عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام

جناب مولانا ابوالکلام آزادؒ

دنیا کی ہر قوم کے لئے سال بھر میں دو چار دن ایسے ضرور آتے ہیں جن کو وہ اپنے کسی قومی جشن کی یادگار سمجھ کر عزیز رکھتی ہے اور قوم کے ہر فرد کے لئے ان کا ورود عیش و نشاط کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

مسلمانوں کا جشن اور ماتم، خوشی اور غم، مرنا اور جینا جو کچھ تھا اللہ کے لئے تھا۔ اوروں کا جشن نشاط لذائذ دنیوی کے حصول اور انسانی خواہشوں کے کام جوئیوں میں تھا مگر ان کے ارادے مشیت الٰہی کے ماتحت اور خواہشیں رضائے الٰہی کی محکوم تھیں۔

ان کو پیش گاہِ الٰہی سے طاعت و شکر گذاری کے جشن کے لئے دو دن ملے تھے۔ پہلا دن (عیدالفطر) کا تھا۔ یہ اس ماہ مقدس کے اختتام اور افضال الٰہی کے دور جدید کے اولین یوم کا جشن تھا جس میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے کلام سے مخاطب فرمایا:

اس مہینے کے آخری عشرے میں سب سے پہلے انہیں وہ نور صداقت اور کتاب مبین دی گئی جس نے انسانی معتقدات و اعمال کی تمام ظلمتوں کو دور کیا اور ایک روشن اور سیدھی راہ دنیا کے آگے کھول دی۔

یہی مہینہ اور یہی لیلۃ القدر تھی جس میں اسی الٰہی قانون کے مطابق نیابت الٰہی کا ورثہ بنی اسرائیل سے لے کر بنی اسماعیل کو سپرد کیا گیا۔۔۔ یہ نصب و عزل، عزت و ذلت، قرب و بعد اور ہجر و وصال کی رات تھی جس میں ایک محروم اور دوسرا کامیاب ہوا، ایک کو دائمی ہجر کی سرگشتگی اور دوسرے کو ہمیشہ کے لئے وصل کی کامرانی عطا کی گئی، ایک کا بھرا ہوا دامن خالی ہو گیا، مگر دوسرے کی آستین افلاس سے بھر دی گئی، ایک پر قہر کا عذاب نازل ہوا لیکن دوسرے کو اس محبت کے خطاب سے سرفراز کیا گیا۔

(وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ) (نور: ۵۵)

’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور عمل بھی اچھے کئے، اللہ کا ان سے وعدہ ہے کہ ان کو زمین کی خلافت بخشے گا جس طرح سے ان سے پیشتر کی قوموں کو اس نے بخشی تھی۔‘‘

پس یہ مہینہ بنی اسرائیل کی عظمت کا اختتام اور مسلمانوں کے اقبال کا آغاز تھا اور اس نئے دور اقبال کا پہلا مہینہ شوال سے شروع ہوتا تھا اس لئے اس کے یوم ورود کو ’’عیدالفطر‘‘ کا جشن ملی قرار دیا تا کہ افضال الٰہی کے ظہور اور قرآن کریم کے نزول کی یاد ہمیشہ قائم رکھی جائے اور اس احسان و اعزاز کے شکریے میں تمام ملت مرحومہ اس کے سامنے سربسجود ہو۔

مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ عیدالفطر کا جشن ملی! یہ ورود ذکر و رحمت الٰہی کی یادگار!یہ سربلندی اور بخشش کا یاد آور! یہ یوم کامرانی و فیروزی و شادمانی!

