فوجی کی نماز جنازہ سے انکار ‘تیونسی امام امامت سے فارغ

فوجی کی نماز جنازہ سے انکار ‘تیونسی امام امامت سے فارغ
فوجی کی نماز جنازہ سے انکار ‘تیونسی امام امامت سے فارغ

  

تیونس(نیٹ نیوز) تیونس میں ایک مسجد کے امام اور عالم دین کو بارودی سرنگ کے حملے میں ہلاک ہونے والے فوجی اہلکار کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مغربی تیونس میں الکاف صوبے میں بارودی سرنگ پھٹنےسے کم سے کم چار سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ ان میں سے ایک کی نماز جنازہ دارالحکومت تیونسیہ میں پڑھائی جانا تھی جہاں ایک عالم دین کو نماز جنازہ کی امامت کے لیے کہا گیا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔مذہبی رہ نما کی جانب سے فوجی اہلکار کی نماز جنازہ کی امامت سے انکار پر تیونس کے سماجی اور سیاسی حلقوں میں سخت غم وغصہ کی فضاءپائی جا رہی ہے۔تیونس کے سیاسی تجزیہ نگار عادل الشاوش نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے گفتگو کرتے ہوئے بارودی سرنگ حملے میں مارے جانے والے فوجی اہلکار کی نماز جنازہ کی امامت سے انکار کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت ملک کی بڑی جامع مساجد کو شدت پسندوں کے چنگل سے آزاد کرانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔فوجی اہلکار کی نماز جنازہ سے انکاری 'مولانا صاحب' کا تعلق بھی انہی شدت پسندوں کے ساتھ ہے جو ایک طرف اپنی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں اور دوسری جانب عراق اور شام میں بغاوت کے لیے جنگجو بھرتی کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق تیونسی عالم دین کی جانب سے مقتول فوجی کی نماز جنازہ سے انکار کے بعد ان کے خلاف سوشل میڈیا پربھی تند و تیز مہم جاری ہے۔

 سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ فوجیوں کی نماز جنازہ سے انکاری حضرات کا تعلق اسلام پسند مذہبی سیاسی جماعت تحریک النہضہ کے ساتھ ہے۔ حکومت ایک جانب مساجد کو انتہا پسند عناصر سے پاک کرنے کے اعلانات کرتی ہے اور دوسری جانب حالت یہ ہے کہ دارالحکومت کی ایک جامع مسجد کا امام ملک کے لیے جان دینے والے سپاہی کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیتا ہے۔ادھر تیونسی وزارت مذہبی امور کی جانب سے جاری ایک بیان میں یہ کہہ کر عوامی غم وغصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ فوجی کی نماز جنازہ سے انکاری امام کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام نے چھان بین کے بعد تصدیق کی ہے کی تیونس کی ایک جامع مسجد کے امام نے بارودی سرنگ پھٹنے سے مارے جانے والے فوجی اہلکار کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔خیال رہے کہ تیونس میں تکفیری نظریات کے حامل اسلامی شدت پسند گروپوں کی جانب سے سرکاری فوجیوں کے لیے"طاغوت کے آلہ کار" کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ مذہبی شدت پسند اور ان سے متاثرہ علمائ بھی فوج کے بارے میں اسی طرح کے خیالات رکھتے ہیں۔ فوجی اہلکار کی نماز جنازہ سے انکار اس کی تازہ مثال ہے۔

مزید :

عالمی منظر -