غیر قانونی طریقے سے لوگوں کو یورپ لیجانے والا انسانی سمگلر پکڑاگیا

غیر قانونی طریقے سے لوگوں کو یورپ لیجانے والا انسانی سمگلر پکڑاگیا
 غیر قانونی طریقے سے لوگوں کو یورپ لیجانے والا انسانی سمگلر پکڑاگیا

  

روم (نیوز ڈیسک) مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں جاری کشت و خون اور بھوک و افلاس سے ستائے ان ممالک کے لاکھوں شہری پناہ کیلئے یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔ بحیرہ روم پار کر کے یورپ پہنچنا ان کیلئے بے پناہ صعوبتوں اور آزمائشوں کا سفر ہے جس کیلئے انہیں انسانی سمگلروں کو بھاری رقم بھی ادا کرنا پڑتی ہے ، لیکن جو بدقسمت رقم ادا نہیں کر پاتے ان کے ساتھ ایسا لرزہ خیز سلوک کیا جاتا ہے کہ جس کے بارے میں سن کر ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔ اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق حال ہی میں گرفتار ہونیوالے انسانی سمگلر نوردین عطا نے انکشاف کیا ہے کہ جو تارکین وطن سمگلروں کو رقم ادا نہیں کار پاتے انہیں ایسے گروہوں کے ہاتھ بیچ دیا جاتا ہے جو انہیں قتل کر کے ان کے جسم سے اعضاء نکال کر بیچ دیتے ہیں۔ انسانی سمگلنگ کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا پانے والے نو ر دین عطا نے اطالوی پولیس کو بتایا کہ بحیرہ روم پار کروانے والے سمگلروں کو جو پناہ گزین رقم ادا نہیں کر پاتے انہیں 15000 یورو فی کس کے حساب سے ایسے گروپوں کو فروخت کیا جاتا ہے جو انسانی اعضاء نکالنے اور انہیں بلیک مارکیٹ میں فروخت کرنے کا کاروبار کرتے ہیں، جن میں مصری گروہ سرفہرست ہیں۔ ان انکشافات کے بعد اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 38 ایسے افراد کو گرفتار کر لیا ہے کہ جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ انسانی عضاء کی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔ گرفتار ہونیوالوں میں افریقی ملک ایریٹیریا کے 25، ایتھوپیا کے 12 اور اٹلی کا ایک شہری شامل ہے۔ نور دین عطا نے بھیانک انکشافات میں یہ بھی بتایا کہ پناہ گزینوں کی بحیرہ روم میں ہلاکتوں کے متعلق آنے والی خبریں اصل حقائق ظاہر نہیں کرتیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ موت کے منہ میں جانیوالوں کی تعداد میڈیا رپورٹس میں سامنے آنیوالی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ بحیرہ روم کے ذریعے یورپ کیلئے روانہ ہونیوالے ہر 10 میں سے 8 افراد کسی بھیانک انجام کے شکار ہو رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر راستے میں ہی ہلاک ہو جاتے ہیں اور جو سمگلروں کو رقم ادا نہیں کر پاتے انہیں انسانی اعضاء کے سفاک تاجروں کو بیچ دیا جاتا ہے،جو ان کے جسم سے اعضا ء نکالنے کے بعد ان کی کٹی پھٹی لاشوں کو گلنے سڑنے کیلئے پھینک دیتے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر