مہنگائی اور سلطانہ ڈاکو

مہنگائی اور سلطانہ ڈاکو
مہنگائی اور سلطانہ ڈاکو
کیپشن: pic

  

90 سال قبل 1924ءمیں سلطانہ ڈاکو کو پھانسی دے دی گئی تھی، مگر وہ آج بھی بے شمار گیتوں، کہانیوں، ناولوں اور فلموں میں زندہ ہے۔ وہ ایک ڈاکو تھا، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ عورتوں کی عصمت دری کرتا تھا اور انہیں بے دریغ قتل بھی کردیتا تھا۔ وہ دن دہاڑے ٹرینیں لوٹتا تھا۔ بڑے بڑے طاقتور لوگوں کے گھروں پر ڈاکے ڈالتا تھا۔ اس نے سرکاری خزانہ لوٹ کر برطانوی حکومت کو ہلاکر رکھ دیا، مگر سلطانہ ڈاکو لوک کہانیوں کا ہیرو ہے۔ وہ امیروں کو لوٹتا تھا اور غریبوں میں تقسیم کر دیتا تھا۔ ایسا ہی ہیرو ہمیں ”رابن ہڈ“ کے نام سے انگریزی لٹریچر میں بھی ملتا ہے۔ سلطانہ ڈاکو کی دریا دلی اور سخاوت نے اسے اپنے دور کا ہیرو بنا دیا تھا۔ اسے گرفتار کرنے والا پولیس افسر فریڈلی ینگ بھی اس سے متاثر تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ سلطانہ ڈاکو کو تختہ دار پر نہ لٹکایا جائے۔ اس سلسلے میں وہ رحم کی اپیل لے کر دہلی بھی گیاتھا۔ اس نے جیل میں سلطانہ ڈاکو سے ملاقات کی اور اس سے آخری خواہش دریافت کی تو سلطانہ نے کہا کہ اس کے بیٹے کی صاحب کی طرح پرورش کی جائے۔ اس افسر نے سلطانہ ڈاکو کی آخری خواہش کی تکمیل میں اس کے بیٹے کوبرطانیہ میں تعلیم دلائی۔آج نہ تو فریڈلی جیسے پولیس افسر ملتے ہیں جو ایک ڈاکو کے بیٹے کو معزز شہری بنانے کے لئے اسے تعلیم دلوانے کی مشقت کریں اور نہ ہی سلطانہ ڈاکو ملتے ہیں، جو ڈاکے صرف اس لئے ڈالیں کہ، مال کو غریبوں میں تقسیم کریں، تاہم آپ کی آج بھی ایسے بے شمار سلطانہ ڈاکوﺅں سے ملاقات ہو سکتی ہے جو ملاوٹ، بددیانتی، ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مال اکٹھا کرتے ہیں، پھر اس کا ایک حصہ فلاحی کاموں میں خرچ کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگ آپ کو مساجد کی تعمیر جیسے کار خیر میں حصہ لیتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یتیم خانوں اور رفاہی اداروں میں ان کا نام ادب سے لیا جاتا ہے۔ ایسے کچھ لوگ مساجد کی تعمیر پر بھی زرکثیر خرچ کرتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کے وہ سلطانہ ڈاکو ہیں، جن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی وجہ سے ہی کرپشن اور بددیانتی پر قابو پانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے مہنگائی کے جن کو اتنا طاقتور کر دیا ہے کہ وہ کسی کے قابو میں نہیں آتا۔ سلطانہ ڈاکو کا انداز ہماری جبلت کا حصہ بن چکا ہے۔

چند سال قبل ورجینیا یونیورسٹی میں ایک تجربہ کیا گیا تھا، جس میں کچھ چوہوں کو معمول کے مطابق خوراک دی گئی، جبکہ چوہوں کے ایک گروپ کو کم خوراک دی گئی، انہیں خوراک کے متعلق ایک بے یقینی کی کیفیت میں رکھا گیا۔ ریسرچ کرنے والوں نے مشاہدہ کیا کہ جن چوہوں کو نارمل خوراک دی گئی، ان کے رویے میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی تاہم جن چوہوں کو کم اور بے یقینی کی کیفیت میں خوراک دی گئی تھی، ان کی تیسری نسل میں خوراک کو ذخیرہ کرنے کی عادت پیدا ہو گئی اور یہ عادت ایک طرح سے بعد ازاں ان کی جبلت کا حصہ بن گئی۔ ہمارے ایک دانشور دوست کا خیال ہے کہ برصغیر میں ہمارے آباﺅ اجداد نے بہت بھوک و افلاس دیکھی ہے۔ اس کے اثرات ہماری جبلتوں کا حصہ بن گئے ہیں۔ آج بھی ہمارے دیہاتوں میں ایک کہاوت بیان کی جاتی ہے جس کا اردو ترجمہ کچھ اس طرح کا بنتا ہے کہ جو آپ نے کھا لیا، وہ آپ کا ہے، باقی احمد شاہ کا ہے۔ یہ کہاوت احمد شاہ ابدالی کے اس دور کی یاد دلاتی ہے، جب اس کے سپاہی دیہاتوں میں لوٹ مار کرتے تھے اور کھانا تک اٹھا کر لے جاتے تھے، اس لئے لوگ جلدی جلدی کھانا کھانے کی کوشش کرتے تھے، کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا تھا کہ اگر احمد شاہ ابدالی کے سپاہی آ گئے تو ان کے پیٹ خالی رہ جائیں گے۔ یہ خوف ہماری جبلت کا کچھ ایسا حصہ بن گیا ہے کہ آج بھی آپ کو اچھے خاصے معزز لوگ کھانا دیکھتے ہی پاگل ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ ہر کھانا اس طریقے سے کھاتے ہیں،جیسے زندگی کا آخری کھانا کھا رہے ہوں اور اس سے بعض اوقات بڑے مضحکہ خیز مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

قدیم لٹریچر میں ہمیں ایسے کردار ملتے ہیں جو یا تو نیک ہوتے تھے اور یا بد ہوتے تھے، جس طرح نیک آدمی سے برا کام کرنے کی امید نہیں ہوتی تھی، اسی طرح برے آدمی کے نیکی کے پاس جانے کا بھی کوئی خدشہ نہیں ہوتا تھا، مگر اب دنیا بدل گئی ہے۔ ایک خاتون مصنفہ جس نے متعدد بڑے لوگوں کی سوانح عمریاں لکھی تھیں، اس سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ ان میں سے کس نے ذاتی طور پر اسے متاثر کیا ہے؟ تو اس پر اس نے برجستہ کہا کہ یہ وہ لوگ تھے، جنہوں نے دنیا میں بڑے کام کئے، لیکن یہ انسانی سطح پر بڑے گھٹیا اور کمینے لوگ تھے، اس لئے ان میں سے کسی سے متاثر ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں سلطانہ ڈاکوﺅں کی ایک نئی نسل نے جنم لیا ہے، جس کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو اربوں روپے رشوت اکٹھی کرتے ہیں۔ قومی معیشت پر ڈاکے ڈالتے ہیں، اس کے بعد اپنے بزرگوں کی یاد میں فلاحی ہسپتال بنا لیتے ہیں۔ آپ کی بہت سے ایسے فرشتہ صورت لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی ہو گی جو منشیات کی سمگلنگ میں عالمی شہرت رکھتے ہیں، مگر ہر کامیاب پھیرے سے پہلے اور بعد میں بڑی تعداد میں صدقے کے بکرے دیتے ہیںیا فلاح و بہبود کا کوئی دوسرا بڑا کام کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ناجائز ذرائع سے دولت کمانے کا ہنر ہی نہیں جانتے، عزت کمانے کے داﺅ پیچ سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔

دنیا بھر میں جب مذہبی تہوار آتے ہیں تو اشیاءسستی ہو جاتی ہیں۔ امریکہ، لندن، پیرس اور دوسری دنیا میں ہی یہ صورت حال نہیں، بلکہ بہت سے اسلامی ممالک میں بھی ایسے مواقع پر تاجر اور دکاندار ناجائز منافع خوری سے اجتناب کرتے ہیں، مگر ہمارے ہاں حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود مہنگائی پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے۔ سرکاری اہلکاروں کو یا تو رشوت کے ذریعے معاملات کو نظرانداز کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے یا انہیں سخت قسم کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ مذہبی سکالر بھی ہر موضوع پر زور شور سے تقریر کرتے نظر آتے ہیں، مگر مہنگائی، ناجائز منافع خوری اور ملاوٹ کے متعلق کم کم ہی بات ہوتی ہے۔ پاکستان میں برسوں سے مہنگائی کو ڈنڈے سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر اس میں کوئی زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ سابق انسپکٹر جنرل پولیس چودھری سردار احمد نے صدر ایوب خاں کے مارشل لاءکے ابتدائی دنوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اس دور میں دکاندار اتنے خوفزدہ تھے کہ وہ 15روپے کی چیز پانچ روپے میں بیچ رہے تھے۔ صدر ایوب خان کے مارشل لاءکے بعد بھی پاکستان پر فوجی حکومت کے مختلف ادوار آئے، مگر1958ءکے مارشل لاءکا دبدبہ نظر نہیں آیا۔ آج بہت سے لوگوں نے سلطانہ ڈاکو کے کلچر کو اپنے کاروبار کا حصہ بنا لیا ہے۔حکومت کو ان کے خلاف کچھ ایسا ہی آپریشن کرنے کی ضرورت ہے، جیسا شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف ہو رہا ہے، کیونکہ ان جدید سلطانہ ڈاکوﺅں کا قلع قمع کئے بغیر حقیقی قومی ترقی اور خوشحالی کا خواب دیکھنا خاصا مشکل ہے۔ ٭

مزید :

کالم -