بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا وفاق سے رجوع کرنے کا فیصلہ

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا وفاق سے رجوع کرنے کا فیصلہ

لاہور(شہباز اکمل جندران//خصوصی نمائندہ) سرکاری اداروں میں بجلی کے واجبات کی عدم ادائیگی کا رجحان بڑھنے پر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے عید کے بعد نادہندگان کے خلاف وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔واجبات 2سوارب روپے سے بھی بڑھ گئے ۔عوام کو بروقت بجلی کے بل ادا کرنے کی تلقین کرنے والے وفاقی ادارے 8ارب روپے،،چاروں صوبے سوارب روپے ، آزاد جموں و کشمیر 61ارب روپے اور کے الیکٹرک 35 ارب روپے کے نادہندہ ہیں۔دوسری طرف زیر استعمال اور منقطع کنکشنز کی مد میں ایک لاکھ روپے سے زائد کے نادہندہ صارفین کے خلاف نیب کو پہلے سے زیادہ اختیارات دینے کی سفارش کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ ملک میں سرکاری اداروں کے اندر بجلی کے واجبات بروقت ادا نہ کرنے کا رحجان کچھ زیادہ ہی بڑھنے لگا ہے۔ جس کے باعث ملک بھر میں سرکاری اداروں کے ذمے واجبات کی رقم دو سو ارب روپے سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ً پاکستان ً کو ملنے والی معلومات کے مطابق وفاقی اداروں کے ذمے بجلی کے واجبات 8ارب روپے سے زائد ہیں جن میں وفاقی ادارے 79کروڑ روپے ،وفاق کے ذیلی اداروں کے ذمے 7ارب روپے سے زائد واجبات ہیں ۔اسی طرح پنجاب کے مختلف سرکاری اداروں کے ذمے 4ارب 70کروڑ روپے ، کے پی کے ، کے ذمے 20ارب 49کروڑ روپے ،سندھ کے ذمے 70ارب 74کروڑ روپے اور بلوچستان کے ذمے 4ارب 69کروڑ روپے کے واجبات ہیں۔آزاد کشمیر کی حکومت کے ذمے 61ارب 22کروڑ روپے اور کے الیکٹرک کے ذمے 35ارب روپے کے واجبات بتائے گئے ہیں۔دوسری طرف یہ بھی علم میں لایا گیا ہے کہ ملک میں بجلی کے زیر استعمال کنکشنز کی مد میں 2لاکھ سے زائد ایسے صارفین ہیں۔ جن کے ذمے فی کس ایک لاکھ روپے سے زائد اور مجموعی طورپر55ارب روپے سے زائد بجلی کے واجبات ہیں اور وہ ادائیگی سے گریزاں ہیں۔ ان کے کیس نیب کو ارسال کردیئے گئے ہیں۔اسی طرح بجلی کے فی کس ایک لاکھ روپے سے زائد واجبات کے حامل مگر منقطع 10ہزار سے زائد کنکشنز کے کیس بھی نیب کو ارسال کئے گئے ہیں جن کے ذمے مجموعی طورپر 3ارب روپے سے زائد رقم کی ریکوری کا عمل زیر التوا ہے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے ریکوری کے لیے نیب کو زیادہ اختیارات دینے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تاکہ ایسے نادہندگان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔ جن کے ذمے فی کس ایک لاکھ روپے سے زائد رقم واجب الاد ا ہے۔اور ان کی نادہندگی ایک سال سے کم عرصے پر محیط ہے۔

مزید : صفحہ آخر