پاکستان طبی کانفرنس کے وفد کی گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے ملاقات

پاکستان طبی کانفرنس کے وفد کی گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے ملاقات

  

لاہور (پ ر) پاکستان طبی کانفرنس لاہور کے ایک وفد نے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے گورنر ہاﺅس لاہور میںملاقات کی- وفد میں پروفیسر حکیم محمداعجاز فاروقی،پروفیسر حکیم ارشد جمیل خاں فارانی،حکیم محمداحمد سلیمی،حکیم محمد جاوید رسول ،حکیم عطاءالرحمان صدیقی ،حکیم احمد حسن نوری ،حکیم سید عمران فیاض ،طبیبہ صدف (BEMS)،طبیبہ سمیعہ (BEMS) اور ڈاکٹر سکندر حیات زاہد شامل تھے - وفد نے گورنر کو پاکستان میں طب کی صورتحال اور انہیں طب اور طبیب کے مسائل سے آگاہ کیا- اس موقع پرجنرل سیکرٹری پاکستان طبی کانفرنس لاہور ڈویژن حکیم محمد احمد سلیمی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ طب کی اہمیت تو سب تسلیم کرتے ہیں جو بھی حکومت آتی ہے وہ طب یونانی کو ایک اہم شعبہ قرار دیتی ہے - انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق بھی پاکستان کی 70 فی صد یعنی 14 کروڑ آبادی طب یونانی اور روایتی طریقہ علاج سے استفادہ کرتی ہے مگر طب اور اطباءکو پاکستان میں حاصل سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں- انہوںنے گورنر صاحب سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں طب یونانی کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ یونانی ریسرچ سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے ۔

- جس میں قدرتی ادویات پر ریسرچ ہو، تا کہ اپنے ہی ملک میں خود رو اگنے والی جڑی بوٹیوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے- اس طرح قدرتی جڑی بوٹیوں کو استعمال میں لاکر ملک کا کثیر زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے - سرکاری ملازمتوں پر تعینات حکیموں کا سروس سٹرکچر فی الفور منظور کیا جائے - سروس سٹرکچر کا مسودہ پنجاب ہیلتھ ریفارمز پروگرام کی جانب سے تیار کرکے دے دیا گیا ہے - جو برائے منظوری ایک عرصہ سے سیکرٹری کی میز پر ہے - طب یونانی کی سرکاری ڈسپنسریوں میں ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ، اور یونانی ڈسپنسریوں کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے - سرکاری سطح پر طب کی تعلیم کے لیے طبی تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے - جس میں ڈپلومہ اور ڈگری لیول کی تعلیم دی جائے - ایسے دور دراز علاقے جہاں ڈاکٹر جانا پسند نہیں کرتے حکیم اپنے ملک وقوم کی خدمت کو اپنا فرض اور فخر سمجھتے ہیں - لہذا ایسے بنیادی صحت کے مراکز میں حکیموں کو تعینات کیا جائے - تاکہ صحت سب کے لیے کے نعرہ کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے - پنجاب ہیلتھ فاﺅنڈیشن کی جانب سے حکیموں کو مطب کلینک کھولنے کے لیے بلا سود قرضوں کی فراہمی کی جائے - انہوںنے مزید کہا کہ پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کی مختلف کمیٹیوں اور ایڈوائزری بورڈ میں حکیموں کو نمائندگی دی جائے نیز صوبائی ضلعی کوالٹی کنٹرول بورڈز میں حکیموں کی تعیناتی کی جائے - انہوں نے مزید کہا کہ حکیموں کے کلینکس کو چیک کرنے کے لیے حکیم انسپکٹرز کا تقرر کیا جائے - تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرتحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں نیز رورل ہیلتھ سینٹرز میں اطباءکو تعینات کیا جائے-گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے پاکستان طبی کانفرنس کے وفد کے مطالبات بڑی توجہ سے سماعت کیے اور انہیں حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دھانی کرائی- انہوں نے کہا کہ طب یونانی ایک اہم شعبہ ہے یقینا اطباءکو نمائندگی اور یکساں مراعات حاصل ہونی چاہیں انہوں نے کہا کہ میں اس کے لیے اپنی پوری کوشش کروں گا- اس موقع پر پروفیسر حکیم ارشد جمیل خاں فارانی نے بڑے خوبصورت اشعار بھی پیش کیے جنہیں گورنر صاحب نے بڑا پسند کیا-

 

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -