ملک بھر میںبجلی و گیس کے بحران اور دیگر معاشی مسائل کا سامنا ہے‘لاہور چیمبر

ملک بھر میںبجلی و گیس کے بحران اور دیگر معاشی مسائل کا سامنا ہے‘لاہور چیمبر

  

لاہور(کامرس رپورٹر)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے ایس آر او 608(I)/2014فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھاری سمگلنگ اور انڈرانوائسنگ کی موجودگی میں یہ ایس آر معاملات مزید خراب کرے گااور حکومت کے لیے مطلوبہ معاشی نتائج کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے کہا کہ اس وقت جب ملک کو بجلی و گیس کے بحران اور دیگر معاشی مسائل کا سامنا ہے، ایس آر او 608(I)/2014جیسے نئے ٹیکسیشن اقدامات حکومت کی ساکھ کو متاثر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ٹیکسیشن اقدامات اٹھانے سے قبل حکومت کو سمگلنگ اور انڈرانوائسنگ کے ناسور کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ انجینئر سہیل لاشاری نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان کو نچوڑا جارہا ہے جو بہت تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے قیام کا مقصد صنعت و تجارت کو سہولیات مہیا کرنا تھا لیکن یہ پیسہ بنانے والی مشین بن چکی ہے ، ارباب اختیار کو نہ تو زمینی حقائق کا ادراک ہے اور اور نہ ہی وہ تاجر برادری کو درپیش مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں صنعت و تجارت کو ریلیف پیکیج کی ضرورت ہے مگر اس کے بجائے ایس آر او 608(I)/2014جیسے اقدامات اٹھاکر مزید مسائل پیدا کیے جارہے ہیں۔

 یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس سسٹم کی ٹریکنگ اور مانیٹری کا بوجھ کاروباری برادری پر منتقل کرناچاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری یہ اچھی طرح سمجھتا ہے کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانا وقت کی ضرورت ہے لیکن یہ تاجروں کے مسائل میں کمی لاکر ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اگر ایس آر اوز کے ذریعے دستاویزی معیشت کو فروغ دینا چاہتا ہے تو لاہور چیمبر اس کی حمایت نہیں کرے گاکیونکہ یہ چاہتا ہے کہ ٹیکس نیٹ سے باہر شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور پروفیشنل ٹیکس کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر کاروباری برادری کی مشاورت کے بغیر نئے ایس آر اوز متعارف کرانے سے گریز کرے اور ایس آر او 608(I)/2014ءفوری طور پر واپس لے۔

مزید :

کامرس -