاب میں 

جب گھروں کے کشادہ صحن  اور چھت پورے خاندان کے بیڈ روم کے طور پر استعمال ہوتے تھے، چاندنی راتوں کی سحر انگیز چاندنی ایک دلفریب منظر بنا دیتی تھی۔  رات کو جب بارش آتی تو پورے گاؤں سے یکدم ایک ہنگامہ خیز قسم کی آوازیں ابھرتیں کہ لوگ بھیگتے ہوئے چھتوں سے منجھی بسترے اتار رہے ہوتے، کاش کہ اس وقت یہ مناظر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیے ہوتے تو آج کی نوجوان نسل کا سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہوتے۔مسجدوں میں تیل سے جلنے والے دیے، کھجور کے پتوں والی چٹائیاں اور ربڑ کے بھوکے سے کھوئی سے نکلتے پانی نے جب برقی موٹروں،رنگ برنگے کارپٹ اور ماحول کو یخ کرنے والے ایرکنڈیشنڈ میں تبدیل ہوتے دیکھا، تو ساتھ ہماری پر سکون تہذیب و ثقافت اور یکسوئی اور عجز و انکسار میں ڈوبی عبادت کی روح بھی چھن گئی۔ اب ہر نماز میں جب تک کسی نمازی کی جیب سے بے ہنگم قسم کی رنگ ٹون نہ بجے لگتا ہے نماز میں شاید کوئی کمی رہ گئی ہے، اور مزید ستم ظریفی یہ کہ جسکا فون بج رہا ہوتا ہے وہ ہاتھ بڑھا کر ٹون بند کرنے کو اپنی نماز میں خلل سمجھتا ہے خواہ باقی سارے لوگوں کی نماز ڈسٹرب  ہو رہی ہو اور پھر وہ منظر تو دیدنی ہوتا ہے کہ جب سلام پھیرنے کے فوری بعد وہ شخص بے چینی سے فون کی طرف لپکتا ہے اور بعض بے چین روحیں تو صف کے اندر بیٹھے ہی کال کا جواب دینا بھی ضروری سمجھتے ہیں،اس سیل فون نے ہماری عبادات کو ہی متاثر نہیں کیا، یہ ہمارا سکون بھی کھا گیا، یہ ہماری عمدہ روایات کو قتل کر گیا،اب تو ہم خوشی غمی بھی اسی ویٹس آپ پر بھگتا دیتے ہیں۔ یہ ہماری کتب بینی کے شوق کو بھی کھا گیا۔

ماڈرن ٹیکنالوجی کے بڑے فائدے ہیں بشرطیکہ اسے انسانوں کی طرح استعمال کیا جائے۔ ہم نے جھوٹ پھیلانے اور جھوٹ کی حوصلہ افزائی کے لیے سوشل میڈیا کو بے لگام چھوڑ دیا۔ جہاں کسی بھی بندے کی پگڑی اچھالی جاسکتی ہے، کسی بھی خاتون کی عصمت تار تار کی جا سکتی ہے، اس سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے دوستوں میں دوریاں اور رشتوں میں دراڑیں پیدا کر دیں۔ماضی اور حال کا جائزہ اور تقابل کرتے ہوئے جہاں بہت سی انمول اور قیمتی روایات اور رسوم و رواج ہم سے چھن گئے، وہیں معاشرہ میں بے سکونی، روپے پیسے کی لش پش، سٹیٹس کی دوڑ، دوسرے کو گرا کر اپنی جگہ بنانے کی دھن اور مادیت پرستی کا جنون ہماری وہ اعلی و ارفع اخلاقی روایات، رکھ رکھاؤ، وضع داری، ادب و احترام اور اور ہماری خوش مزاجی کو بھی عنقا کر گیا۔ اب ہم لوگوں کو کم ہی ہنستے مسکراتے دیکھتے ہیں۔ہر شخص کسی سوچ میں گم غم و یاس کی تصویر بنے حیرت زدہ ہے۔ چہرے پر غیر ضروری سنجیدگی، بلکہ ہلکا سا غصہ بد حواسی کی چغلی کھا رہا ہوتا ہے۔لوگ اتنے خود غرض ہو گئے کہ خوف خدا اور خدا ترسی جیسی عمدہ عادات اور خوبیوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ حالانکہ دنیا میں خوف خدا، آخرت میں بے خوفی کی قیمت ہے۔ جو خوف خدا سے محروم رہا اس نے دنیا جیت کر آخرت ہار دی۔ کیونکہ عقل مند وہ ہے جو قیامت میں تولے جانے سے پہلے اپنے آپ کو تول لے، کیونکہ قیامت کا تول آخری فیصلہ صادر کرنے کے لئے ہو گا نہ کہ عمل کرنے کی مہلت کے لئے۔ ماڈرن دنیا کی چکا چوند اگر انسان کی بصیرت پر اثر انداز نہیں ہوتی تو قبول ہے اور اس چکا چوند میں اگر انسان بصارت سے دکھائی نہ دینے والی چیزوں کو بصیرت کی نظر سے دیکھنے کی صلاحیت و اہلیت رکھتا ہے، اس کے دامن دل میں انسانی ہمدردی کی کسک موجود ہے تو وہ زندہ ہے، بصورت دیگر وہ زمین کا بوجھ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -