آئین کے سوا کوئی اور راستہ قابل قبول نہیں

آئین کے سوا کوئی اور راستہ قابل قبول نہیں

  


پاکستان پیپلز پارٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل، سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ اگر جمہوری عمل کو ڈی ریل کیا گیا تو وفاق خطرے میں پڑ جا ئے گا۔انہوں نے گزشتہ روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک اور جمہوریت کو درپیش خطروں سے نمٹنے کے لئے چودہ نکاتی چارٹر پیش کیا، جس کو انہوں نے ’بے نظیر بھٹو ماڈل‘ کا نام دیا۔انہوں نے ملک کی تمام جمہوری اور سیاسی قوتوں سے اس چارٹر پر مباحثے کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کرنے کی اپیل کی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک کھلے خط کے ذریعہ یہ ماڈل پیش کیا اور کہا کہ اب اگر جمہوری عمل کو’ڈی ریل‘ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس دفعہ صرف آئین پاکستان کو نہیں بلکہ وفاق پاکستان کو خطرہ لاحق ہو گا۔ لہٰذا ملک کی تمام سیاسی اور جمہوری قوتیں اس نئے ماڈل میں دیئے گئے 14 نکاتی چارٹر پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ کھلا خط کاشت کاروں، دہقانوں، محنت کشوں، ہنر مندوں، فنکاروں، دکانداروں، کلرکوں، طالب علموں، اساتذہ، دانش وروں، صحافیوں، ادیبوں، سیاسی کارکنوں، نوجوان پیشہ ور ماہرین اور مرد و خواتین کے نام ہے اوروہ ان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ وفاق کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر نظر ثانی کرکے جمہوری قوتوں کے درمیان ایک نیا معاہدہ کیا جائے تاکہ 1973ء کے آئین کے تناظر میں جمہوری قوتوں اور پارلیمانی ڈھانچے کے درمیان نیا توازن قائم ہو سکے۔ 1973ء کے آئین کے تحت شروع ہونے والے وفاقیت اور اختیارات کی منتقلی کے عمل کو مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا جائے اور پارلیمان کی بالا دستی کی ضمانت فراہم کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی، قومی تحفظات، وفاقیت، سیاسی اورآئینی اصلاحات و ترامیم جیسے تمام تر معاملات آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے طے کیے جائیں۔ سول ملٹری تعلقات کی ازسر نوتشریح کی جائے اور اس حوالے سے پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کی سطح پر مسلسل مکالمے کے ذریعے ایک نظام وضع کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ ایڈہاک ازم ختم کیا جائے اور گڈ گورننس بشمول سروسز اصلاحات کا نفاذ کیا جائے۔انہوں نے عدلیہ کی �آزادی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدم برداشت، شدت پسندی اور دہشت گردی کی تمام تر اشکال و مقاصد کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

پیپلز پارٹی کی طرف سے پیش کیا گیا چارٹر موجودہ حالات میں بہت موزوں نظر آتاہے اور ثابت کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی جمہوری نظام کے فروغ کے لئے سنجیدہ ہے اس لئے وہ کسی قسم کی ایسی سرگرمی میں شامل نہیں ہونا چاہتی جس سے جمہوریت کو نقصان پہنچنے کا ذرا سا بھی اندیشہ ہو۔ اس چارٹر کے بیشتر نکات سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا اس لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اس پرسنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور مثبت لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے۔ پاکستان کی ہر سیاسی اور غیر سیاسی جماعت کو اندازہ ہونا چاہئے کہ یہاں لڑائی جھگڑے اور دھینگا مشتی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، ملک کے استحکام اور بقا کے لئے صرف گڈگورننس کی ضرورت ہے۔صوبائی سطح پر ہر کسی کو موثر نظام تشکیل دینے کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ موجودہ نظام میں مزید بگاڑ پیدا کرنے کی۔

جو لوگ کام کرنا چاہتے ہیں ان کو کام کرنے دینا چاہئے، ہمارے ملک میں ہر دوسرے دن یہی خبر عام ہوتی ہے کہ جو افسر کرپشن کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے، اس کوگھر بھیج جاتا ہے ۔ اب آئی جی سندھ اقبال محمود کے بارے میں بھی یہی کہا جا رہا ہے ۔ ہمارے ہاں تو یہ رواج عام ہوتا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتیں صوبائی حدود سے نکل کر ملکی سطح پر بھی اب اسی نظام کو رائج کرنا چاہتی ہیں کہ جو حکومت پسند نہ آئے اس کوغیر آئینی طریقے سے ہٹانے کی کوشش شروع کردو۔ان جماعتوں کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ پاکستان کسی صوبے کا نام نہیں، بلکہ دستور کے تحت چلنے والاایک ملک ہے۔یہ کسی سیاسی جماعت کی میراث نہیں بلکہ اس پر صرف اور صرف عوام کا حق ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ چند سیاسی جماعتیں اسلام آباد میں جمع ہو کر حکومت بدلنے کا خواب دیکھیں، ملک میں دنگا فساد مچائیں اور فوج کو مداخلت پر مجبور کر دیں۔ چند لوگو ں کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کو ہٹانے کے خواب دیکھیں، جمہوریت کو’ڈی ریل‘ کرنے کی سازش کریں۔ تمام رہنماؤں کو سمجھنا چاہئے کہ اقتدار صرف انتخابا ت کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتا ہے اور اگر کوئی جماعت حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں تواسمبلی میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتمادکی تحریک لا سکتی ہے۔ لیکن کسی کو،کسی بھی طرح کسی غیر آئینی، غیر قانونی قدم اُٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔فوج کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دینا کوئی دانش مندی نہیں ہے،ہم اس کے اثرات پہلے بھی بھگت چکے ہیں، ہمارے رہنماؤں کو ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے نہ صرف توبہ کرنی چاہئے بلکہ آئین پر عمل اور اس کی پاسداری کو ہر حال میں یقینی بنانا چاہئے ۔ آج ہمارے ملک کی جو حالت ہے اس کی واحد وجہ آئین و قانون کی پاسداری نہ کرنا ہے۔ یہ چھ سالہ جمہوریت ابھی بمشکل چلنا سیکھ رہی ہے، اس دوران اگر یہ لڑکھڑائے اور گرنے لگے تو سب کو مل کر اسے تھامنا ہو گا ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ پھر کبھی دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہی نہ رہے۔

مزید :

اداریہ -