اس وقت تک کے لئے عیش و سرور کا دن تھا جب تک ہمارے سر، تاج خلافت سے سربلند ہونے کے لئے اور جسم، خلعت نیابت سے مفتخر ہونے کے لئے عزت و عظمت جب ہمارے ساتھ تھی اور اقبال و کامرانی ہمارے آگے دوڑتی تھی، خدا کی نعمتوں کا ہم پر سایہ تھا اور اللہ کی بخشی ہوئی خلافت کے تخت جلال پر متمکن تھے لیکن اب ہمارے اقبال و کامرانی کا تذکرہ صرف صفحات تاریخ کا ایک افسانۂ ماضی رہ گیا ہے۔

دنیا کی اور قومیں ہمارے لئے وسیلۂ عبرت تھیں لیکن اب خود ہمارے اقبال و ادبار کی حکایات اوروں کے لئے مقام عبرت ہیں۔ ہم نے خدا کی دی ہوئی عزت و کامرانی کو ہوائے نفس کی بتلائی ہوئی راہ ملت سے بدل دیا۔ اس کے عطا کئے ہوئے منصب خلافت کی قدر نہ پہچانی اور زمین کی وراثت و نیابت کا خلعت ہم کو راس نہ آیا، اب ہماری عید کی خوشیوں کے دن آگئے، عیش و عشرت کا دور ختم ہوگیا۔

اس دن کی یادگار ہمارے لئے جشن و طرب کا پیام تھی کیوں کہ یہی دن ہمارے لئے صحیفۂ اقبال کا اولین تھا، اسی تاریخ سے ہمارے ہاتھوں قرآنی حکومت کا دور جدید قلوب و اجسام کی زمین پر شروع ہوا تھا، اس دن کا طلوع ہم کو یاد دلاتا تھا کہ بداعمالیوں نے کیوں کر بنی اسرائیل کو دو ہزار سالہ عظمت سے محروم کیا اور اعمال حسنہ کے شرف و افتخار نے کیوں کر ہمیں برکات الٰہی کا مہبط و مورد بنایا؟ اس دن کا آفتاب جب نکلتا تھا تو ہمیں خبر دیتا تھا کہ کس طرح اللہ کی زمین نافرمانیوں کی ظلمت سے تاریک ہو گئی تھی اور پھر کس طرح ہمارے اعمال کی روشنی افق عالم پر نیرّ و درخشاں بن کر نمودار ہوئی تھی۔

اب یہ روز یادگار اگر یادگار ہے تو عیش و شادمانی کے لئے نہیں بلکہ حسرت و نامرادی کے لئے، اگر یاد آور واقعات ہے تو عطا و بخشش کی فیروز مندی کے لئے نہیں بلکہ ناقدری اور کفران نعمت کی مایوسی و حسرت سخی کے لئے، پہلے اس کامرانی کی یاد تھا کہ ہم دولت قبولیت سے سرفراز ہوئے، مگر اب اس نامرادی کی حسرت کو تازہ کرتا ہے کہ ہم نے اس کی قدر نہ کی اور ذلت و عقوبت سے دوچار ہیں۔ پہلے ہمیں اس ’’وقت سعادت‘‘ کی یاد تازہ کرتا تھا جو ہماری دولت و اقبال کا آغاز تھا اور اب اس دور مسکنت و ذلت کا زخم تازہ کرتا ہے جو ہماری عزت و کامرانی کا انجام ہے۔ پہلے یکسر جشن و نشاط تھا مگر اب یکسر ماتم و حسرت ہے۔ جشن تھا تو ’’قرآن کریم‘‘ کے نزول کی یادگار کا اور اب ماتم ہے تو اس قرآن کریم کی اس پیشین گوئی کا:

(وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا) (طٰہ:۱۲۳)

اور جس نے ہمارے ذکر سے روگردانی کی اس کی زندگی دنیا میں تنگ ہو جائے گی۔ پہلے اس کی بشارت کو یاد کر کے جشن مناتے تھے اور اب وہ وقت ہے کہ اس کی وعید کے نتائج کو گردوپیش دیکھ کر عبرت پکڑیں، اب عید کا دن ہمارے لئے عیش و نشاط کا دن نہیں رہا، البتہ عبرت و موعظت کی ایک یادگار ضرور ہے۔

(وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّصَرَّفْنَا فِیْہِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَہُمْ ذِکْرًا) (طٰہ:۱۱۳)

’’ایسا ہی ہم نے قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل کیا اور اس میں طرح طرح کی وعیدیں درج کیں تاکہ لوگ پرہیز گاری اختیار کریں یا اس کے ذریعے سے ان کے دلوں میں عبرت و فکر پیدا ہو۔‘‘

\\\\\

مزید : ایڈیشن 1