دوسری ملاقات ،کئی کوششیں ناکام ہونے کے بعد نواز شریف چودھری نثار کو منانے میں کامیاب

دوسری ملاقات ،کئی کوششیں ناکام ہونے کے بعد نواز شریف چودھری نثار کو منانے ...

  

لاہور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعظم محمد نواز شریف نے بالآخر وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو منالیا۔ وزیر اعظم نے وزیر داخلہ کو گلے لگاتے ہوئے انہیں انکی اہمیت کا احساس دلایا۔ملاقات کے دوران وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔تفصیل کے مطابق گزشتہ روزوزیر اعظم محمد نواز شریف کی رہائش گاہ جاتی عمرہ میں وزیر اعلی پنجا ب محمد شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے ہمراہ چودھری نثارعلی خان دو سری بار ملاقات کے لئے آئے اور وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ساتھ ملاقات کی ۔جب چودھری نثار جاتی عمرہ پہنچے تو محمدنواز شریف نے خود باہر کر داخلی راستے پر ان کا استقبال کیا ۔وزیر اعظم نے وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چودھری صاحب!آپ تو ناراض ہی ہوجاتے ہیں جس پر چودھری نثار خان نے جواب دیا کہ جناب ناراض بھی تو اپنوں ہی سے ہوا جاتا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ آپ سینئر رہنما ہیں ہر معاملے میں آ پ کی مشاورت بہت اہم ہے ،آپ کا فعال کردار حکومتی کارکردگی میں اضافے کا باعث بنا ہے ۔اختلافات جمہوریت کا حسن ہے ،یہ اختلافات پارٹی میں ہی رہ کر ختم ہونے چاہئیں۔دریں اثناء وزیراعظم نے واضح کیا کہ چودھری نثار علی خان سے وزارت داخلہ کا قلمدان واپس نہیں لیا جارہا ،جبکہ وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا کہ کچھ غلط فہمیاں تھیں انہیں دور کیا گیا ہے، چودھری نثار نے اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا ہے ۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ پارٹی قیادت سے وابستگی ہی میر ا اصل سرمایہ ہے ،فیصلے جو بھی ہوں حکومت اور پارٹی کے مفاد میں ہونے چاہئیں ۔ملاقات کے اختتام پروزیر اعظم نے چودھری نثار علی خان کو یقین دہانی کروائی کہ ان کے تمام تحفظات دور کئے جائیں گے مزید براں اس بات کا امکان ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی اگلی ملاقات اسلام آباد میں ہوگئی۔واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ گزشتہ کئی ہفتوں سے وزیر اعظم سے ناراض تھے اورانہوں نے سیاست سے کنارہ کشی کررکھی تھی تاہم محمد شہباز شریف اہم کردار ادا کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان کو مذاکرات کی میز پر لائے اور وزیر اعظم کے ساتھ ان کی ملاقات کروا کر ان کے تحفظات دور کروانے میں اہم کردار ادا کیا ۔بتایا گیا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کئی گھنٹے تک جاری رہی ۔اس اہم ملاقات کے بعد چودھر ی نثار علی خان روانہ ہونے لگے تو وزیراعظم نے انہیں افطاری کے لئے روک لیا اور کہا کہ آج افطاری یہاں پر کریں ،مل کرافطاری کریں گے ۔اس ملاقات کی وجہ سے وزیر اعظم نے تمام مصروفیات ترک کردیں اور سارادن چودھری نثار علی خان کے ساتھ جاتی عمرہ ہی میں گزارا۔

