کرپٹ بیورو کریسی بینکوں سے رقوم نکلوا نے ،اکاؤنٹس کلوز کرانے لگی

کرپٹ بیورو کریسی بینکوں سے رقوم نکلوا نے ،اکاؤنٹس کلوز کرانے لگی

ملتان(ملک اعظم سے)انسداد رشوت ستانی کے اداروں کی جانب سے ملک میں کرپشن،اختیارات کئے ناجائز استعمال،لینڈ (بقیہ نمبر26صفحہ12پر )

مافیا،ٹیکس چوروں کیخلاف مہم تو شروع کررکھی ہے لیکن یہ کارروائیاں نہایت سست روی کا شکار ہیں۔اس طرح کی سست ترین کارروائیوں نے بھی کالے دھن کو بینکوں میں محفوظ کرنے والوں کی نیندیں حرام کررکھیں ہیں کہ کہیں بینک حکام ان کے اکاؤنٹس کی تفصیلات تفتیشی حکام کے حوالے نہ کریں۔اس پریشانی سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے کرپٹ بیورو کریسی،ٹیکس چوری میں ملوث صنعتکاروں،تاجروں اور رئیل اسٹیٹ کے بزنس کرنے والوں نے اچانک بینکوں سے اپنی رقوم نکلوانا شروع کردیں اور اکاؤنٹس کلوز کرنا شروع کررکھے ہیں یہ معلوم ہوا ہے بیورو کریسی کی کثیر تعداد اس کمیشن اور رشوت کے کام میں ملوث ہے پہلے پہل بیورو کریسی نے اپنے شتہ داروں اور بھائی بہنوں کے نام پر غیر قانونی اثاثہ جات اپنے پر منتقل کروالئے تھے۔جب سے نیب،ایف آئی اے کے غیرقانونی اثاچہ جات رکھنے والے حاضر سروس اور ریٹائرڈ بیورو کریٹس،سیاست دانوں پر معائنہ ڈالا تو انکی نیندیں اڑگئیں۔جس پر ان لوگوں نے اپنے اربوں روپے بچانے کیلئے طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ان لوگوں نے اپنے کالے دھن کو اب نقدی کی صورت میں جمع کررکھا ہے بعض نے اپنے سرکاری گھروں میں کرنسی نوٹوں کو محفوظ کررکھا۔تو بعض نے اپنے دوستوں کو اس مقصد کیلئے آزما رکھا ہے۔بتایا جاتا ہے مارکیٹ سے اس وقت بڑے نوٹ یعنی پانچ ہزار والے نوٹ اچانک غائب ہونا شروع ہوگئے کیونکہ کرپٹ بیورو کریسی اور ٹیکس چوری میں ملوث صنعتکاروں ، تاجروں ، لینڈ مافیا اپنی رقم پانچ پانچ ہزار والے نوٹ کی شکل میں محفوط کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں اس لئے پانچ ہزار والے نوٹ بلیک میں5500سے5800روپے میں مل رہے ہیں مالیاتی اداروں کے انتظامی افسران بھی پریشان ہیں کہ ایک طرف بڑے اکاؤنٹس ہولڈرز اپنے کھاتے بند کررہے ہیں تو دوسری طرف ہارڈ کیش اچانک مارکیٹ سے غائب ہورہا ہے اور وہ بھی 5ہزار اور1ہزار والے نوٹوں کی صورت میں نوٹ گھروں پر محفوظ کررکھے ہیں بلکہ ان کے نزدیک پرائز بونڈ کالے دھن کو محفوظ کرنے کی بڑی وجہ ہے اس لئے مارکیٹ سے بڑی کرنسی نوٹوں کیطرح بڑے پرائز بونڈ بھی اچانک غائب ہورہے ہیں۔جس تناسب سے کیش نہیں کرائے جارہے۔کالے دھن کے کاروبار میں ملوث اس مافیا نے40ہزار،25ہزار اور15ہزار روپے کی مالیت کے بونڈز خرید کرگھروں میں محفوظ کررکھے ہیں اور اپنے آپ کو مفلس ظاہر کررکھا ہے۔معلوم ہوا ہے اس وقت گورنمنٹ سیکٹر کے افسران اور اہل کاروں کے نزدیک پرائز بونڈ کالے دھن کو محفوط کرنے کا بہترین طریقہ کار ہے۔مارکیٹ میں بڑے کرنسی نوٹوں کیطرح بڑے پرائز بانڈ بھی آہستہ آہستہ بلیک میں فروخت ہونا شروع ہوچکے ہیں معلوم ہوا ہے کرپشن اور غیرقانونی اثاثہ جات کو محفوظ بنانے والوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے افسران اور اہلکاروں کی شرح90فیصد ہے جبکہ ٹیکس چوری میں ملوث بڑے صنعتکاروں اور تاجروں میںیہ تناسب بہت زیادہ بتایا جاتا ہے کہ کالے دھن کو محفوظ کرنے کیلئے سونا گولڈ ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔گولڈ کی قیمت بڑھنے کے پیچھے بھی یہی عوامل کار فرما ہیں۔سونے کے بسکٹ خرید کر اسے بھی اپنے گھروں کے تہہ خانوں میں محفوظ کرلیا جاتا ہے۔جبکہ بعض افراد اپنے رشتہ داروں کے لاکرز میں رکھ دیتے ہیں سونے کی اچانک ڈیمانڈ میں اضافہ سے اس قیمت فروخت اچانک42ہزار روپے سے بڑھ کر 50 ہزار روپے تک جاپہنچی ہے۔معلوم ہوا ہے جس بڑی تعداد میں گولڈ خریدا جارہا ہے۔عنقریب اس کی قیمت 60 ہزار روپے سے کراس کرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ کرپشن کی رقم محفوظ کرنے کی سب سے بڑی وجہ انسداد رشوت ستانی کے اداروں سے بچنا ہے۔معلوم ہوا ہے وفاقی حکومت کے اداروں میں ایف بی آر،سوئی گیس،سی ڈی اے،این آئی اے،نادرا،وزارت خارجہ،وزارت خزانہ،انکم ٹیکس،کسٹم،سمیت درجنوں ایسے محکمہ ہیں جن کے افسران اربوں روپے مالیت کے اثاچہ جات کے مالک ہیں جبکہ صوبوں میں وزارت خزانہ،صحت،ہوم ڈیپارٹمنٹ،پولیس،خفیہ اداروں کے انتظامی نمائندوں ریونیو ڈیپارٹمنٹ،ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن،خودمختیار ا د ا ر ے،بلڈنگز،ہائی ویز،زراعت،کواپریٹو سوسائٹیز،انٹی کر پشن اسٹیبلشمنٹ،ٹاؤنز،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سمیت د ر جنوں اداروں کے افسران کالے دھن کو محفوظ بنانے کیلئے گولڈ،نقدی اور پرائز بونڈ کی شکل میں محفوظ بنانے میں ملو ث ہیں۔اس طرح ملتان کی غلہ مندی، لکڑ منڈی اور صر ا فہ مارکیٹ کے تاجر بھی بینکوں سے اربوں روپے نکلوا کر پر ائز بونڈ،کیش اور سونے کی شکل میں محفوظ کررہے ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر