عید کے بعد سیاسی فلموں کا رش ہو گا

عید کے بعد سیاسی فلموں کا رش ہو گا
 عید کے بعد سیاسی فلموں کا رش ہو گا

  

عیدکا چاند نظر آگیا ہے۔ قوم آج عید منا رہی ہے۔مفتی منیب نے ایک ماہر سیاستدان کی طرح قوم کے اعصاب پر سوار ہو کر ہی عید کے چاند کا اعلان کیا ہے۔تا ہم چاند نظر آنے یا نہ آنے کی یہ فلم ہر سال کی طرح اس سال بھی ہٹ رہی ہے۔ اسے قومی سطح پر پذیر ائی ملی ہے۔ تا ہم پاکستانی ملک میں اور قائدین کی اکثریت بیرون ملک عید منائے گی۔عید پر ویسے تو سلمان خان کی فلم سلطان کی ریلیز کا شور ہے۔ اور یہ کہا جا رہا ہے کہ سلطان عید پر سرکٹ پر کھڑکی توڑ بزنس کرے گی۔ لیکن عید کے بعد سیاسی تھیٹر پر کئی ہٹ فلمیں لگنے والی ہیں۔ ایکشن سے بھر پور ساری فلموں میں سلطان راہی کا ایکشن ہو گا۔ ساری فلموں کے پروڈیوسرز نے رمضان کے ایک ماہ میں اپنی ا پنی فلموں کی بھر پور تیاری کی ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ سب فلموں کی پوری کہانیاں لکھی جا چکی ہیں۔ اپوزیشن کے تمام کرداروں کو ان کا کردار سمجھا دیا گیا ہے۔ دوسری طرف حکمران جماعت نے بھی اپنے کرداروں کو تمام کردار سمجھا دیا ہے۔لیکن ان کے ساتھ نان سٹیٹ ایکٹرز بھی اپنی فلم عید کے بعد سرکٹ میں لا رہے ہیں۔ سب نے اپنے ڈائیلاگ یاد کر لئے ہیں۔ فلموں میں خوب سٹنٹ ہو نگے۔ گانے بھی ہونگے۔

رومانوی سین بھی ہو نگے۔سب فلمیں سرکٹ میں بیک وقت نمائش کے لئے پیش ہو نگی۔ بظاہر الگ الگ بننے والی یہ فلمیں ایک دوسری سے جڑی ہوئی ہونگی۔پاناماان سب فلموں کا مرکزی خیال ہو گا۔ سب فلموں میں پانامہ کا شور ہو گا۔ احتساب کی گونج ہو گی۔

عید کے بعد پاکستان کا سیاسی منظر نامہ تیزی سے بدل جائے گا۔ اپوزیشن بھر پور فارم میں آنے کی تیاری کر رہی ہے۔ احتجاج کا بھر پور پلان تیا رہو گیا ہے۔ لیکن ایک ابہام ابھی باقی ہے کہ کیا اپوزیشن کی فلم میں دو بڑے ہیروز بلاول اور عمران خان اکٹھے جلوہ افروز ہو نگے۔ ان میں ہیرو کون ہوگا اور سائیڈ ہیرو کا کردار کون کرے گا؟ یا یہ دونوں بھی اپنی الگ الگ فلم ہی چلائیں گے۔ جب لاہور میں سٹیج ڈارمے عروج پر تھے۔ تو سٹیج پر امان اللہ اور عمر شریف کا طوطی بولتا تھا۔

دونوں کے ڈرامے ہاؤس فل رہتے تھے۔ اسی دوران میں نے امان اللہ سے پوچھا کہ آپ اور عمر شریف اکٹھے ڈرامہ کیوں نہیں کرتے؟ آپ دونوں کا مشترکہ ڈرامہ تاریخی ہٹ ہو گا۔ تو امان اللہ نے کہا کہ میرے نام پر بھی ہال بھر جا تا ہے۔ اور عمر شریف کے نام پر بھی ہال بھر جا تا ہے۔ ہم دونوں ایک ڈرامہ کریں گے تو تب بھی تو ایک ہی ہال بھرے گا۔ اس لئے اکٹھے ڈرامہ کرنا گھاٹے کا سودا ہے۔ اسی طرح کیا عمران اور بلاول اکٹھے فلم کر سکتے ہیں۔ایک کنٹینر گھاٹے کا سودا نہیں ہو گا۔ پھر کس کو زیادہ پذیر ائی مل رہی ہے۔ وہ بھی تو ایک مسئلہ ہو گا۔ بڑے اور چھوٹے ہیرو کا تنازعہ پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ اس لئے ایک کنٹینر دونوں کے مفاد میں نہیں ہے۔

