جسٹس ناصر الملک نے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ، وزیر اعظم ، سروسز چیفس کی تقریب میں شرکت

جسٹس ناصر الملک نے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ، وزیر اعظم ، ...
 جسٹس ناصر الملک نے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ، وزیر اعظم ، سروسز چیفس کی تقریب میں شرکت

  

اسلام آباد (ما نیٹرنگ ڈیسک )جسٹس ناصرالملک نے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے ، صدر ممنون حسین نے ان سے حلف لیا ۔ تفصیلات کے مطابق ایوان صدر میں ہونے والی سادہ مگر پر وقار تقریب حلف برداری میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف ، نیول چیف ایڈمرل آصف سندھیلہ ، ایئر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ ، چیئر مین جوائٹ چیفس جنرل راشد محمود ،وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید،وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار،سینیٹر زاہد خان، وفاقی وزیر سفیران عبد القادر بلوچ ، چیئرمین سینیٹ نیئر بخاری ، جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان،سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ،سپریم کورٹ کے ججز ، فیڈرل شریعت کورٹ کے ججز، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور خان کا سی ، سینئر وکلا، ہائی کورٹ بار کے نمائندوں اور اٹا رنی جنرل سلمان اکرم بٹ نے تقریب میں شرکت کی ۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے نئے چیف جسٹس ناصرالملک 17 اگست 1950 ءکو سوات کے علاقے مینگورہ میں پیدا ہو ئے،انہوں نے ایبٹ آباد پبلک سکول سے میٹرک اور ایڈورڈز کالج پشاور سے گریجویشن کی۔ 1977 ءمیں لندن سے بار ایٹ لاکرنے کے بعد پشاور میں وکالت شروع کی۔ 1981 ءمیں پشاور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری اور 1991ءاور1993 ءمیں صدر منتخب ہو ئے۔4 جون 1994 ءکو پشاور ہائی کورٹ کے جج بنے اور31 مئی 2004 ءکو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے پر فائز ہوئے۔5 اپریل 2005 ءکو انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔جسٹس ناصرالملک نے نہ صرف 3 نومبر 2007ءکے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا بلکہ وہ 3 نومبر کی ایمرجنسی کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے والے سات رکنی بینچ میں شامل تھے۔پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھاکر وہ معزول قرار پا ئے اور ستمبر 2008ءمیں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دوبارہ حلف اٹھاکر جج کے منصب پر بحال ہوئے۔ جسٹس ناصر الملک پی سی او، این آر او اور اٹھارویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچوں کا حصہ رہے۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سزا سنا نے والے بنچ کے سربراہ بھی وہی تھے۔ ملک کے 22ویں چیف جسٹس ناصر الملک 13ماہ بعد 17اگست 2015ءکو چیف جسٹس آف پا کستان کے عہدے سے ریٹائر ہوں گے ،ان کی ریٹائرمنٹ پر جسٹس جواد ایس خواجہ محض 24 دن کے لیے چیف جسٹس بنیں گے۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 16 ہوگئی ہے اور جسٹس جواد ایس خواجہ سپریم کورٹ کے سینئرترین جج بن گئے ہیں۔یہ توقع کی جا رہی تھی کہ جسٹس جواد ایس خواجہ مستقل چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی تک قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داریاں نبھائیں تاہم ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے مطابق انھوں نے یہ عہدہ سنبھالنے سے انکار کر دیا تھا۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -