جماعت اسلامی لاہور کی دعوت افطار: میاں مقصود کا شکوہ!

جماعت اسلامی لاہور کی دعوت افطار: میاں مقصود کا شکوہ!
جماعت اسلامی لاہور کی دعوت افطار: میاں مقصود کا شکوہ!
کیپشن: pic

  

پہلا پتھر تو بہرحال ہمارے ساتھی میاں اشفاق انجم نے ہی مارا۔رمضان المبارک شروع ہونے سے کئی روز قبل خبردار کردیا کہ پہلا روزہ ان کی رہائش پر افطار کرنا ہوگا۔ہم بوجوہ پُرہجوم دعوتوں سے گریز کرتے ہیں کہ بہت سست ہیں اور دور جدید بہت تیز رفتار، ساتھ دینا مشکل ہوتا ہے، اس لئے عموماً فاقہ ہی رہتا ہے، شادیوں پر جانا مجبوری ہو تو کھانا گھر سے کھا کر جانا ہوتا ہے اور وہاں تکلفاً میٹھے سے شغل ہوجاتا ہے، ہم یوں بھی آہستہ کھانے والوں میں ہیں اور دعوت میں پھاڈی رہ جاتے ہیں، تاہم میاں اشفاق انجم کی دعوت رد نہیں کی جا سکتی تھی، اللہ کا نام لے کر اپنے چودھری انوار کے ساتھ افطار پارٹی میں پہنچ گئے تو بہتر انتظام دیکھ کر حیرت ہوئی، جنریٹر سے برقی روکا اہتمام کیا گیا تو ڈیزرٹ کولر کے علاوہ پنکھے لگا کر گرمی کا توڑ کرنے کی کوشش بھی کی گئی تھی، یوں مہمان آئے تو پریشانی نہیں تھی۔اس کے بعد افطار کے لئے بھی اچھا اہتمام تھا، کسی کو شکایت کی گنجائش نہیں تھی، یہی صورت حال نماز مغرب کے بعد کھانے کی تھی جو خود پکوایا گیا تھا، ہمارے لئے یہ غنیمت تھا اور ہم نے حصہ بقدر جثہ کے مطابق ہی لیا، اگرچہ ہر ڈش لذیذ اور وافر تھی۔

میاں اشفاق انجم ہی نے دو روز بعد پیغام دیا کہ امیر جماعت اسلامی لاہور میاں مقصود صاحب نے مدعو کیا ہے اور جمعہ کو افطار ان کی طرف سے ٹمپل روڈ کے ایک بینکوئٹ ہال میں ہے، تردد تھا، کئی بار دریافت کیا کہ ہجوم عاشقاں والا معاملہ تو نہیں، اطمینان دلایا گیا اور پھر جماعت کا تحریری دعوت نامہ بھی دیکھا تو معلوم ہوا کہ افطار میڈیا کے حضرات کے اعزاز میں ہے اور لوگ تو ہوں گے، لیکن ہجوم نہیں ہوگا۔میاں اشفاق انجم کی معیت میں حاجی اجمل اور محمد سرورکے ساتھ پہنچے تو ضلعی سیکرٹری اطلاعات عبدالعزیز خالد نے بڑے تپاک سے خوش آمدید کہا، ہال میں داخل ہوئے تو مزید اطمینان ہوا کہ انتظام اچھا تھا اور مہمانوں کی آمد ذرا سست تھی اور یہ سبھی صحافی تھے، جماعت کے عہدیدار اور کارکن اپنی روائت کے مطابق سب کو پورا احترام دے رہے تھے اور سبھی مطمئن تھے یہاں افتخار مجاز اور خواجہ فرخ سعید کے علاوہ بھاطفیل سے بھی ملاقات ہوگئی اور یہ تقریب بہر ملاقات بھی ثابت ہوئی۔جب میاں مقصود کی آمد میں کچھ دیر ہوئی تو خیال آیا کہ شاید یہ دعوت کسی تقریر کے بغیر ہو اور مشقت سے بچ جائیں، لیکن جماعت اسلامی جتنی بھی صالحین کی جماعت ہے، مگر سیاسی تو ہے، یوں یہ افطار بھی تقریر کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

عبدالعزیز خالد کی نقابت میں تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول کے بعد وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے دعوت کلام براہ راست میاں مقصود احمد ہی کو دے دی گئی، میاں خود ایک دیندار پرہیز گار شخص ہیں اور دور جدید میں ان کی بھی کیفیت پاکستان کی پہلی نسل والی ہی ہے، چنانچہ جب انہوں نے تقریر شروع کی تو یہ جلد ہی وعظ کی شکل اختیار کر گئی۔میاں مقصود اپنے انداز میں شکوہ کناں تھے اور ان کو دور جدید اور اس کے مواصلاتی آلات سے زبردست شکائت تھی، ان کے مطابق ہم نہ صرف مسلمان بلکہ مشرقی لوگ ہیں لیکن ہماری معاشرتی اور سماجی اقدار میں زبردست تبدیلی آ گئی ہے، جہاں کا معاشرہ ”مشترکہ خاندان“ کے رواج سے بہت پہلے دور ہو چکا اور وہاں مرد وزن، میاں بیوی اور نوجوان طبقے کو اپنی مصروفیات سے غرض ہے، حتیٰ کہ میاں بیوی کی ملاقات کو ہفتوں کیا مہینوں گزر جاتے ہیں۔

