داعش نے عراق میں مزارات اور مساجدبھی شہید کردیں

داعش نے عراق میں مزارات اور مساجدبھی شہید کردیں
داعش نے عراق میں مزارات اور مساجدبھی شہید کردیں

  

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) عراق میں ISISکے جنگجوﺅں کی پیش قدمی جاری ہے اور اس دوران انسانی جانوں اورتنصیبات کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ جنگجوﺅں نے راستے میں آنیوالے مزارات اور مساجد کو بھی شہید کردیا۔

تفصیلات کے مطابق جنگجوﺅں نے شمالی عراق کے تاریخی شہر کے اندر اور گرد و نواح میں قدیم مزارات مسمار کر دیے ہیں۔جنگجووں کے زیر قبضہ شمالی صوبے نینوا میں واقع کم سے کم چار سنی عربوں اور صوفیوں کے مزارات گرا دیے گئے ہیں جبکہ اہل تشیع کی چھ مساجد یا امام بارگاہیں بھی مسمار کی جا چکی ہیں۔

                        انٹرنیٹ پر ISISکی طرف سے ایک بیان کے ساتھ پوسٹ کردہ تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اہل سنت اور صوفیوں کے مزارات پر بلڈوزر چلا دیے جبکہ اہل تشیع کے امام بارگاہیں اور مزارات کو دھماکا خیز مواد لگا کر تباہ کیا گیا۔

مقامی رہائشیوں نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ عمارتیں گراد دی گئی ہیں اور عسکریت پسندوں نے دو کیتھرڈل کلیسا بھی قبضے میں لے لئے ہیں۔

                          موصل کے ایک 51 سالہ رہائشی کا کہنا ہے کہ ان مزارات کے انہدام پر افسردہ ہوں، یہ ہمارے آبا و اجداد کا ورثہ اور شہر کی نشانیاں تھیں، جنگجووں نے موصل کے چرچ کی عمارت کے سامنے نصب صلیب ہٹا کر وہاں سیاہ پرچم لگا دیا۔

مزید :

بین الاقوامی -اہم خبریں -