وہ ملک جہاں جسم فروش خواتین نے غیر ملکی سیاحوں کیلئے سیل لگادی

وہ ملک جہاں جسم فروش خواتین نے غیر ملکی سیاحوں کیلئے سیل لگادی
وہ ملک جہاں جسم فروش خواتین نے غیر ملکی سیاحوں کیلئے سیل لگادی

  

برازیلیا (نیوز ڈیسک) برازیل کے شہر ریوڈی جنیرو کی جسم فروش خواتین نے اگلے ماہ شروع ہونے والی اولمپک گیمز کے موقع پر غیر ملکی سیاحوں کے لئے لوٹ سیل لگانے کا اعلان کردیا ہے، جس کے دوران وہ اپنی تمام خدمات آدھی سے بھی کم قیمت پر پیش کریں گی۔

اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ریوڈی جنیرو میں جسم فروشی کے لئے سب سے مشہور علاقے ویلا میموسا زون میں اولمپک گیمز کے استقبال کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ یہ برازیل میں جسم فروشی کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں ہر رنگ اور نسل کی ہزاروں خواتین مکروہ دھندہ کرتی ہیں۔ اس جگہ کام کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ دو سال قبل جب برازیل میں فٹ بال ورلڈ کپ منعقد ہوا تو وہ امید کررہی تھیں کہ ان کا کاروبار خوب پھلے پھولے گا لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا اور وہ گاہکوں کا انتظار کرتی ہی رہ گئیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ اس بار انہوں نے ایسے انجام سے بچنے کے لئے لوٹ سیل لگانے کا اعلان کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی کسٹمرز ان کے پاس آئیں۔

کراچی کے ’آغاسپر سٹور‘ پر لڑکی ایسا کیا لباس پہن کر آگئی کہ ہنگامہ برپاہوگیا، تفصیلات جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

جسم فروش خواتین نے لوٹ سیل کے اشتہار بھی چھپوائے ہیں جنہیں بڑے پیمانے پر تقسیم کیا جارہا ہے۔ ان اشتہارات میں بتایا گیا ہے کہ اولمپکس گیم کے دوران نصف گھنٹے کی خدمات کا معاوضہ 50 فیصد رعایت کے ساتھ 9 پاﺅنڈ (تقریباً 1400 پاکستانی روپے) ہوگا۔ اس سے پہلے یہ معاوضہ 17 پاﺅنڈ تھا۔ اسی طرح ایک سے زائد خواتین کی خدمات بیک وقت حاصل کرنے پر بھی فی خاتون 9پاﺅنڈ وصول کئے جائیں گے۔

ولا میموسا میں 12 سال سے کام کرنے والی خاتون گیبریلا کا کہنا تھا کہ برازیل کے معاشی حالات خراب ہونے کے بعد ان کا کاروبار ٹھپ ہوکررہ گیا ہے۔ اولمپکس گیمزکی آمد پر وہ توقع کررہی ہیں کہ ایک بار پھر کاروبار میں بہتری آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی فٹ بال کپ کے تجربے کو مدنظررکھتے ہوئے اس بار تمام خواتین نے مل کر لوٹ سیل کی پیشکش کرنے کا فیصلہ کیا۔ گیبریلا جسم فروشی کے ساتھ یونیورسٹی سے ہیومن ریسورسز کی ڈگری بھی حاصل کررہی ہیں اور پرامید ہیں کہ تعلیم مکمل ہونے پر وہ اس پیشے کو چھوڑدیں گی۔ ایک اور جسم فروش خاتون ایلائن کا کہنا تھا کہ وہ بھی انگلش کا کورس کررہی ہیں، جس کے مکمل ہونے پر وہ اس شرمناک کام کو چھوڑ کر آمدنی کا کوئی اچھا ذریعہ اختیار کرلیں گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس