ماہ مقدس رخصت،27ویں کی شب، چراغاں اور رات بھر عبادت ،دعائیں،مدینہ طیبہ اور دوسرے شہروں دھماکے، لاہور غمگین

ماہ مقدس رخصت،27ویں کی شب، چراغاں اور رات بھر عبادت ،دعائیں،مدینہ طیبہ اور ...

سیاسی ایڈیشن/لاہور کی ڈائری

لاہور سے چودھری خادم حسین

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ مکمل ہوا، آج ان سطور کی اشاعت کے روز عید الفطر کے بھی امکانات ہیں کہ گزشتہ روز مرکزی روئت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری تھا جب ایڈیشن تیار ہو کر اشاعت کے لئے گیا، سائنسی اصولوں کے تحت موسمیات اور ماحولیات کے ماہرین نے منگل(29رمضان المبارک) کو ہی چاند نظر آنے کے امکان کا ذکر کیا ان کے حساب سے بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں چاند نظر آسکتا ہے، ادھر سعودی عرب میں بھی بدھ ہی کو عید کے امکانات ہیں اوریوں اس مرتبہ سعودی عرب، مشرق وسطےٰ اور پاکستان میں بھی ایک ہی روز عید ممکن ہے، اس سے عام مسلمان مطمئن اور خوش ہیں اوردعاگو بھی ہیں کہ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

رمضان المبارک کا آخری عشرہ عبادت کا ہوتاہے، 21رمضان المبارک کو معتکف ہونے والے لاکھوں حضرات بھی چاند ہوجانے کی اطلاع کے بعد اعتکاف سے باہر آجاتے اور عید کے لئے گھروں کوروانہ ہوتے ہیں، اسی عشرے میں27ویں رمضان المبارک بھی ہے جسے لیلتہ القدر کی رات کہا جاتا ہے، اس سال بھی معمول کے مطابق مساجد اور گھروں میں بہت زیادہ عبادت کی گئی اور بڑے ہی خشوع وخضوع اور عاجزی سے ملکی حالات سدھرنے کے لئے دعائیں کی گئیں، مساجد کو روشنیوں سے بھی سجایا گیا تھا اور پورا عشرہ معتکف افراد نے عبادت کی اور دعائیں مانگیں، اللہ ملکی حالات کو سدھارے اور سب کو عید یک خوشیاں نصیب فرمائے۔

رمضان المبارک ہی کے حوالے سے ہمارے تاجر بھائیوں نے جو صورت حال پیدا کی وہ بڑی دکھ درد والی ہے کہ اس سال تو مہنگائی نے کمر ہی توڑ دی، یقین جانئے بے شمار روزہ دار پھل جیسی نعمت سے محروم رہے اور جو سفید پوش دو دو تین تین کلو اشیاء خریدتے تھے انہوں نے پاؤ پاؤ کے حسا ب سے لیں اور انتہائی مجبوری کے ساتھ گزارہ کیا، صرف فروٹ ہی نہیں، سبزیوں اور دالوں تک کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی تھیں، حتیٰ کہ ماش کی دال ممنوعہ اشیاء میں شامل ہوگئی کہ سودا خریدتے وقت یہ دال خریداری فہرست سے نکال دی گئی، صوبائی حکومت نے پانچ ارب روپے منظور کرکے رمضان بازاروں کے لئے آئے،چینی اور گھی کو سستا کیا اور یہ بھی بتایا کہ دوسری اشیاء بھی بازار کم قیمت پر دستیاب ہوں گی لیکن یہ بھی نہ ہو سکا، صارف اشیاء کے ناقص اور مہنگا ہونے کی شکایات ہی کرتے رہے، البتہ لاہور کے ڈی۔سی۔او نے رمضان بازاروں میں ایئر کولر اور ایئر کنڈیشنز لگوا کر داد وصول کرلی، بہر حال یہ وقت کسی نہ کسی طرح گزر گیا، اب شہریوں کو یہ توقع کہ عید کے بعد تو نرخ کم ہو کر معمول پر آجائیں، ہم بھی ان کے ساتھ دعا گو ہیں۔

لاہور میں یوں تو مظاہروں سے باعث ٹریفک جام کا مسئلہ بنتا ہی رہتا ہے لیکن آخری عشرے میں مارکیٹوں میں خریداری کے باعث بھی ٹریفک جام کے مناظر نظر آئے، اور پھر یہاں وی۔آئی ۔پی پروٹوکول نے ایک تنازعہ کھڑا کردیا جب عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ اس پروٹوکول کی زد میں آئیں، گلبرگ میں انہوں نے اپنی کارگزارنے کی کوشش کی تو پروٹوکول( سیکیورٹی) والوں نے نہ صرف ان کو روکا بلکہ ہراساں بھی کیا، ڈاکٹر عظمیٰ کی طرف سے ابتدائی طور پر الزام مریم نواز شریف پر لگا دیا گیا اور عمران خان نے بھی خبر چلنے پر کسی تحقیق کے بغیر احتجاج کردیا اور اپنے انداز بیان کے مطابق ہی فقرے بھی کہے۔ تاہم یہ معاملہ اب یوں سدھرا کہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ وی۔ آئی۔ پی آزاد کشمیر کے صدر سردار یعقوب تھے جن کے ساتھ فریال تالپور تھیں اور یہ حضرات بلاول ہاؤس لاہور کے کیئر ٹیکر عاصم گجر کے گھر تعزیت کے لئے آئے تھے، ڈاکٹر عظمےٰ نے دو روز بعد معاملہ صاف ہونے پر مریم نواز سے تحریری معذرت کرلی کہ ان کو گمراہ کیا گیا اور ساتھ ہی حکومت پنجاب سے مطالبہ کردیا کہ ان کو بچوں سمیت ہراساں کرنے کے واقع کی تحقیق کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اب مسلم لیگ(ن) کے راہنماؤں کو اس پر اکتفا کر لینا چاہیے کہ متاثرہ خاتون نے تحریری معذرت کی ہے لیکن وہ سیاسی حالات کی روشنی میں ادلے کا بدلہ چاہتے ہیں اور عمران خان سے بھی معذرت کے لئے کہہ رہے ہیں انہوں نے بھی تحقیق کے بغیر ہی الزام لگایا اور ناروا احتجاج کیا، عمران خان نے چپ سادھ لی ہے، بہر حال یہ مسئلہ ضرور پیدا ہوا کہ ایسی وی۔آئی۔پی موومنٹ کیا کہ عام شہری متاثر اور پریشان ہیں، اس سیکیورٹی والی کتاب پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

ادھر شائقین کر کٹ کے لئے یہ خبر غیر متوقع نہیں کہ بھارتی کرکٹ بورڈ والوں نے لندن میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پھر سے حکومتی اجازت کا عذر پیش کیا کہ پاک بھارت کر کٹ سیریز سرکار کی اجازت سے مشروط ہے، جو تاحال اجازت نہیں دے رہی، حالانکہ آئی۔ سی۔ سی کو کرکٹ کھیلنے والے تمام رکن ممالک کے درمیان مقابلوں کا شیڈول مرتب کرنا ہوتا ہے اور اس میں پاکستان اور بھارت شامل ہیں۔

یہ سطور مکمل ہو چکیں کہ سعودی عرب میں مدینہ طیبہ سمیت قطیف اور جدہ میں خود کش حملوں کی خبریں آگئیں، پورا ملک غم زدہ ہے اور مذمت کر رہا ہے، اللہ ان دہشت گردوں کو ہدائت دے۔

مزید : ایڈیشن 2