فلسطین میں امریکی نژاد فلسطینی پر اسرائیلی پولیس کا بد ترین تشدد ، امریکہ کا احتجاج

فلسطین میں امریکی نژاد فلسطینی پر اسرائیلی پولیس کا بد ترین تشدد ، امریکہ کا ...
فلسطین میں امریکی نژاد فلسطینی پر اسرائیلی پولیس کا بد ترین تشدد ، امریکہ کا احتجاج

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) وزارت امور خارجہ (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حکام نے ایک امریکی شہری طارق خضیر کو حراست میں لیا ہے اور رپورٹس کے مطابق مشرقی وسطیٰ میں فساد بڑھانے کے الزام میں اسے بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔

سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان ین پاسکی کا کہنا ہے کہ ” ہم طاقت کے ناجائز استعمال کی بھرپور مزمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ضمن میں شفاف اور قابل یقین تحقیقات کو فوری مکمل کرکے ذمہ داران کا احتساب کیا جائے“۔ یاد رہے کہ طارق خضیر کے 16سالہ کزن ابو خضیر کو چند روز قبل گھر سے اٹھا کر قتل کر دیا گیا تھا، بعدازاں اس کی نعش جنگل سے ملی تھی۔ فلسطین نے فوری طور پر اسرائیلی انتہاپسندوں کو اس کا ذمہ دار قرار دے دیا لیکن اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں تحقیقات چل رہی ہیں اور تاحال ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکا۔

فلوریڈا سے آنے والے طارق خضیر کو اس کے کزن ابو خضیر کے جنازہ کے موقع پر اسرائیلی پولیس کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ طارق کے والدین کا کہنا ہے کہ اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ایک اسرائیلی ہسپتال میں داخل کروایا گیا، انہوں نے اپنے بیٹے طارق کی تصاویر بھی دکھائیں، جس کے چہرے پر سوجن اور تشدد کے واضح نشانات تھے۔ طارق کے والد کا کہنا ہے کہ وہ خود طارق کی گرفتاری کا عینی شاہد ہے، حالاں کہ وہ تشدد کے واقعات میں بالکل بھی ملوث نہیں تھا۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے تصدیق کئے جانے اور طارق خضیر کے والدین کے بیانات کے بعد بالآخر اسرائیلی پولیس نے بھی مان لیا کہ طارق ان کے پاس ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکہ نے اسرائیلی بربریت کے خلاف کھل کر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے پر افسوس یہ ہے کہ زیر حراست لڑکے کے کزن کو بھی جنونی یہودیوں نے جلا دیا تھا لیکن عالمی برادری کے کان پر جوں تک نہ رینگی، شائد اس لئے کہ اس کے پاس امریکی شہریت نہیں تھی. 

گرفتاری کے بعد عدالتی فیصلے کی تفصیلات کیلئے وزٹ کریں ۔

مزید :

بین الاقوامی -