اللہ، کعبہ اور بندہ

اللہ، کعبہ اور بندہ
 اللہ، کعبہ اور بندہ

  

ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی پہچان کا اصل حوالہ شعبہ طب ہے۔ وہ ایک ممتاز معالج ہیں اور ان کی میڈیکل پریکٹس سو فی صد فی سبیل اللہ ہے جس کے عوض وہ ایک پیسہ بھی بطور معاوضہ یا اعزاز یہ نہیں لیتے۔ ڈاکٹر صاحب سے دوستی کا عرصہ کم و بیش 25 برس پر محیط ہے وہ بے حد ملنسار سسسمحبت کرنے والے اور اخلاص میں گندھے ہوئے انتہائی بامروت انسان ہیں ۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ اُردو اور انگریزی زبان میں 20 سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ قلم و قرطاس سے ان کے تعلق کا آغاز شعبہ طب کے حوالے سے ان کی لکھی جانے والی کتابوں سے ہوا کہ ہمارے ہاں میڈیکل کے موضوع پراُردو میں عام فہم کتابوں کی تصنیف و تخلیق کا کوئی رجحان نہیں تھا لیکن ڈاکٹر صاحب نے فیملی ہیلتھ، ٹین ایج گائیڈ (اُردو 228 انگریزی) اور دوا، غذا اور شفاء کو حوالہ بنا کر طب کے موضوع پراُردو میں عام فہم کتابوں کی دستیابی کے خلاء کو پورا کر دیا۔ اس وقت ان کی منفرد اور تاثر انگیزکتاب ’’اللہ، کعبہ اور بندہ‘‘ کا تذکرہ مطلوب ہے ۔

وہ کونسا مسلمان ہے جو دن رات ربِ کعبہ اور نبی رحمتؐ کے حضور حاضری کا متمنی نہیں۔ ڈاکٹر آصف بجا طور پر اُن خوش قسمت اور خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنہیں وہاں بارہا حاضری کا شرف حاصل ہو چکا ہے۔ مگر ڈاکٹر صاحب کی یہ کتاب جس روئیداد سفر پر مشتمل ہے وہ بڑا ہی منفرد تھا۔ وہ حج بیت اللہ کے شرف سے تو ایک مرتبہ پھرباریاب ہو ہی رہے تھے۔ انہوں نے اس سفر سعادت کے دوران خدمتِ خلق اور مسیحائی کا عمل یوں جاری رکھا کہ اپنے پورے قیام کے دوران وہ بیمار ہونے والے حاجیوں کا علاج معالجہ بھی کرتے رہے۔ اس حوالے سے کتاب کے دیباچہ اول میں وہ خود لکھتے ہیں ’’میرا بنیادی کام علاج اور خدمت ہے یہ خدمت میں نے یہاں بھی سرانجام دی، حرم، بیت اللہ کی مسلسل حاضری کے ساتھ ساتھ اللہ نے دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے حاجیوں کے علاج اور خدمت کی توفیق دی۔ حرمین شریفین آتے ہوئے حاجیوں کی خدمت کا ٹھان کر دوائیوں کی بڑی کھیپ لے کر آیا تھا جو پہلے دنوں ہی میں ختم ہو گئی۔ پھر دو دفعہ مزید دوائیاں منگوانا پڑیں۔ حاجیوں کی خدمت کر کے واقعی بڑا مزہ آیا‘‘ ۔۔۔کتاب میں آگے چل کر وہ ایک اور جگہ اسی تناظر میں لکھتے ہیں۔ حج کے ساتھ حاجیوں کی خدمت کی بھی سعادت نصیب ہوئی۔ پہلے دن سے لے کر آخری رات تک مریض آتے رہے علاج ہوتا رہا، سب دوائیاں موجود تھیں حاجیوں کا خوب علاج ہوا۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے حاجی دوائیاں لیکر شفا یاب ہوتے رہے دعائیں دیتے رہے۔ جو دوائیں بچ گئیں وہ بھی مدینہ منورہ کے باسیوں کے حوالے کیں تاکہ مدینے والے ہماری دوائیں استعمال کریں اور ہمیں دعائیں دیں اور ان دعاؤں کے طفیل جلد دوبارہ بلاوا آ جائے۔

