معاشرے میں عورت کاکردار!

معاشرے میں عورت کاکردار!

  

تاریخ عالم کے صفحات عورت کے رنگارنگ کردار کی رنگینوں سے بھرپور ہیں۔ایک طرف وہ دنیا کے اولین قتل کی وجہ بنی اور دوسری طرف نسل انسانی کی بقاءکی ضامن ٹھہری ہے۔مختلف اداروں میں عورت نے معاشرے کے اندر مختلف طریقوں سے کردار ادا کیا۔اگر ہم ماضی کی بات کریں تو اس کے ساتھ غلاموں سے بھی زیادہ بدتر سلوک روا رکھا گیا اور گھر کی چاردیواری سے باہر اسے معیوب تصور کیا گیا۔اگر مستقبل کی طرف نظر ڈالیں تو عورت نے خود کو لوہے کی سلاخ سے بھی زیادہ ٹھوس ثابت کردکھایا۔تیز زندگی کے ہر میدان میں اپنا مقام حاصل کیا، اگر ماضی کی بات کی جائے تو عورت کو دو مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔

(1)اپنے خاوند کی ضرورت، نیز نوکرانی کی طرح بدتر سلوک۔

(2)اسے صرف بچے پیدا کرنے اور گھر کی دیکھ بھال کے لئے مختص تصور کیا گیا۔

عورت کے مختلف روپ: ماں کے روپ میں عورت نے خون جگر سے اولاد کو پروان چڑھایا تو بیوی کے روپ میں شوہر کی دنیا کو جگمگایا۔بہن کے روپ میں وہ بھائیوں پر صدقے واری ہوئی اور بیٹی کے روپ میں وہ باپ کی آبرو کا نگینہ بنی ہے۔کہیں پر عورت نے اپنے حسن و جمال سے ملکوں اور قوموں کے درمیان جنگ و جدل کے شعلوں کو ہوا دی ہے اور کہیں اپنے خون سے جنگ کے شعلوںکی پیاس بجھائی ہے۔کہیں وہ کنیزوں اور لونڈیوں کی طرح سربازار نیلام ہوئی ہے اور کہیں محلات میں عالم پناہ شہنشاہوں کے پُرغرور سروں کو اپنے قدموں میں جھکاتی رہی۔ کہیں اس کے ناموس کی خاطر اڑیل جوانیاں آگ میں کود پڑتی ہیں اورکہیں وہ خود اپنے ناموس کی خاطر آگ کے آلاﺅ میں کود جاتی ہے۔کہیں وہ شرم و حیاءکا پیکر بنتی ہے اور کہیں بے حیائی کی تصویر۔کہیں پر اس نے مردوں کے اشاروں پر رقص کیا ہے اور کہیں اپنی ایک جنبش آبرو سے مردوں کو تگنی کا ناچ نچایا ہے۔غرض چشم فلک نے عورت کے ہزاروں روپ دیکھے ہیں۔یہ مسئلہ ہر دور،ہر قوم اور ہر ملک میں زیر بحث رہا ہے کہ آخر عورت کا صحیح کردار کیا ہے؟ہمارے معاشرہ میں عورت کو دو طبقوں میں تقسیم کیا گیا....ورکنگ ویمن....گھریلو خواتین۔

ورکنگ ویمن معاشرے کے اندر بہت مصروف زندگی ادا کررہی ہیں۔وہ معاشی سرگرمیوں میں ملک و قوم کے لئے نمایاں کردارادا کررہی ہیں۔آج کے دور میں بہت سی خواتین بڑے حوصلے کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔وزیراعظم بن چکی ہیں ،سپیکر بن چکی ہیںاور منسٹر کے عہدے جیسے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔موجودہ دور میں خواتین نے زندگی کے ہر میدان میں ترقی کی ہے اور گھر کے کام کاج کے باوجود مردوں کے شانہ بشانہ حصہ لیا اور مردوں کی طرح قومی و معاشرتی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ۔اس بات سے قطعی انکار نہیں کہ انسان ہونے کے ناتے مرد اور عورت دونوں برابر ہیں۔شرف انسانیت کے حوالے سے جس طرح مرد عزت و تکریم کا مستحق ہے، ویسے ہی عورت بھی عزت و تکریم کی حق دار ہے۔مرد و عورت کی ذمہ داری الگ الگ بیان ہوئی ہے۔مرد پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی کہ وہ روزی کمائے اور معاش کے وسائل فراہم کرنے کے علاوہ دیگر اجتماعی ضروریات کا بوجھ بھی اٹھائے۔عورت اور مرد کے فرائض کی یہ تقسیم ایک فطری تقسیم ہے جو قدرت کی طرف سے ان کی فطری صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی۔

بظاہر عورت کو گھر کی چھوٹی سی دنیا میں پرو دیا گیا، مگر اس کی یہ چھوٹی سی دنیا اپنے اندر دنیاﺅں کی وسعتیں لئے ہوئے ہے۔اسلام نے معاشرے میں عورت کا مقام متعین کرنے کے سلسلے میں فطرت کو پوری طور پر پیش نظر رکھا ہے۔فرمان خداوندی ! مرد کی حیثیت خاندان کے حاکم اور خاندان کی معاشی کفالت ہے۔فرمان خداوندی! عورت اپنے شوہر کی اطاعت کرے، اس کی آبرو اور مال و اولاد کی حفاظت کرے۔مغربی تہذیب نے مرد و عورت کے مساوات کے نام پر عورت کو گھر کی چار دیواری سے نکال کر دفتر،بازار، کارخانے، بینک، شاپنگ مال، ہسپتال وغیرہ کی زینت بنایا۔آج عورت مکمل طور پر آزاد ہے اور وہ زندگی کے ہر عمل میں مرد کے شانہ بشانہ ہے،جس طرح حضرت ام سلمہ ؓ سوت کاتنے میں مہارت رکھتی تھیں اور انہوں نے اہل عرب میں اپنا کاروبار پروان چڑھایا۔ اس طرح حضرت خدیجہؓ بھی تجارت کا کاروبار کرتیں اور آنحضرت ان کا مال تجارت اہل عرب کی طرف لے کر جاتے۔