عمران خان کے قریبی حلقے اور بلاول کے بھی قریبی حلقے ابھی تک اس ضمن میں ابہام کا شکار ہیں۔ عمران خان کی ٹیم نے بہر حال ایک متبادل پلان بھی تیار کیا ہے۔ اور وہ مسلم لیگ (ق) اور جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ تا کہ اپنی علیحدہ فلم بنائی جا سکے۔ عمران خان چودھری پرویز الہیٰ اور سراج الحق کے ساتھ فلم بنانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف بلاول بھی شاید عمران خان کے ساتھ فلم میں کام نہیں کرنا چاہتے۔ ایک تو یہ مسئلہ بھی ہے کہ بڑا ہیرو کون ہو گا؟

عید کے بعد دفاع پاکستان کونسل بھی اپنی فلم سرکٹ میں زیادہ زور سے لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ دفاع پاکستان کونسل نے اسلام آباد پر مارچ کی فلم کی تیار ی شروع کی ہے۔حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ دفاع پاکستان کونسل نے بھی اپنی فلم کا مرکز ی خیال پانامہ ہی رکھا ہے۔ کرپشن پر اس کا بیک گراؤنڈ میوزک ہو گا۔ اور اس میں بھی حافظ سعید۔ مولانا سمیع الحق ۔ سمیت دیگر اداکار اس فلم کو سجائیں گے۔ یہ فلم اس لئے ڈارک ہارس ہے گو کہ اس کا سیاسی سرکٹ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی یہ سیاسی سرکٹ پر توجہ حاصل کر سکتی ہے۔ بلکہ ایک محتاط اندازہ یہ بھی ہے کہ یہ سیاسی سرکٹ کی مرکزی فلم بھی بن سکتی ہے۔

حکمران جما عت نے بھی اپنی فلم تیار کر لی ہے۔ اس کا ٹریلر مارکیٹ میں آیا ہے۔ یہ فلم بھی سیاسی ایکشن سے بھر پور ہے۔ حکمران جماعت نے بھی اپنی فلم کو مار کٹائی اور ایکشن سے بھر پور رکھا ہے۔ اس فلم کا ٹریلر میاں شہباز شریف کی گفتگو سے سمجھا جا سکتا ہے۔ جس میں انہوں نے بلاول کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ چودھری نثار علی خان بھی اسی فلم کا سکرپٹ کافی عرصہ سے بول رہے ہیں۔

اپوزیشن کی فلمیں حکومت کی فلم کو فلاپ کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں۔ ان فلموں کا ایک ہی مقصد ہے کہ حکمران جماعت کی فلم کے ہیرو میاں نواز شریف کو سرکٹ سے آؤٹ کرنا ہے۔ جبکہ حکومت نے بھی اپنے ہیرو کو بچانے کے لئے فلم تیار کی ہے تا کہ اپوزیشن کی جانب سے ان کے ہیرو کو آؤٹ کرنے کی تمام چالوں اور فلموں کو ناکام کیا جا سکے۔

امید تو یہی ہے کہ عید کے بعد ان تمام فلموں کو عوام کی جانب سے پذیر ائی ملے گی ۔ جس فلم کو زیادہ پذیر ائی ملے گی اس فلم کے پروڈیوسر اور اس کے سکرپٹ رائٹرز کی کامیابی کے اتنے زیادہ امکانات ہیں۔ ماضی میں بھی عوام ایسی فلمیں دیکھ چکی ہیں۔ لیکن تب عوام نے فلم کو وہ پذیر ائی نہیں دی تھی جس کی سکرپٹ رائٹرز کو توقع تھی۔ اسی لئے اس بار کافی فلمیں بنائی جا رہی ہیں تا کہ عوام کی زیادہ سے زیادہ پذیر ائی حاصل کی جا سکے۔

مزید : کالم