قومی یکجہتی کی اہمیت

قومی یکجہتی کی اہمیت
قومی یکجہتی کی اہمیت

  



وطن عزیز اس وقت تاریخ کے بہت ہی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ قیام پاکستان کے وقت قوم نے جس حب الوطنی اور اسلامی بھائی چارے کا مظاہرہ کیا اور تمام تر مشکلات کے باوجود دنیا کے نقشے پر ایک عظیم الشان اسلامی مملکت کے قیام کے لئے بے مثال قربانیاں دیں، آج کے حالات بھی اسی حب الوطنی اور بھائی چارے کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس وقت ملک دشمن عناصر وطن عزیز کو غیر مستحکم کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں۔ قومی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق ہی وہ ہتھیار ہے، جس کے ذریعے ہم دشمن کی چالوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ جہاںتک حکومت وقت کا سوال ہے، موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو اس کے سامنے مسائل کا انبار تھا۔ حکومت ان مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ حکومت کو وقت دیا جائے، کیونکہ پاکستان کے عوام نے حکومت کو پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے۔ ہر حکومت اس کے مطابق اپنے منصوبے بناتی ہے۔ ویسے بھی ایک سال بعد حکومت گرانے کی باتیں کرنا دنیا کو تماشہ دکھانے کے مترادف ہے۔ حکومت وقت نے اقتدار سنبھالتے ہی دہشت گردی کے خاتمے، امن و امان کی بحالی، توانائی بحران کے خاتمے اور معیشت کی بحالی جیسے وعدوں کی تکمیل کو سرفہرست رکھا۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لئے حکومت نے شروع دن سے ہی مفاہمت کا راستہ اپناتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی پوری کوشش کی، لیکن وطن دشمن قوتوں نے طرح طرح کے روڑے اٹکائے اور آخر کار حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن پر مجبور ہونا پڑا، لہٰذا حکومت نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر آپریشن کا آغاز کر دیا، جوانشا اللہ کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔ قومی معیشت کی بحالی کے سلسلے میں حکومت نے بہت سے اقدامات کئے، جن کی وجہ سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور پاکستانی روپے کی قدر میں واضح بہتری آئی۔ ملکی اور بین الاقوامی حلقوں نے بھی حکومتی اقدامات کو سراہا۔ توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے چین سمیت دیگر ممالک سے معاہدے کئے گئے، جن میں نندی پور پاور پراجیکٹ، گدو پاور پلانٹ کی توسیع، داسو پاور پراجیکٹ اور بھاشا ڈیم کے منصوبے شامل ہیں۔ نندی پاور پراجیکٹ سے پیداواری عمل شروع ہو گیا ہے۔

داسو ڈیم کے لئے بھی عالمی بینک نے قرضے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم نے اس عظیم منصوبے کا افتتاح کر دیا ہے۔ امید ہے کہ اس پر کام کا آغاز جلد کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کوئلے اور شمسی توانائی سے بھی بجلی حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دیگر منصوبوں کے لئے موجودہ بجٹ میں رقم مختص کر دی گئی ہے، لہٰذا امید کی جاتی ہے کہ اگر اِسی رفتار سے کام جاری رہا، تو اگلے دو سے تین سال بعد لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ ملک کے طول و غرض میں انفراسٹرکچر کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جن میں لاہور، کراچی موٹروے، گوادر کراچی ہائی وے، اسلام آباد تا مظفر آباد ریلوے لائن قابل ذکر ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے قومی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کے لئے خود روزگار سکیم کے تحت قرضے دیئے جا رہے ہیں، جس سے بیروزگاری کم کرنے میں مدد ملے گی۔ غریب اور ہونہار طلباءکی فیسوں کی ادائیگی بھی حکومت ِ وقت کا قابل ستائش قدم ہے۔ انتخابی اصلاحات کے سلسلے میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہاہے، جس کی سفارشات کی روشنی میں آئندہ کے لئے شفاف الیکشن کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا۔

مذکورہ بالا اقدامات کی حقیقی کامیابی کے لئے ملک میں سیاسی استحکام کا ہونا اولین شرط ہے، لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں کو وسیع تر ملکی مفاد کو اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دینی چاہئے۔ مثبت تنقید اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں کا حق ہے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ مخالفت برائے مخالفت ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ مثبت تنقید سے اداروں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ سیاست دانوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپس میں دست وگریبان ہونے کی بجائے وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے وسیع تر قومی مفاد کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ اتحاد و اتفاق کا دامن ہر صورت تھامے رکھنا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ تاریخ گواہ کہ جب تک مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق رہا، کامیابی و کامرانی نے ان کے قدم چومے، لیکن جونہی ان میں تفرقہ پڑا، انہیں نقصان اٹھانا پڑا، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب حکومت وقت پر اعتماد کریں اور انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ حکومت کو وقت دیا جائے اور وطن دشمن عناصر کی سازشوں کے خلاف پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن جائے۔ ٭

مزید : کالم