بااثر افراد کی نوبیاہتا دلہن سمیت 2 لڑکیوں سے زیادتی،پولیس نے ملزم چھوڑ دیا

بااثر افراد کی نوبیاہتا دلہن سمیت 2 لڑکیوں سے زیادتی،پولیس نے ملزم چھوڑ دیا
 بااثر افراد کی نوبیاہتا دلہن سمیت 2 لڑکیوں سے زیادتی،پولیس نے ملزم چھوڑ دیا

  

چشتیاں (مانیٹرنگ ڈیسک) چشتیاں کے نواحی گاﺅں 96 فتح میں بااثر خاندان کے سات افراد نے سیاسی اثر و رسوخ کے بل بوتے پر گاﺅں 429/6-R کے رہائشی محنت کش خاندان کی نوبیاہتی دلہن سمیت دو لڑکیوں کو رات کی تاریکی میں اغوا کرکے اپنے ڈیرے پر لے جاکر گن پوائنٹ پر زیادتی کا نشانہ بنادیا۔ ایک مغویہ لڑکی چھ روز بعد ملزمان کے چنگل سے آزاد ہوکر گھر پہنچ گئی اور علاقہ مجسٹریٹ کے حکم پر ہونے والے میڈیکل میں زیادتی ثابت ہوگئی۔ تھانہ فقیر والی پولیس نے سات افراد کے خلاف مقدمہ تو درج کرلیا لیکن 25 روز گزرنے کے باوجود پولیس دوسری مغویہ کو بازیاب نہ کرواسکی۔ متاثرہ خاندان کے سربراہ ضعیف العمر 70 سالہ محنت کش نذیر احمد، صغراں بی بی، منیر احمد اور علاقہ کے معززین محمد افضل اور چوہدری مدثر مصطفےٰ نے میڈیا نمائندوں کو تفصیلات بیان کرتے ہوئے الزام لگایا کہ 9 جون کو مبینہ ملزمان محمد انور خاں، ضیاءالرحمن پٹھان، مبینہ پولیس ملازم محمد امیر خاں، محمد امین اور محمد سرور وغیرہ نے 18 سالہ غزالہ یاسمین اور دو ماہ کی نوبیاہتی دلہن صوبیہ خورشید کو اغوا کرکے اپنے ڈیرے پر لے جاکر گن پوائنٹ پر زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکیوں کی بازیابی کے لئے گاﺅں 96 فتح کے نمبردار رشید علی خان کے پاس معززین علاقہ کو لے کر گئے تو مبینہ ملزمان نے کوئی قانونی کارروائی نہ کروانے کا حلف لے کر لڑکیاں واپس کرنے کا وعدہ کیا۔ لیکن بعد میں مکر گئے اور متاثرہ خاندان کو مسلسل مقدمہ واپس لینے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ متعلقہ پولیس نے بھی بااثر ملزمان کے ساتھ ساز باز کرچکی ہے.

مزید :

ملتان -