عورت حقیقی طور پر معاشرے میں نمایاں کردار ادا کرنے والی بہترین تصویر ہے۔عورت نے معاشرتی، قومی ،بین الاقوامی نیزگھریلو ذمہ داری میں نمایاں کردار ادا کیا۔اسلام نے عورت کو ماں کے روپ میں بہت عزت و تکریم عطا کی۔عورت کا ہمارے معاشرے میں اہم ترین کردار رہا ہے۔ عورت نے زندگی کے ہر میدان میں ذہنی و جسمانی طور پر حصہ لیا اور معاشرے کے اندر نمایاں کردار ادا کیا۔جہازوں کی اڑان سے زندگی کے ہر میدان،تعلیم، صحت، فیکٹری، ورکشاپ، شاپنگ سنٹر،دفتر، کارخانے نیز آئی ٹی فیلڈ میں نمایاں کردار ادا کیا اور معاشرتی ترقی کا سبب بنی۔

تعلیمی میدان میں عورت نے اپنی بے شمار صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قوموں کی ترقی میں نمایاں حیثیت اختیار کی، چونکہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی، لہٰذا عورت نے معاشرے کے اندر تعلیم میں نمایاں کردار ادا کیا۔عورت نے آج کے دور میں مرد کے شانہ بشانہ کام کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو منوایا اور ملکوں کو فتح کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ،جیسے بیگم رعنا لیاقت علی خان،محترمہ فاطمہ جناح، محترمہ بے نظیر بھٹو.... اگر ہم حکومتی سطح اور میڈیا پر روشنی ڈالیں تو عورت نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کی۔حکومت نے معاشی طور پر پسماندہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو باعزت روزگار فراہم کرنے کے لئے مال مویشی خرید کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس مقصد کے لئے 50کروڑ روپے کی رقم مختص کردی گئی۔

آئندہ مالی سال میں کالا شاہ کاکو میں لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کے سب کیمپس کے لئے زمین کی الاٹمنٹ کے لئے 31کروڑ 12لاکھ روپے مختص کرانے کی تجویز دی۔اگر ہم تعلیمی میدان میں عورت کے کردار پر روشنی ڈالیں تو ہماری حکومت نے طلباءو طالبات کو لوڈشیڈنگ سے محفوظ رکھنے کے لئے چیف منسٹر اجالا پروگرام کے تحت 2لاکھ سے زائد سولر ہوم سسٹم میرت کی بنیاد پر تقسیم کئے۔یہ انقلاب آفرین منصوبہ ہے۔اگر عورت کو نرس اور ڈاکٹر کے کردار کے حوالے سے بیان کیا جائے تو حکومت لیول پر بیماریوں سے بچاﺅ کے لئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کردار ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ان لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمات EPT،فیملی پلاننگ زچہ بچہ کی صحت سے متعلقہ امور اور پولیو مہم وغیرہ شامل ہیں۔ یہ شعبہ صحت کا وہ تربیت یافتہ طبقہ ہے ،جس کی رسائی عوام تک ہوتی ہے، مزید براں، حکومت پنجاب Punjab Reproductive` Maternal, New Born and child health Authority تشکیل دینے کے لئے بھی قانون سازی کررہی ہے۔یہ اتھارٹی بنیادی طور پر لیڈی ہیلتھ ورکرز کے لئے ہے۔

حکومت پنجاب نے خواتین کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے گزشتہ دور حکومت کی طرح آئندہ مالی سال میں بھی عملی اقدامات کے حوالے سے خواتین کو سراہا۔آئندہ مال سال 2013-14ءکے بجٹ میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے مختلف منصوبہ جات کا آغاز کیا۔اس میں بے آسرا خواتین کے لئے دارالامان اور پنجاب کی تمام تحصیلوں میں ورکنگ ویمن کے لئے ہوسٹلز کے قیام کا بندوبست کیاجائے گا۔اس کے علاوہ خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے ایک ارب روپے کی اضافی رقم بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کی گئی۔

برعکس اس کے کہ اگر گھریلو خواتین کے کردار پر روشنی ڈالی جائے تو اس پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گھر کا کام کاج، بچوں کی دیکھ بھال، اپنے شوہر کی خدمت نیز گھر والوں کا خیال رکھنے کا فریضہ سرانجام دینے میں شگڑ خاتون ہونے کا نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔اگر ورکنگ ویمن کی بات کی جائے تو آج کے اس ترقی یافتہ دور میں میڈیا سے متعلقہ شعبہ اشتہارات کی بات کی جائے تو اس میں آج کی عورت نے خوب ترقی کی ،جیسے ٹی وی پر آنے والے اشتہار میں خوبصورت انداز کے ساتھ نوجوان لڑکیوں نے مختلف Productمیں کام کرتے ہوئے اسے فروغ دیا۔مزید اسی طرح زندگی کے ہر شعبہ میں عورت نے ترقی حاصل کرتے ہوئے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ٭

مزید :

کالم -