حالات پر جنرل(ر) پرویز مشرف کا سایہ، نثار مان گئے؟

حالات پر جنرل(ر) پرویز مشرف کا سایہ، نثار مان گئے؟
حالات پر جنرل(ر) پرویز مشرف کا سایہ، نثار مان گئے؟
کیپشن: pic

  

 تجزیہ:چودھری خادم حسین

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے ناراضی ان کی جماعت کا اندرونی معاملہ ہی سہی لیکن چوہدری نثار وزیر داخلہ ہیں ا ور آج کے حالات میں ان کا منظر سے غائب رہنا کوئی اچھا شگون نہیں، کیونکہ اس سے افواہوں کو تقویت ملتی ہے اور پھر اظہار رائے بھی اسی طرح ہوتا ہے جیسا اب ہو رہا ہے، آج کی خبر بہتر ہے کہ بالاخر پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف وزیر داخلہ کو اپنے ساتھ جاتی عمرہ لانے میں کامیاب رہے اور جمعہ کی افطار ان تینوں حضرات نے وہیں کی اس ملاقات میں گلے شکوے ہوئے کہا گیا ہے کہ چوہدری نثار کے تحفظات دور کرانے کا یقین دلا دیا گیا ہے۔ تادم تحریر چوہدری نثار منظر عام پر نہیں آئے۔ ممکن ہے کہ یہ سطور پریس تک جانے کے بعد ہی وہ کچھ کہہ گزریں تاہم قیاس یہ ہے کہ ایسا ہونا ہوتا تو افطار سے رات تک بہت وقت تھا ان کی فون پر بھی بات ہو سکتی تھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ آدھا گلاس بھرا ہوا یا پھر پچاس فیصد والا معاملہ ہے اگر قیاس کے گھوڑے دوڑائے جائیں تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ جو یقین دہانیاں کرائی گئیں ان میں سے کسی پر عمل درآمد کا انتظار ہے۔ یقین تو یہ ہے کہ ملاقات ہوئی تو بات بھی مکمل ہوئی ہو گی بہرحال جلد ہی سب کچھ سامنے آ جائے گا۔

جہاں تک اب تک کے حالات اور واقعات کا تعلق ہے تو پس منظر میں کہیں نہ کہیں جنرل (ر) پرویز مشرف موجود ہیں جو بیماری کی شدت کے باعث راولپنڈی کے عسکری ادارہ قلب میں کئی ماہ زیر علاج رہے اور پھر کراچی کے نیول ہسپتال کے مریض بنے ان کی بیماری کے حوالے سے متعدد سرٹیفیکٹ پیش ہوئے جن کے مطابق وہ خطرناک امراض میں مبتلا ہیں اور ان کا علاج امریکہ میں ممکن ہے۔ ان کی طرف سے ای سی ایل سے اخراج کی درخواست پر فیصلہ ہوا جو اب اپیل کی زد میں ہے یوں وہ کراچی بحفاظت اپنے گھر میں بیٹھے، فون پرشغل فرماتے رہتے ہیں، ان کا سایہ کئی معاملات پر ہے اور یہی سایہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے درمیان گفتگو میں بھی گھسا رہا، حیرت کی بات یہ ہے کہ کراچی میں متحدہ والوں نے ان سے ملاقات کی اور فوج کے حق میں جلسے یا ریلی میں شرکت کی دعوت دے ڈالی جو انہوں نے قبول کر لی ہے۔ قارئین! ہم نے یہ واقعات بیان کئے ہیں نتیجہ آپ خود اخذ کرتے رہیں، بہرحال حالات میں اتار چڑھاؤ موجود ہے اور اسرار بھی شامل ہے۔

ایسے میں پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیٹر میاں رضا ربانی نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کر کے ایک چودہ نکاتی پروگرام پیش کیا ان کے مطابق ان نکات پر اتفاق رائے اور عمل سے جمہوری نظام اور جمہوریت کا تحفظ ہو گا، انہوں نے بھی خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ جمہوریت کو خطرات ہیں اور ان کا مقابلہ کیا جائے گا اس کے لئے سب کو متحد ہونا ہو گا، ایسی باتیں خود برسر اقتدار جماعت کی طرف سے بھی کہی جا رہی ہیں حکومت کے بعض اقدامات اور بیانات بوکھلاہٹ کا بھی تاثر دیتے ہیں حالانکہ پارلیمانی جمہوریت کے حوالے سے وہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔ لیکن دھڑے بندی والی خبریں یا اطلاعات کچھ بہتر نہیں ہیں۔ حکومت کو ارسلان افتخار کے استعفےٰ کے بعد مصطفےٰ رمدے کے مستعفی ہو جانے سے بھی دھچکا لگا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض تقرریاں بھی گلے پڑیں اور مزید پڑ سکتی ہیں، ابھی تو عمران خان کا لانگ مارچ اور ڈاکٹر طاہر القادری کا انقلاب سین بھی جاری ہے۔

دلچسپ تبصرہ ہے جو ارسلان افتخار اور مصطفےٰ رمدے کے استعفوں کے حوالے سے تحریک انصاف کی سیکریٹری اطلاعات شیریں مزاری نے کیا، وہ ارسلان افتخار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی رہیں اور جب انہوں نے استعفیٰ دے کر اپنے ارادوں کا اظہار کیا تو کہتی ہیں ’’سچے تھے تو مستعفی نہ ہوتے‘‘اب انہوں نے ایک قدم اور بڑھایا فرماتی ہیں’’نجم سیٹھی بھی مستعفی ہوں‘‘ غالباً عمران خان نے ان کے ذمہ یہی لگایا ہے کہ وہ چن چن کر استعفوں کا مطالبہ کرتی چلی جائیں۔

ان گھمبیر حالات میں غار کے دوسرے کنارے سے روشنی کی کرن بھی نظر آئی ہے۔ وہ یوں کہ تحریک انصاف کی طرف سے پارلیمان کی ’’انتخابی اصلاحات‘‘ کمیٹی کے لئے اپنے تین ارکان نامزد کر کے نام سپیکر کو بھجوا دیئے اور ادھر ادارہ منہاج القرآن کی طرف سے باقاعدہ سیشن عدالت سے رجوع کر کے سانحہ 17جون کے واقعات کے حوالے سے ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست دائر کر دی گئی جس کے جواب میں عدالت نے تھانہ فیصل ٹاؤن سے رپورٹ اور ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ یہ درست اور عملی طریقہ ہے جو دونوں جماعتوں کی طرف سے اختیار کیا گیا یہ پہلے بھی کیا جا سکتا تھا بہرحال دیر آید درست آید۔

مزید :

تجزیہ -