نواز شریف نے چودھری نثار کو یقین دلایا ہے کہ ان کے تحفظات کا ازالہ کیا جائے گا۔ملاقات میں مسلم لیگ(ن) کے اندر دھڑا بندی کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض دیگر رہنماؤں کو بھی گلے شکوے ہیں ۔نواز شریف نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو ٹاسک دیا ہے کہ وہ دیگر ناراض رہنماؤں سے مل کر ان کے تحفظات دور کریں۔وزیر اعظم نے چوہدری نثار کے معاملے پر موثر کردار ادا کرنے پر شہباز شریف کی تعریف کی اور تمام پارٹی رہنماؤں کو تاکید کی کہ وہ باہمی اختلافات کو نظر انڈاز کر کے ملک اور قوم کے بہتر مفاد کے لئے کام کریں ۔اس وقت پاکستان کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ذرائع کے مطابق چودھری نثار علی خان نے بعض اہم معاملات سے وزیر اعظم کو آگا کیا اور کہا کہ میرا پارٹی قیادت سے کوئی اختلاف نہیں ہے بعض معاملات پر اصولی تحفظات ہیں،جن سے پارٹی قیادت کو آگاہ کرنا میری ذمہ داری ہے۔انھوں نے کہا کہ میں طویل عرصے سے مسلم لیگ(ن) سے وابستہ ہوں اور کبھی پارٹی سے کنارہ کشی کے بارے میں نہیں سوچا اور نہ ایسا کبھی ہوگا۔چودھری نثار گذشتہ کئی ہفتوں سے پارٹی قیادت سے ناراض تھے۔ قومی اسمبلی میں بھی ان کی غیر حاضری کو شدت سے محسوس کیا گیا جبکہ ہم خیال اراکین اسمبلی سے ان کی ملاقاتوں نے قیادت میں تشویش پیدا کی۔ پنجاب ہاؤس میں پارٹی کے 30 اراکین اسمبلی نے انہیں منانے کے لیے ملاقات بھی کی تھی، بعد ازاں خواجہ سعد رفیق اور وزیر اعلیٰ پنجاب بھی چودھری نثار سے ملے۔ چودھری نثار ماضی میں بھی پانچ دفعہ ناراض رہ چکے ہیں اور ہر بار وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف انہیں منانے میں کامیاب ہوتے رہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل مسلم لیگ کا ایک وفد ان سے ملنے گیا تھا مگر ان کو منانے میں ناکام رہا تھا ۔ جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے گزشتہ روز ان سے ملاقات کی، اوروہ بھی ناکام رہے۔ تاہم وہ وزیر داخلہ کو اسلام آباد سے لاہور اپنے ساتھ لے آئے تھے، جہاں ان کی ملاقات وزیراعظم سے ہوئی۔ اوران کی ناراضگی دور ہوگئی ہے۔جمعہ کے روز چوہدری نثار نے ساتھی وزراء کی اپیل کے باوجود وزیراعظم کے زیر صدارت آئی ڈی پیز سے متعلق اجلاس میں شرکت سے معذرت کرلی تھی ، چوہدری نثار کو جن معاملات پر اختلافات تھے ان میں سے نیشنل سکیورٹی پالیسی پر عملدرآمد نہ ہونا ، طالبان سے مذاکراتی عمل میں بائی پاس کرنا ، بجٹ سے متعلق اعتمادمیں نہ لینا اور آپریشن کے فیصلے میں شامل نہ کرنا نمایاں اعتراضات تھے۔

وزیر اعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان میں24گھنٹوں میں شہبا زشر یف کے ہمراہ 6گھنٹے سے زائد تک دوسری ملاقات ہوئی‘دونوں راہنماؤں کا اختلافات کے مکمل خاتمے کیلئے ملاقاتیں جاری رکھنے پر اتفا ق جبکہ وزیر اعظم نوازشر یف آئندہ ہفتے وفاقی وزراء اسحا ق ڈار اورخواجہ محمد آصف کے ہمراہ وزیر داخلہ سے ملاقات کر ینگے ،جس میں شہبا زشر یف بھی موجود ہونگے۔اس ملاقات میں پارٹی رہنماؤں کے درمیان بھی اختلافات ختم کروائے جائیں گے وزیر اعظم نے اس موقعہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد وں کیخلاف آپر یشن ملک کی بقاو سالمیت کی جنگ ہے اس لیے ہمیں اتحا داور یکجہتی کی ضرورت ہے اور ہم نے پو ری قوم کو ساتھ لیکر اس ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ اور ملک کو امن کا گہوارہ بنانا ہے ۔ انہوں نے ملک کسی سیاسی محاذآرائی اور ٹکراؤ کا متحمل نہیں ہوسکتااور جو لوگ سڑکوں پر آکر احتجاجی سیاست کر کے ملک کو عدم استحکام کا شکار کر نا چاہتے ہیں ان کا ایجنڈادر اصل ملک میں ملک کی تر قی اور خوشحالی کی مخالفت کا ایجنڈہ ہے جیسے ہم نے ہر صورت ناکام بنانا ہے او ر ملک میں جمہو ریت ‘پارلیمنٹ سمیت تمام اداروں کو مضبوط بنا کر ملک کو مضبوط کر ینگے ۔

مزید :

صفحہ اول -