ارسلان کی تعیناتی، وزیراعلیٰ بلوچستان نے غلطی کا اعتراف کرلیا

ارسلان کی تعیناتی، وزیراعلیٰ بلوچستان نے غلطی کا اعتراف کرلیا
ارسلان کی تعیناتی، وزیراعلیٰ بلوچستان نے غلطی کا اعتراف کرلیا

  

اسلام آباد،کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ  ارسلان افتخار کی تعیناتی صوابدیدی اختیار اورافتخار چوہدری سے تعلقات بحال رکھنے کے لیے ذاتی فیصلہ تھا، اب جب میں نے دیکھا کہ یہ فیصلہ غلط ہے تو اسے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ارسلان سے استعفیٰ لیا مگر کچھ عناصر اس کو ایشو بنا کر مسلسل پروپیگنڈا کررہے ہیں، چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار کی تعیناتی معمول کی بات تھی، تحریک انصاف کو کیا معلوم کہ ریکوڈک کیا ہے؟ منصوبے پر ہونے والی سیاست بدنیتی پر مبنی ہے۔

نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا بلوچستان میں اس وقت دو طرح کی سوچ کے حامل لوگ بستے ہیں، ہم جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں مگر دوسری سوچ کے لوگ مسلح جدوجہد کے ذریعے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں منانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم اس میں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ارسلان افتخار کو سرمایہ کاری بورڈ کا چیئرمین بنانے پر سیاسی دوستوں نے کہا کہ یہ فیصلہ غلط تھا، میرے فیصلے میں بدنیتی نہیں تھی ملک بھر میں تنقید کے بعد ہماری پارٹی نے فیصلہ کیا کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے، یہ فیصلہ واپس لے لینا چاہئے، یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

انہوں نے کہا سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری سے میرے اس وقت سے ذاتی مراسم ہیں جب وہ کوئٹہ میں وکالت کرتے تھے، ان سے پرانے تعلق کو برقرار رکھنے کیلئے ارسلان افتخار کو عہدہ دیا، یہ رشتہ مضبوط کرنا چاہتا تھا، میرے فیصلے میں بدنیتی نہیں تھی، یہ تاثر درست نہیں کہ ارسلان افتخار کے معاملے میں میرے اور نوازشریف میں کوئی اختلافات ہیں۔اُنہوں نے اعتراف کیاکہ پہاڑوں پر اور بیرون ملک ناراض بلوچوں کو منانے میں فی الحال اتنی بڑی کامیابی نہیں ملی، جمہوری قوتوں کو غیرجمہوری قوتوں کے مقابلے میں اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ کے موقف کے برعکس میرحاصل بزنجونے دعویٰ کیاکہ ارسلان افتخار کو درخواست پر انہیں عہدہ دیا، درخواست وزیراعلیٰ نے قبول کی، نوازشریف کا کوئی کردار نہیں تھا، ارسلان کے استعفے کے بعد پراپیگنڈا بند ہو جانا چاہئے۔ میر حاصل بزنجو نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین سے پرانے مراسم ہیں تاہم طاہر القادری سے ملکر جو سیاست کی جا رہی ہے ہم اسکے حق میں نہیں، حکومت مخالف اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے، نیشنل پارٹی کسی غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کریگی، ارسلان افتخار کو سرمایہ کاری بورڈ کا چیئرمین بنانے کا فیصلہ مرکز نہیں صوبائی حکومت کا تھا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایاکہ بلوچستان کا 90 فیصد علاقہ پرامن ہے تاہم مردم شماری میں بعض دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ ریکوڈک پر وفاق اور صوبائی حکومت نے کمیٹی تشکیل دیدی ہے، اس منصوبے سے متعلق جو بھی فیصلے ہونگے وہ یہ کمیٹی کریگی۔ اُن کاکہناتھاکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ بلوچستان حکومت پر بے بنیاد الزامات لگائیں، انہوں نے آج تک ریکوڈک دیکھا بھی نہیں ہوگا۔ اس معاملے پر وفاق اور صوبے نے مشترکہ کمیٹی بنا دی ہے اور یہ معاملہ اس وقت ثالثی عدالت میں ہے۔

مزید :

قومی -