آئی ایس آئی ایس کے بارے میں وہ باتیں جو آپ نہیں جانتے

آئی ایس آئی ایس کے بارے میں وہ باتیں جو آپ نہیں جانتے
آئی ایس آئی ایس کے بارے میں وہ باتیں جو آپ نہیں جانتے
کیپشن: ISIS

  

لاہور (نیوز ڈیسک) ISIS (داعش) کی مشرق وسطیٰ میں کامیابیاں اس وقت دنیا بھر میں زیر بحث ہیں۔ تاہم اب بھی لوگوں کو اس کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ حال ہی میں ویسٹ پوائنٹ میں دہشت گردی کے خلاف امریکی ملٹری اکیڈمی میں قائم سینٹر نے اپنے ”ہارمونی پروگرام“ کی تفصیلات عوام کے لئے جاری کی ہیں، ان دستاویزات میں ISIS کا بھی تفصیلات جائزہ لیا گیا ہے۔یہ دستاویزات بنیادی طور پر القاعدہ کے اندرونی معاملات کی جانچ پڑتال کے لئے تیار کی گئی تھیں۔

دستاویزات میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ISIS کے پاس قریباً 2 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں، اس طرح یہ دنیا کا امیر ترین شدت پسند گروپ ہے۔ ان کے مطابق ISIS ایک عرصے سے وسائل اکٹھے کررہا ہے۔ جہاں جہاں اس گروپ کا اثر و رسوخ ہے وہاں پر مقامی افراد سے آمدنی پر قریباً 20 فیصد ٹیکس لیا جاتا ہے۔ اس ”ٹیکس“ میں اغواءبرائے تاوان اور بھتہ بھی شامل ہے، سینئر کمانڈروں کے پاس اخراجات اور خرچوں کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہوتا ہے اور وہ ضرورت کے تحت مختلف علاقوں یا حصوں میں فنڈز فراہم بھی کرسکتے ہیں۔ اسی طرح لڑائی میں مصروف افراد کے خاندانوں کا ریکارڈ بھی مرتب کیا جاتا ہے۔ جامع ریکارڈ موجود ہونے کی وجہ سے ہی موصل پر قبضے کے بعد حاصل ہونے والی رقم کو فوری طور پر 'دیالہ' اور 'صلاح الدین' منتقل کردیا گیا کیونکہ وہاں پر پیسوں کی ضرورت زیادہ تھی۔

ISIS میدان جنگ میں مارے جانے والے لڑاکوں کے خاندانوں کو بھی رقم فراہم کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ”ہارمونی دستاویزات“ کے مطابق کل اخراجات کا 56 فیصد تک  اس کام میں صرف ہوتا ہے۔ یہ بڑی وجہ ہے کہ لوگ کم ہی اس گروپ کو چھوڑ کر جاتے ہیں۔

تجزیے کے مطابق ایک عام جنگجو کی اوسط تنخواہ 41 ڈالر فی مہینہ ہے جو کہ عراق میں عام مزدور کی تنخواہ سے بھی کم ہے۔ اس سے مطلب لیا جاسکتا ہے کہ زیادہ تر لوگ نظریات کی بنیاد پر اس گروپ سے وابستہ ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ 2005ءاور 2009ءکے دوران گروپ کی فنڈنگ کا 5 فیصد سے بھی کم حصہ سعودی عرب سے آیا جبکہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ سعودی عرب نے اس کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ زیادہ تر رقم ترکی کی مدد سے کویت اور قطر سے آئی۔

اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ امریکہ نے سنی قبائلی لیڈروں کی مدد سے متعدد مرتبہ ISIS کے خلاف اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس پروگرام کو ”عراق کے بیٹے“ کا نام دیا گیا تھا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اب زیادہ تر ”عراق کے بیٹے“ ISIS میں شامل ہیں کیونکہ عراقی حکومت نے انہیں طاقت میں حصہ دار بنانے سے انکار کردیا تھا۔

مزید :

انسانی حقوق -