حکومت نے روش نہ بدلی تو اگست میں بڑا بریک تھرو ہو سکتا ہے ، سیاسی رہنما

حکومت نے روش نہ بدلی تو اگست میں بڑا بریک تھرو ہو سکتا ہے ، سیاسی رہنما

  

                                           لاہور(محمد نواز سنگرا//انویسٹی گیشن سیل) حکومت نے روش نہ بدلی تو اگست میں بڑا بریک تھرو ہو سکتا ہے جس میںحکومت اور جمہوریت ڈی ریل ہونے کا خدشہ ہے۔عید کے بعد حکومت مخالف تحریک نہیں چلے گی معاملات کو کنٹرول کر لےاجائے گا۔ ان خیالات کا اظہار ملک کے حکومتی اور اپوزیشن رہنماو¿ں نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔مسلم لیگ (ن)کے رہنماشیخ روحیل اصغر نے کہا کہ اول تو اگست میں کوئی تحریک چلنے کی توقع نہیں اور اگر چلی تو حکومت کنٹرول کرنا جانتی ہے۔ملکی عوام با شعور ہو چکی اور کوئی بھی نہیں چاہتا کہ جمہوریت ڈی ریل ہو۔ حکومت عمران خان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے توقع ہے کہ حکومت پارلیمانی جماعت تحریک انصاف کو منانے میں کامیاب ہو جائے گی جبکہ باقی لوگوں کا سڑکوں پر آنا بے معنی ہے۔جماعتوں کے اندر چھوٹی چھوٹی خلشیں اہمیت نہیں رکھتیں کیونکہ چوہدری نثار کو قیادت جلد منا لے گی ۔ پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے کہا کہ موجودہ حالات کی صورت میں بظاہر نظر آرہا ہے کہ اگست میں کچھ نہ کچھ ضرور ہونے والا ہے جس کے نتائج کےلئے ابھی انتظار کرنا ہو گا۔مسلم لیگ (ق)کے رہنما کامل علی آغانے کہا کہ ملک میں عام آدمی کےلئے کچھ نہیں ہو رہا اور ستائی ہوئی عوام ملک میں تبدیلی کی خواہاں ہے اس لئے اگست کا مہینہ نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اگر حکومت نے طرز عمل نہ بدلا تو حکومتی بساط بھی لپیٹی جا سکتی ہے۔تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عارف علوی نے کہا کہ حکومت جس طرز کی حکمرانی کر رہی ہے اس سے عوام اب تنگ آچکے ہیں ۔اگست میں ملک میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے لیکن کوئی بھی سیاسی جماعت جمہوریت ڈی ریل نہیں کرنا چاہتی۔

سےاسی راہنما

مزید :

صفحہ آخر -