مدینہ منورہ سمیت سعودی عرب میں خود کش دھماکے

مدینہ منورہ سمیت سعودی عرب میں خود کش دھماکے

مقامِ تشکر ہے کہ خود کش حملہ آور کو مسجدِ نبویؐ میں داخل ہونے کی توفیق نہ ہوئی، اُسے اگر کامیابی ہو جاتی تو جانی نقصان زیادہ ہو سکتا تھا تاہم یکے بعد دیگرے کئی شہروں میں بیک وقت دھماکوں سے لگتا ہے کہ یہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا جا رہا تھا اور کسی ایک مقام پر تمام تر پلاننگ کے بعد مختلف مقامات پر دھماکوں کا فیصلہ کیا گیا، دوسرے شہروں میں تو جانی نقصان نہیں ہوا البتہ مسجدِ نبویؐ کی پارکنگ میں دھماکے سے پانچ اہلکاروں کی شہادت کا سانحہ پیش آ گیا۔ سعودی عرب میں قطیف کی کئی مساجد میں پہلے بھی دھماکے ہو چکے ہیں تاہم مسجدِ نبویؐ کی حرمت کو پامال کرنے کی کوشش پہلی مرتبہ کی گئی، اِس کوشش میں ایسے لوگ ہی ملوث ہو سکتے ہیں، جنہیں مسجدِ نبویؐ کے مقام و مرتبے اور حرمت کا کوئی پاس لحاظ نہیں ہو سکتا۔یہ حرکت ایسے وقت میں کی گئی جب مسجدِ نبویؐ میں افطاری ہو رہی تھی اور روزہ دار نمازِ مغرب کی تیاریوں میں مصروف تھے، نمازیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ اعتکاف کے لئے بیٹھے ہوئے تھے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں مسلمانوں کے مقدس مقام کی تقدیس کو نظر انداز کر کے اس طرح کی حرکت سے پورے عالم اسلام میں غم و غصے اور دِل گرفتگی کی لہر دوڑ گئی ہے، سوگوار لوگ زارو قطار روتے دیکھے گئے،وزیراعظم نواز شریف نے اِس واقعہ پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم اُمہ کے دشمنوں کے خلاف متحد ہونا ہو گا، مشکل گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی کہا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔

پاکستان اگرچہ طویل عرصے سے خود دہشت گردی کا شکار ہے تاہم آپریشن ضربِ عضب کے ذریعے اس عفریت پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے اور شمالی وزیرستان کے وسیع علاقوں کو دہشت گردوں سے خالی کرانے میں پاک فوج نے زبردست قربانیاں پیش کی ہیں البتہ مسلمانوں کے مقدس مقام پر ہونے والی دہشت گردی سے پاکستانیوں سمیت ہر مسلمان کا دِل دُکھی ہے اس وقت دہشت گردی نے کسی نہ کسی انداز میں پوری مسلم دُنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔عراق اور شام میں لاکھوں انسانی جانیں دہشت گردی کی نذر ہو چکی ہیں ابھی چند روز پہلے ترکی کے شہر استنبول میں ہولناک دہشت گردی میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بھی روح فرسا سانحہ پیش آیا۔ یمن کے بحران کے بعد سعودی عرب میں بھی کئی مقامات پر دھماکے ہوئے اور اب یہ سلسلہ مدینہ منورہ تک پہنچ گیا ہے تاہم مقامِ اطمینان ہے کہ سعودی شہریوں میں اِس حوالے سے کوئی پریشان نہیں۔دھماکے کے بعد بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے سحری تک معمول کے مطابق مسجدِ نبویؐ میں قیام کیا، جو لوگ عمرہ ادا کر کے روضۂ رسولؐ پر حاضری دیتے اور مدینہ منورہ میں قیام کے لئے جاتے ہیں اُن کا زیادہ وقت مسجدِ نبویؐ میں عبادات میں ہی گزرتا ہے، مقامی لوگ بھی رمضان میں مسجدِ نبویؐ میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اِس لئے خود کش حملہ آور نے مسجدِ نبویؐ پر حملے کے لئے ایسا وقت منتخب کیا جب حاضری اور حضوری بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس وقت کم و بیش آٹھ لاکھ فرزندانِ توحید مسجد میں موجود تھے۔

سعودی حکام اور سعودی عرب کے سیکیورٹی ادارے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے ہمیشہ مستعد، متحرک اور چوکس رہتے ہیں اُن کے سیکیورٹی انتظامات بھی ہمیشہ فول پروف ہوتے ہیں اور عموماً وہ اپنے انتظامات میں سیکیورٹی کا کوئی خلا نہیں رہنے دیتے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان حج کے لئے مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں اور رمضان المبارک میں تقریباً اتنی ہی تعداد میں لوگ عمرے کے لئے جاتے ہیں۔ اللہ رب العزت کے اِن مہمانوں کی خدمت اور آرام و آسائش کا سعودی حکام پورا پورا خیال رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے موقع پر بھگدڑ مچ جانے کے جو واقعات ہوئے ہیں اور جن میں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں، بعض حجاج کی بے خبری یا غفلت کی وجہ سے آنے جانے والے راستوں میں بدنظمی اور بھگدڑ مچی تو سعودی حکام نے بہتری کے لئے مزید اقدامات کر دیئے اِس لئے اب توقع ہے کہ ماضی کی طرح واقعات کا اعادہ نہیں ہو گا تاہم اب خود کش دھماکوں کے واقعات کے بعد سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کرنے ہوں گے۔ سعودی عرب میں غیر ملکی ملازمین اور ورکر لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں اِن کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اُن کے کِن لوگوں سے رابطے ہیں اور وہ کِن لوگوں کا آل�ۂ کار بن کر مُلک کے اندر گڑ بڑ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اِن سب پر گہری نظر رکھنے کے لئے سعودی حکام کو اپنے تمام تر سیکیورٹی پلان پر ازسر نو غور کرنا ہو گا۔ دہشت گردوں نے جو حکمتِ عملی اختیار کر رکھی ہے اس سے مسلمانوں کے مقدس مقامات بھی محفوظ نہیں، اِس لئے اِس ضمن میں کسی کوتاہی یا سُست روی کی کوئی گنجائش نہیں۔

سعودی عرب میں جزا و سزا کا انتہائی سخت نظام نافذ ہے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ مملکت کے طول و عرض میں امن و امان کی صورتِ حال بہت بہتر ہے، پورے مُلک میں چوری چکاری اور ڈاکہ زنی کا کوئی تصور نہیں، قتل کی وارداتیں بھی بہت کم ہوتی ہیں اور اگر کوئی واقعات رونما ہوں تو قاتلوں کی گردنیں اڑانے میں دیر نہیں کی جاتی، لیکن جو لوگ اپنی جان لینے اور خود کو اڑانے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں اُن کا معاملہ عام مجرموں سے مختلف ہے تاہم سعودی حکام سے امید ہے کہ وہ اِس مسئلے کا بھی کوئی بہتر حل تلاش کر لیں گے اور آئندہ سے ایسے انتظامات کریں گے کہ مقدس مقامات خود کش حملہ آوروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے محفوظ رہیں۔

مزید : اداریہ