تیری الفت میں جو ہیں سرشار ان کی عید ہے

تیری الفت میں جو ہیں سرشار ان کی عید ہے

عبدالرحمن عاجز مالیرکوٹلوی ؒ

ہے ہر ایک نیکی سے جن کو پیار ان کی عید ہے

ہر برائی سے جو ہیں بیزار ان کی عید ہے

رک گئے جو کھانے پینے اور ہر اک جرم سے

وہ حقیقت میں ہیں روزے دار ان کی عید ہے

جن کے دن گزرے تلاوت میں کلام اللہ کی

جو رہے رمضان میں شب بیدار ان کی عید ہے

ذکر تیرا، یاد تیری، تیرا غم، تیرا خیال

تیری الفت میں جو ہیں سرشار ان کی عید ہے

لب پہ گالی ہے نہ غیبت دل میں کینہ ہے نہ بغض

صاف ستھرا ہے جن کا کردار ان کی عید ہے

ہر طرف سے پھیر کر چہرہ جو تیرے بن گئے

بن گیا ہے جن کا تو دلدار ان کی عید ہے

جن کے دل میں ہے یتیموں اور بیواؤں کا غم

غم کے ماروں کے جو ہیں غمخوار ان کی عید ہے

سنّت ہی پیغام حق جو راہ حق پر چل پڑے

رحمت حق کے ہیں حقدار ان کی عید ہے

کام آتے ہیں جو ہر مسکین و حاجت مند کے

رکھتے ہیں جو جذبہ ایثار ان کی عید ہے

آنکھ پرنم، دل میں غم‘ اپنے گناہوں پر ملال

ہے زباں پر جن کے استغفار ان کی عید ہے

نیکیوں کے غم میں گزرے جن کے ایاّمِ صیام

دیکھ عاجزؔ وہ ہیں نیکوکار ان کی عید ہے

مزید : ایڈیشن 1