مودی کا کمال!

مودی کا کمال!
مودی کا کمال!

  

برہمن اور یہودی اسلام اور مسلمان سے خفیہ اور علانیہ جو بغض، نفرت اور عداوت رکھتے ہیں، اسے مسلمان تو بھولے ہوئے ہیں ہی، خصوصاً مسلمانوں کے لیڈر تو نہ صرف بھولے ہوئے ہیں، بلکہ اس پر ’’مٹی ڈالنے‘‘ کی تاکید بھی کرتے رہتے ہیں، کیونکہ مسلمانوں کے یہ لیڈر صلیبی اور صہیونی لیڈروں سے یہ طعنہ سننے کے بھی روادار نہیں کہ لوجی! مسلمانوں کی طرح ان کے لیڈر بھی سیکولر نہیں! جبکہ صلیبی اور صہیونی دنیا کے ہر لیڈر خود سیکولرازم سے کوسوں دور ہوتے ہیں، ان کا سیکولرازم صرف ان کی زبانوں پر ہوتا ہے، مگر اندر سے ہر ایک شدید قسم کا متعصب اور جنونی مذہبی آدمی ہوتا ہے، بس وہ اپنا اپنا مذہبی تعصب اور جنون اچھی طرح چھپا کر رکھتے ہیں اور اگر کوئی جنونی بات زبان پر آ بھی جائے تواس کی تردید کر دیتے ہیں یا مُکر جاتے ہیں، آپ اگر تسلی کرنا چاہیں تو صرف بھارتی لیڈروں کے علاوہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو دیکھ لیجئے، ٹونی اور بش نے اپنے اپنے آخری الیکشن جیتنے کے لئے خود کو اسلام دشمن ثابت کر کے اپنے ووٹرز کے دل جیتے اور کامیاب ہوئے! نام نہاد ’’نائب الیون‘‘ کے نام پر جنگ میں کودنے سے پہلے بش نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ ’’ہم نے اپنی صلیبی جنگ شڑوع کر دی ہے‘‘۔۔۔ مگر اگلے روز ہی مُکر گیا اور اپنی بدحواسی کی تردید کر دی، حالانکہ مَیں ان اربوں انسانوں میں سے ایک ہوں، جس نے ٹی وی پر جارج ڈبلیو بش کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا اور مَیں اس پر گواہ ہوں!!

صلیبی اور صہیونی دنیا، بلکہ برہمنی دنیا کے لیڈر بھی زبان سے تو سیکولرازم کی تسبیح پڑھتے ہوئے تھکتے نہیں، مگر ان کا ہر عملی قدم اور ہر لفظ مذہبی جنون اور تعصب کی چغلی کھا رہا ہوتا ہے، یعنی وہ سچی اور حقیقی سیکولر نہیں ہوتے، مگر اس کے برعکس مسلمانوں کا ہر لیڈر خود کو قول و عمل سے سیکولر ثابت کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ گویا ’’اصلی تے وڈے سیکولر‘‘ صرف مسلمانوں کے موجودہ لیڈر ہوتے ہیں!

بھارت کے لیڈر قیام پاکستان سے پہلے اور بعد بھی منافقت اور ریا کاری سے کام لیتے چلے آتے ہیں، ویسے ایک لحاظ سے پاکستانی لیڈر بھی قائداعظم کے بعد بھارتی لیڈروں کے ساتھ اس نفاق اور ریا کاری میں شریک ہیں، یعنی بھارتی لیڈر اندر سے تو پکے مذہبی جنونی اور متعصب ہوتے ہیں، مگر زبان سے سیکولرازم کی تسبیح پڑھتے جاتے ہین، اس کو وہ ’’بغل میں چھری اور منہ سے رام رام‘‘ کہتے ہیں، لیکن اس کے بالکل برعکس پاکستانی لیڈر زبانی ’’ اسلام اور اسلامی‘‘ کہتے تھکتے نہیں، مگر عملی طور پر ان کا ہر قدم اور ہر لفظ خلاف اسلام ہوتا ہے! مجھے تو یوں لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے لیڈروں کی یہ منافقت اور ریا کاری کسی دن ہمیں لے ڈوبے گی۔

لیکن مودی مہاراج کا کمال یہ ہے کہ نہرو اور پٹیل سے لے کر واجپائی تک زبانی کلامی سب سیکولر راگ الاپتے تھے، حالانکہ اندر سے یہ سب سخت متعصب اور مسلمان دشمن تھے، سب کے دلی عزائم ملیچھ یا ناپاک مسلمان سے برصغیر کو پاک کرنا تھا، مگر زبانی کلامی سیکولر تھے، یعنی سب چاہتے کہ مسلمان کو یا تو بھگا دیا جائے یا زبردستی ہندو بنا لیا جائے یا پھر سب کو قبرستان پہنچا دیا جائے، لیکن مودی صاحب نے ہندو کی منافقت اور ریاکاری کا پردہ چاک کر دیا ہے! وہ کھلے عام اس ہندو فارمولے پر عمل کررہے ہیں، گجرات کے وزیراعلیٰ کے جھنڈے تلے ہزاروں بیگناہ مسلمانوں کو قبرستان بھجوا چکے ہیں اور اب ان کی نفسانی خواہش یہ ہے کہ اس پرانے ہندو فارمولے پر عمل کرتے ہوئے پورے بھارت، کشمیر، بنگلہ دیش اور پاکستان کے تمام مسلمانوں پر یہی فارمولا کام میں لایا جائے۔ موصوف نے بھارت کی مکتی باہنی کے ذریعہ پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کا سرکاری اعتراف دھڑلے سے کیا ہے اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کو جلانے اور انہیں زبردستی ہندو بنانے کا آغاز کر دیا ہے! اب بھی اگر ہم آنکھیں بند کرکے چُپ رہے تو تاریخ بدل جائے گی!

یہ موقع ہے کہ ہم ہندو کے اس جھوٹ کو دنیا کے ہر معقول انسان کے سامنے ننگا کر دیں کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے مذہبی بنیاد پر بٹوارہ نہیں کروایا تھا، بلکہ ہر مذہب کے لئے پرامن بقائے باہمی اور آزادی ء عقیدہ کی دستوری ضمانت مانگی، مگر یہ ہندو فریب کار تھا جو ایک ہندو مت مذہب کی بنیاد پر برصغیر کو متحد رکھنا چاہتا تھا اور اب بھی مسلمانوں کی آزادی ختم کرکے زبردستی ہندو مت کی بنیاد پر متحد کرنے کے جنون میں مبتلا ہے! مسلمان تو ہر ایک کو ہندو، مسلمان، عیسائی اور سکھ رہتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کی دستوری ضمانت دے، مگر ہندو کہتا تھا کہ یہاں صرف ایک مذہب ہوگا ہندومت ! اس لئے سب کو ہندو توا کے دائرے میں آنا پڑے گا! ہندو کی اب بھی یہی خواہش اور کوشش ہے۔۔۔ ’’صاف گو‘‘ مودی نے پرانے ہندو فارمولے کو دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ہے! مودی کے اس کمالِ صاف گوئی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کے سامنے اگر ہم اب بھی حق بات کہنے سے عاجز رہے تو ہمیں کوئی معاف نہیں کرے گا۔

مزید :

کالم -