وہ کہہ رہے تھے کہ مغربی معاشرے کی یہ باتیں سن کر افسوس ہوتا اور پھر جب بیرونِ ملک جانے کا موقع ملا تو آنکھوں دیکھ کر توبہ کرنا پڑی، لیکن آج ہمارا اپنا معاشرہ اور سماجی روایات مغرب کی اس بھونڈی رسم پر استوار ہوگیا ہے۔جدید آلات مواصلات نے فائدہ کی بجائے نقصان پہنچایا ہے اور اب پاکستان میں بھی موبائل کلچر عام ہوگیا اور ٹیلی ویژن کے بے ہودہ پروگراموں کی وجہ سے اقدار تبدیل ہوگئیں، مشترکہ خاندانی تصور یہاں بھی پارہ پارہ ہو گیا یا ہو رہا ہے اور اب سارے خاندان کا ایک جگہ مل بیٹھ کر کھانا اور تبادلہ خیال بھی نہیں ہو پاتا، میاں بیوی اور بچوں کے بیڈ روم الگ الگ ہیں اور براہ راست بات چیت کی نسبت موبائل پر ہیلو ہائے ہوتی ہے۔

میاں مقصود کی معاشرے کے بارے میں یہ درد مندی اچھی لگی کہ واقعی حالات اسی نہج پر ہیں، پھر وہ اسلامی ممالک کا نقشہ بتانے لگے۔عراق، شام، لیبیا اور مصر کا ذکر کیا، جہاں لوگ دست و گریباں ہیں، یہاں انہوں نے تمام تر حالات کی ذمہ داری اغیار پر ڈالی اور امریکہ سمیت بڑے مغربی ممالک کو مطعون کیا جو اسلامی ممالک میں ایسے حالات پیدا کررہے ہیں، انہوں نے پاکستان کے موجودہ حالات پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ اقدار تبدیل ہو گئی ہیں تو ان کی اصلاح کے لئے کچھ نہیں کیا گیا، انہوں نے دکھ کا اظہار کیا کہ آج کلمہ گوہی کلمہ گو سے نبردآزما ہے اور مسلمانوں پر سخت وقت آیا ہوا ہے۔

جماعت اسلامی بلاشبہ ایک منظم نظریاتی جماعت ہے، جس پر بنیاد پرستی کے الزامات بھی ہیں،حالانکہ عملی شکل ذرا مختلف ہے کہ اس جماعت میں مسلکی تنازعہ یا اختلاف کی کوئی صورت نہیں کہ اہل حدیث، اہل سنت(بریلوی) اور اہل سنت (دیو بندی) بھی جماعت میں ہیں، لیکن یہاں مسلک کا کوئی جھگڑا نہیں۔

امیر جماعت اسلامی کی گفتگو واقعی پر مغز اور دردمندی پر مبنی تھی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ خود پاکستان کے اندر مسلمان ہی مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے اور ایسی ہی صورت حال اب عراق اور شام میں ہے، جبکہ مصرمیں انتخابی عمل کے ذریعے آنے والے انقلاب کے لئے آگے آنے والوں کا فوج نے حشر کر دیا ہے، پاکستان دہشت گردی کا بہت بڑا نشانہ ہے اور دہشت گردی اپنا رنگ دکھا رہی ہے، اربوں روپے کا نقصان ہوا اور قیمتی جانیں مسلسل ضائع ہو رہی ہیں، ایسے میں یہ گفتگو وعظ کی حد تک تو بڑی دلپذیر ہے، لیکن اسی گفتگو سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ اغیار کا کیا ہوا تو نہیں ،ہم نے خود ہی یہ حالات پیدا کئے ہیں، آج مسلک مذہب بن چکے، شام اور عراق میں بھی مسلک ہی کی وجہ سے خانہ جنگی کی کیفیت ہے۔اللہ نے مہربانی کی تو کراچی تک پاکستان مسلکی تنازعہ سے بچا ہوا ہے،تاہم یہ بات کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ یہ سب کس نے کیا، الزام تو اغیار پر لگایا گیا، لیکن خود ہم نے جو کیا وہی سب سامنے ہے، بزرگوں نے مسائل پر اختلاف کیا تو اس کی بنیاد نیک نیتی اور سچ تھی سب ایک دوسرے ہی کا نہیں ایک دوسرے کی رائے کا بھی احترام کرتے تھے، لیکن آج برداشت کا مادہ ہی ختم ہوگیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ناقص ہے، اس فیکٹری سے تو ممی ڈیڈی نسل ہی برآمد ہوگی، مسلمان کہاں سے آئیں گے۔آج عراق اور شام میں اگر خانہ جنگی ہے تو مسلک ہی کے نام پر ہے، کوئی بھی ڈائیلاگ کی طرف نہیں آتا اور پھر معاشرتی طور پر خود پاکستان کے اندر بھی تو مکالمہ ختم ہو گیا اور ہر کوئی اپنے موقف کو لئے بیٹھا ہے ، جسے دوسرے کی رائے کا احترام کرکے اپنی بات گوش گزار کرنی چاہیے۔میاں مقصود احمد سے معذرت کہ یہ ڈائیلاگ کا سلسلہ بہت پہلے ترک کیا گیا، اب تو کوئی دوسرے کو برداشت نہیں کرتا۔ہمارے نزدیک جماعت اسلامی کو اس موضوع پر متفق کرنا چاہیے، پھر بات چیت بھی کھلی ہونا چاہیے، برداشت بھی ہو،کوئی کسی کو نظریہ تبدیل کرنے کے لئے نہ کہیں، اگر آج بھی یہ سلسلہ شروع کیا جائے تو معاشرے میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

مزید :

کالم -