سسکتی انسانیت

سسکتی انسانیت

  



رانا صاحب میرے بہت اچھے اور دیرینہ دوستوں میں سے ہیں، چند روز قبل لاری اڈے کے قریب ہمارا آمنا سامنا ہوا، میں موٹر سائیکل پر سوار تھا اور رانا صاحب سائیکل پر، مجھے دیکھ کر رکنے کا اشارہ کیا، چنانچہ میں نے موٹر سائیکل روکی اور ہم سڑک کے ایک طرف کھڑے ہو گئے ہم نے ایک دوسرے کو سلام کیا، گلے ملے، میں نے دیکھا کہ آج رانا صاحب کا چہرہ بہت افسردہ اور غمگین ہے اور ان کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے ہیں، وہ بھرائی ہوئی آواز سے مجھے مخاطب ہوئے۔ ’’بھائی جان! میں اس زندگی سے تنگ آ گیا ہوں، اس زندگی سے موت اچھی۔ بھائی جان! آپ جانتے ہیں کہ میرے والد اور والدہ دونوں ضعیف اور معذور ہیں اور میں اپنے گھر کا تنہا کفیل ہوں، آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ میرا کوئی مستقل روزگار نہیں ہے، کتنے عرصے سے درجہ چہارم کی سرکاری ملازمت کے لئے کوشاں ہوں، جگہ جگہ درخواستیں دی ہیں مگر کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔ بھائی جان! میں بھوک تو برداشت کر سکتا ہوں مگر اپنے بوڑھے اور معذور والدین کو بغیر دوا کے سسکتا اور تڑپتا نہیں دیکھ سکتا۔‘‘ یہ بات کہہ کر ان کی آنکھوں میں تیرتے آنسو، اب چھلکنے لگے اور آنسوؤں کا دریا جس کے سامنے اب تک بند بندھا تھا، ٹوٹ گیا اور وہ رونے لگے۔ میں نے تسلی دلائی کہ رانا صاحب! آپ اللہ کی رحمت پر نظر رکھیں، دن سدا ایک جیسے نہیں رہتے، حالات ضرور بدلیں گے، آپ ہمت نہ ہاریں، اگر آپ ہمت ہار بیٹھے تو آپ کے بوڑھے والدین کی ہمت کون بندھوائے گا؟

میرے ذہن میں فوری طور پر ایک دوست کا خیال آیا، جن کے والد صاحب چند روز قبل اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے ہیں، میں جب ان کے ہاں تعزیت کے لئے گیا تو انہوں نے واپسی پر مجھ سے کہا تھا کہ محمودی صاحب! میں اپنے والد کے ایصال ثواب کے لئے صدقہ کرنا چاہتا ہوں، میری خواہش ہے کہ غریب اور بے سہارا مریضوں کو دوا خرید کر دوں، آپ کی نظر میں جو مستحق افراد ہوں، آپ انہیں مجھ سے ملوا دیں تاکہ ان کی مدد کی جاسکے۔ میں نے رانا صاحب کو اپنے اس ایڈووکیٹ دوست کا نام و پتا سمجھایا کہ آپ فوری طور پر ان کے پاس چلے جائیں، ان شاء اللہ! وہ آپ کا دوا کا مسئلہ حل کر دیں گے۔ رانا صاحب نے اپنی سائیکل لی اور قریب عدالت کی طرف چل دیئے، نماز ظہر کا وقت قریب تھا، میں نے مسجد کی راہ لی، نماز سے فارغ ہوا تو میں نے اپنے موبائل سیٹ کو دیکھا اس پر رانا صاحب کی کال آئی ہوئی تھی، میں نے بیک کال کی تو رانا صاحب بتانے لگے کہ بھائی جان! وکیل صاحب کے تعاون سے اللہ تعالیٰ نے میرے والدین کی دوا کا مسئلہ حل کر دیا ہے۔ مجھے رانا صاحب کے الفاظ سن کر محسوس ہو رہا تھا کہ رانا صاحب کا غم دور ہو گیا ہے، مجھے بہت خوشی ہوئی کہ میری ذات سے میرے ایک بھائی کو خوشی ملی اور اس کا غم دور ہوا۔یہ تو ایک واقعہ ہے جس کا میں نے ذکر کیا، ایسے کتنے ہی واقعات ہیں جن کا ہم آئے روز مشاہدہ کرتے ہیں، ہمارے عزیز و اقارب اور پڑوس میں لوگ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں انتہائی پریشان ہیں اور خاص طور پر سفید پوش طبقہ کو اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے، ایسے ہی لوگ خدمت کے صحیح حق دار ہیں، انہی کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ:’’(مالی امداد کے بطور خاص) مستحق دِہ فقراء ہیں، جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں اس طرح مقید کر رکھا ہے کہ وہ معاش کی تلاش کے لئے زمین پر چل پھر نہیں سکتے۔ چونکہ وہ اتنے پاک دامن ہیں کہ کسی سے سوال نہیں کرتے، اس لئے نا واقف آدمی انہیں مال دار سمجھتا ہے۔ تم ان کے چہرے کی علامتوں سے ان (کی اندرونی حالت) کو پہچان سکتے ہو (مگر) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے، ان کی مدد میں جو کچھ مال تم خرچ کرو گے، وہ اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گا‘‘۔۔۔ (البقرہ: 273)۔۔۔آخر میں اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا:

غریب لوگوں کی عمر بھر کی غریبی مٹ جائے اے امیرو!

بس ایک دن کے لئے، اگر تم ذرا سا خود کو غریب کر لو!

مزید : کالم