دنیا بھر سے آئے ہوئے حجاج کرام کے علاج معالجہ کے حوالے سے جو دلچسپ، فکر انگیز اور روحانی تجربات و مشاہدات ڈاکٹر صاحب کے حصے میں آئے۔ وہ بھی کتاب کا حصہ ہیں اور پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے پاکستان میں 2005ء سے 2015ء تک آنے والے تمام زلزلوں، سیلابوں، IDPs کے مسئلے اور حال ہی میں وادئ کیلاش اور چترال میں سیلاب اور زلزلہ اور تھر میں پیدا ہونے والی صورت حال میں متاثرین کی بحالی، علاج معالجے اور مکانات کی تعمیر جیسے منصوبے مکمل کیے۔ ان دنوں وہ تھر میں کنوئیں بنوانے کے علاوہ چترال اور شانگلہ کے زلزلہ زدگان کی خدمت میں مصروف ہیں۔ کمال یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب خدمت خلق کے جذبے سے سرشار جہاں بھی اپنی ٹیم لے کر گئے متاثرین کے دلوں پر اپنے نقش مرتب کر کے لوٹے، گویا:

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

بہر طور میں واپس اپنے موضوع اور زیر بحث کتاب ’’اللہ، کعبہ اور بندہ‘‘ کی طرف لوٹتا ہوں۔ عام قاری کے لیے اس کتاب کی حیثیت ایک سفر نامہ کی ہی ہے اور یہی کتاب کے ٹائٹل پر لکھا بھی ہوا ہے۔ مگر کتاب مذکور ہی سے یہ چند سطور بطور اقتباس پیش کر کے آپ سے رخصت چاہوں گا اور پھر آپ خود ہی فیصلہ کیجیے۔ کیا یہ محض ایک سفر نامہ حجاز ہے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں۔ ’’اللہ، کعبہ اور بندہ‘‘ معلوماتی، واقعاتی یا مروجہ سفر ناموں کی طرح کوئی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ ایک تاثراتی تحریر ہے جس میں مکہ مکرمہ میں دوران حج، مقدس مقامات کے سفر اور آخر میں مدینہ منورہ میں مختلف مقامات کی زیارت کے دوران جو کیفیات دل پہ وارد ہوئیں، ان سب کا تذکرہ ہے۔

آگے چل کر ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں اس کتاب میں آپ کو عشق، مستی، جنون، وارفتگی، جذبے اور دیوانگی کی تماثیل ملیں گی۔ یہ سب دل کی باتیں ہیں اندر کی باتیں ہیں، میرے جذبات ہیں، میری سسکیاں ہیں، آہیں ہیں، کرلاٹیں ہیں، چیخیں ہیں، جذبات کا الاؤ جو کبھی ٹھنڈا نہیں ہو سکتا، جو کچھ دل پہ بیتا ان سب باتوں کو میں نے احاطہ تحریر میں لانے کی کوشش کی ہے۔ حرف آخر یہ کہ مندرجہ بالا اقتباسات ہی ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی تصنیف ’’اللہ، کعبہ اور بندہ‘‘ کا اصل و حقیقی تعارف ہیں کچھ عرصہ پیشتر جب ڈاکٹر صاحب کا جاپان کا سفر نامہ منصہ شہود پر آیا تھا تو اسے بھی بے حد پذیرائی ملی تھی مگر میری دانست میں ڈاکٹر آصف کی کتاب ’’اللہ، کعبہ اور بندہ‘‘ ایک ایسی تصنیف ہے جو روزِ محشر ڈاکٹر صاحب کے لیے آسانیوں کا باعث بنے گی میری رائے ہے کہ کوشش اور تردد کر کے اس کتاب کا مطالعہ کریں آپ خود کو سرزمین حجاز پر محسوس کریں گے اور یہی ڈاکٹر صاحب کی تحریر و اسلوب کا خوبصورت اعجاز ہے۔

مزید : کالم