عراق میں برطانوی ساختہ جعلی بم ڈٹیکٹر آلے کا استعمال ممنوع قرار

عراق میں برطانوی ساختہ جعلی بم ڈٹیکٹر آلے کا استعمال ممنوع قرار
عراق میں برطانوی ساختہ جعلی بم ڈٹیکٹر آلے کا استعمال ممنوع قرار

  

بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ دس سال سے عراق کی سکیورٹی فورسز ایک ایسے برطانوی ساختہ بم ڈٹیکٹر کے ذریعے چیکنگ اور سکیورٹی کے فرائض سرانجام دینے میں مصروف ہیں کہ جسے کئی سال قبل جعلی قرار دیا جاچکا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عراق میں اب تک لاکھوں افراد دہشت گردی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں اور کبھی بھی کسی مشکوک شخص کا قبل از وقت پتہ نہیں چلایا جاسکا۔ اسی جعلی آلے کے ساتھ چیکنگ کا نتیجہ تھا کہ مرکزی بغداد میں ایک حالیہ حملے میں 157 افراد لقمہ اجل بن گئے، جس کے بعد ملک کے وزیراعظم حیدر العبادی نے برطانوی ساختہ جعلی بم ڈٹیکٹر آلے کا استعمال ممنوع قرار دے دیا ہے۔ اخبار دی گارڈین کے مطابق عراقی وزیراعظم نے 2007ء سے 2010 ء کے دوران بم ڈٹیکٹر آلات کی فروخت میں ہونے والی کرپشن کی از سرنو تحقیقات کا حکم بھی جاری کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق برطانوی شخص جیمز میک کارمک کے تیار کردہ بم ڈٹیکٹر کے بارے میں حتمی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ یہ جعلی ہے اور اس کے ذریعے کسی بھی قسم کے دھماکہ خیز مواد کا پتہ چلانا ممکن نہیں۔ عالمی میڈیا میں ان انکشافات کے باوجود عراقی حکام نے برطانوی بزنس مین جیمز میک کارمک کی کمپنی سے یہ آلات ساڑھے پانچ کروڑ پاؤنڈ (تقریباً 8 ارب پاکستانی روپے) کی خطیر رقم میں درآمد کئے۔واضح رہے کہ میک کارمک کے تیار کردہ بم ڈٹیکٹر کے جعلی ثابت ہونے پر اسے 10 سال قید کی سزا بھی ہوچکی ہے، لیکن یہ آلات دنیا کے کئی ممالک میں اب بھی استعمال ہورہے ہیں، جن میں بدقسمتی سے پاکستان بھی شامل ہے۔ ہمارے ہاں بھی اہم اور حساس نوعیت کے مقامات، خصوصاً ائرپورٹوں پر پر اہلکار اسی آلے کے ساتھ لوگوں کو سکین کرتے نظر آتے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ متعدد ترقی پذیر ممالک میں دہشت گردی کے واقعات کی بڑی تعداد کے پیچھے ایک وجہ جیمز میک کارمک کا تیار کردہ جعلی بم ڈٹیکٹر بھی ہے، جسے ان ممالک کے حکام مہنگے داموں خرید کر اپنے عوام کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر