قابل ِ قبول فارمولا....!

قابل ِ قبول فارمولا....!
قابل ِ قبول فارمولا....!
کیپشن: pic

  

ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنا پانچ نکاتی فارمولا پیش کر دیا ہے، جس میں دو نکات بڑے اہم ہیں کہ چیف منسٹر پنجاب میاں شہباز شریف استعفا دیں اور سانحہ ¿ ماڈل ٹاﺅن کی تحقیقات ہائی کور ٹ کی بجائے سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کرے۔ یہ پانچ نکاتی فارمولا منہاج القرآن میں منعقد ہونے والی اے پی سی میں پیش کیا گیا، جس میں مسلم لیگ(ق) بھی تھی، عوامی مسلم لیگ بھی، وحدت المسلمین بھی۔ کچھ اور چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی تھیں، جن کا شمار نہ تین میں ہوتا ہے نہ تیرہ میں۔ ویسے تو عوامی مسلم لیگ بھی ایک ایسی ہی جماعت ہے، جو صرف ایک شخص کے گرد گھومتی ہے۔ رہی مسلم لیگ(ق) تو وہ 2013ءکے الیکشن میں ایسی پٹی کہ صرف اپنا وجود ہی برقرار رکھ سکی۔ چودھری برادران کے لئے شاید یہی غنیمت ہے کہ وہ اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ورنہ اُن کا جو حال اس الیکشن میں ہوا، اُن کا نام بھی نہ ہوتا داستانوں میں اور وہ اب تک قصہ¿ پارینہ بن چکے ہوتے۔

اسی اے پی سی میں، جس میں کافی لیڈر سوئے رہے، ڈاکٹر طاہر القادری کا فارمولا پیش ہوا، جن جماعتوں نے اس اے پی سی میں شرکت کی، اُن کا کہنا ہے کہ اس میں ڈاکٹر طاہر القادری کا رول ایک ہیڈ ماسٹر کا تھا۔ کسی اور ماسٹر کو اُن کی موجودگی میں نہ کچھ کہنے کی ہمت ہوئی ، نہ جرا¿ت۔ ڈاکٹر طاہر القادری ہی اے پی سی پر چھائے رہے، ویسے بھی جب ڈاکٹر صاحب بولیں تو اُن کے زورِ خطابت کے آگے کون بول سکتا ہے۔ کسی میں ہمت ہی نہیں کہ ذرا سی بھی لب کشائی کر سکے۔ اگرچہ باقی لیڈر بھی اپنے آپ کو ہیڈ ماسٹر ہی سمجھتے ہیں، لیکن طاہر القادری نے اپنے رعب و دبدبے سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اُن سے سینئر اور زیادہ زیرک ہیں۔ خیر، ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے، یہ اُن کا بالکل ذاتی اور داخلی معاملہ ہے، لیکن اے پی سی میں جو مطالبات پیش کئے گئے ہیں، اُن کا ہمیں قانونی اور اخلاقی طور پر ضرور جائزہ لینا چاہئے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کس مطالبے پر کس حد تک عمل ہو سکتا ہے؟ اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آپ جو کہیں، یا جو بھی مطالبہ پیش کریں، اُس پر من و عن عمل ہو۔ جمہوری ملکوں میں ہر چیز کا اپنا طریقہ ¿ کار ہے۔ احتجاج، جلسے، جلوس اور ریلیاں، جمہوریت کا حُسن ہیں، لیکن اسے نہ تو حد سے تجاوز کرنا چاہئے، نہ ہی اسے قانون کے دائرے سے باہر نکلنا چاہئے۔

