سیاسی امور سیاسی طریقے سے نمٹائیں

سیاسی امور سیاسی طریقے سے نمٹائیں

  

ایک خبر کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے ایک اجلاس میں طے کیا گیا کہ ملک کے حالات کی روشنی میں کسی فساد یا گڑ بڑ کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اس لئے حفاظتی نقطہ نظر سے14اگست کو فوج کا تعاون حاصل کیا جائے گا اور بڑے شہروں میں فوج متعین ہو گی۔ یہ فیصلہ ہوا کہ آرٹیکل245 کو بروئے کار لایا جائے، جس کی رو سے سول انتظامیہ فوج کو اپنی مدد کے لئے بُلا سکتی ہے اور یہ ڈپٹی کمشنر کی درخواست پر آئے گی۔ تاہم آرٹیکل245 عمل پذیر ہو گا تو پھر اس حصے میں فوجی عمل کے حوالے سے شہری بنیادی حقوق سلب ہو جائیں گے اور فوج کے کسی اقدام کو چیلنج بھی نہیں کیا جا سکے گا۔

تادم تحریر یہ خبر مصدقہ ہے کہ اس کی وضاحت یا تردید نہیں آئی، ایک طرف یہ اطلاعات ہیں کہ عمران خان کے لانگ مارچ اور ڈاکٹر طاہر القادری کے انقلاب کی دھمکی کا مقابلہ جمہوری اور سیاسی انداز سے کرے گی اور مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ اس حوالے سے یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ ملکی سیاست میں بھی بیک چینل ڈپلومیسی والا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت عمران خان کے بعض تحفظات دور کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔اس سلسلے میں متعدد تجاویز بھی میڈیا کی زینت بن چکی ہیں، جو اس لئے غیر تصدقہ ہیں کہ کسی طرف سے تائید نہیں ہوئی اور نہ ہی فریقین کی طرف سے بتایا گیا ہے۔

ہمارے نزدیک آرٹیکل245 کے ہوتے ہوئے بھی حکومت کو فوج بلانے کے آپشن پر پھر سے غور کر لینا چاہئے کہ سول اور سیاسی معاملات میں فوج کو ملوث کرنا مناسب نہیں۔ فوج کو پہلی مرتبہ 1953ء میں ختم نبوت تحریک کے نتیجے میں بلایا گیا اور لاہور میں منی مارشل لاء لگا۔ یہ معاملہ تو کسی طرح حل ہو گیا، لیکن پھر1958ء میں جنرل ایوب خاں کو قبضے سے نہ روکا جا سکا اور انہوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک جنرل حضرات کی طرف سے ایک سے زیادہ مرتبہ سول حکومتیں ختم ہوئیں اور مارشل لا لگا، یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ53ء کا یہ عمل تحریص کا باعث بنا۔ اس وقت فوج وزیرستان میں مصروف ہے۔ یہ بوجھ مزید لادا گیا تو آئی ڈی پیز کے کیمپوں کی طرح شکایات سامنے آنے لگیں گی۔ بہتر عمل یہ ہے کہ یہ مسئلہ سیاسی طور پر ہی حل کیا جائے کہ سیاسی عمل کا حل بھی سیاسی ہے۔ یوں بعض بیانات حوصلہ افزا ہیں صرف ہمت کی ضرورت ہے اور تحریک انصاف سے بات ہو سکتی ہے۔

مزید :

اداریہ -