اب رہا میاں شہباز شریف کے استعفے کا سوال یا مطالبہ، تو یہ سوال یا مطالبہ انتہائی غیر منطقی ہے۔ اگر ڈاکٹر طاہر القادری عدلیہ پر غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں اور خود سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن سے واقعہ کی انکوائری کرانا چاہتے ہیں تو انہیں یقین کر لینا چاہئے کہ ایسے جوڈیشل کمیشن پر، جس کا مطالبہ خود اُن کی طرف سے کیا گیا ہے، میاں شہباز شریف بحیثیت وزیراعلیٰ کسی طرح بھی اثرانداز نہیں ہو سکتے، اس لئے شہباز شریف کے استعفے کا مطالبہ بے معنی ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو کوئی ایسی بات ہی نہیں کرنی چاہئے، جس سے کسی عداوت یا بُغض کی بُو آتی ہو۔

ڈاکٹر صاحب جس مقام پر اور عالم دین جیسے بڑے رتبے پر فائز ہیں ،انہیں کم از کم اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہئے کہ وہ اپنے منہ سے ایسی کوئی بات نہ نکالیں جو وجہ¿ بحث بنتی ہویا جس کے باعث اُن پر انگلیاں اُٹھیں۔ اگر وہ دوسروں کے گھرمیں پتھر پھینکیں گے تو لازمی امر ہے کہ اُن کے گھر میں بھی پتھر آئے گا۔ روایتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ شاید ہماری بھی یہ معاشرتی روایت رہی ہے کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے ہی دیتے ہیں، اس لئے مطالبات کی جو بھی فہرست بنے یا بنائی جائے وہ نہ صرف منطق کے قریب ہو، بلکہ عقل بھی اُسے پوری طرح سے تسلیم کرے۔مطالبات پیش کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، لیکن اُن کی اے پی سی میں جن جماعتوں نے شرکت کی، اُن کا عوام میں سیاسی قد یا وجود کیا ہے، اس کا ہم بخوبی اندازہ رکھتے ہیں۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ سانحہ¿ ماڈل ٹاﺅن کو ایک واقعہ کے طور پر نہیں، سکینڈل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یقینا یہ افسوس ناک واقعہ تھا، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس کے ذمہ داران کو ضرور سزا ملنی چاہئے، لیکن یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس کی آڑ میں کوئی اپنے سیاسی مقاصد پورے کرنے کا جتن یا کوشش نہ کرے۔ ابھی تک تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ اقتدار سے محروم لوگ یا جماعتیں ایک نکالی ایجنڈے پر اکٹھا ہو گئی ہیں کہ کسی بھی طرح نواز شریف کے اقتدار کو ختم کیا جائے، مگر کیسے؟ یہ بہت بڑا سوال ہے۔

قومی اسمبلی میں نواز شریف کی اکثریت ہے۔ عوام نے انہیں پانچ سال کے لئے اقتدار کا مینڈیٹ دیا ہے، جس میں سے ایک سال گزر چکا ہے، چار سال باقی ہیں۔ اس مینڈیٹ کو ختم کرنا ہے تو اسمبلی کے اندر سے تبدیلی کے عمل کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ احسن اور قانونی طریقہ ہے، جو جمہوری ملکوں میں رائج ہے اور جس کی مرہونِ منت جمہوری حکومتیں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں رہ جاتا جس پر عمل کر کے کسی کے اقتدار کا سورج غروب کیا جا سکے۔ رہی فوج کے آنے کی بات تو یہ قصّہ اب تمام ہو چکا۔ اب کوئی ایسا امکان نہیں کہ فوج ایک بار پھر سرکشی کرے۔ اب نہ تو ملک ہی کسی مارشل لاءکا متحمل ہو سکتا ہے اور نہ کسی میں یہ جرا¿ت ہو سکتی ہے کہ وہ فوجی ڈکٹیٹر کے روپ میں سامنے آئے، اس لئے تمام محب وطن سیاست دانوں کو اپنی اپنی ڈفلی بجانے کی بجائے ملک و قوم کی بقاءکے لئے سوچنا چاہئے۔ یہی فارمولا اب قوم کو قابل ِ قبول ہو گا، کوئی اور نہیں۔  ٭

مزید :

کالم -