بداخلاقی کا شکار ہونیوالی دوشیزہ کو دوبارہ اغواء کرنے کی کوشش

بداخلاقی کا شکار ہونیوالی دوشیزہ کو دوبارہ اغواء کرنے کی کوشش

لودھراں (بیورو نیوز) نواحی علاقہ جلال آباد کی رہائشی 14سالہ ثمینہ بی بی دختر ملک شریف اپنے گھر میں موجود تھی کہ ان کا ایک قریبی رشتہ دار پیر بخش ان کو ملنے آیا اور اس نے چائے پینے کی خواہش کا اظہار کر دیا ۔ جس پر گھر والوں کے کہنے پر ثمینہ بی بی چائے بنا کر لے آئی اور اس دوران پیر بخش(بقیہ نمبر40صفحہ12پر )

نے تمام اہل خانہ کی نظروں سے بچ کر چائے میں نشہ آور چیز ملا دی اور ا س چائے کو تمام گھر والوں نے پی لیا جبکہ پیر بخش نے معاً چائے نہ پی اور پھر ظفر ولد غلام یٰسین ، مولوی سکندر، پیر بخش ، رمضان ، تسلیم مائی ، یٰسین وغیرہ ثمینہ کو اغواء کر کے لے گئے جس کا مقدمہ نمبر 93/16 تھانہ گیلے وال میں درج کر دیا گیا ۔ اس دوران ملزمان ظفر وغیرہ ثمینہ بی بی کو ایک کار میں سوار کرا کر جھنگ شہر لے گئے جہاں پر ظفر موہانہ سمیت 4نا معلوم افراد مبینہ طور پر ثمینہ سے اجتماعی زیادتی کرتے رہے ۔ اور ثمینہ پر دباؤ دیتے رہے کہ وہ مختلف کاغذات پر دستخط کر دے تو ٹھیک ہے ورنہ اسے اور اس کے بھائی کو قتل کر دیا جائیگا۔ اور ملزمان نے یہ بھی کہا کہ وہ ان کے حق میں بیان بھی دے گی۔ ثمینہ بی بی نے ان کے خوف اور دباؤ میں آکر زبردستی کا غذات پر دستخط اورانگوٹھا جات ثبت کردیئے ۔ ملزمان نے مبینہ طورپر جعلی نکاح نامہ بنایا جس مٰں بطور گواہ غلام یٰسین کانام سلکھ دیا جو سعودی عرب یں ملازمت کرتاہے جبکہ دوسرے گواہ محمدقاسم کی ولدیت غلط لکھ دی جنہیں اس بارے میں نکاح کا کوئی پتہ تک بھی نہیں تھا۔ بوگس اور غلط کاروائی اور دستاویزات تیارکرنے کیبعد ملزمان ثمینہ بی بی کو لودھراں کے نواح چک مجاہد کے قریبی جنگل میں لے کر آئے جہاں سے وہ اپنے گھرپہنچ گئی جہاں سے والدین نے ثمینہ بی بی کو عدالت میں پیش کردیا۔ گزشتہ رات ثمینہ بی بی اپنے دیگر گھروالوں اور اپنے بھائی عمران کے ساتھ گھرمیں سوئی ہوئی تھی کہ اچانک رات گئے ظفر موہانہ ، شکور ولد خدابخش موہانہ سمیت 4موٹر سائیکلوں اور ایک کار پر سوار ہوکر ملزمان آئے اور ملزمان نے ثمینہ بی بی کے نزدیکی گھروں کے دروازوں پر کنڈیاں لگادیں اور ان کے گھر میں دیوار پھلانگ کر داخل ہوگئے اور ثمینہ بی بی کو اغواء کرنا چاہتے تھے کہ ان کے شوروواویلا پر اس کا بھائی محمدعمران بھی جاگ گیا جس نے مزاحمت کی اور اپنی بہن کو ظفر کے چنگل سے چھڑانے کی کوشش کی توملزمان نے پسٹل سے فائر کر کے اسے شدید زخمی کردیا۔ جس سے وہ گرپڑا اور اس دوران اہل محلہ اور دیگر گھروالے بھی آگئے جنہیں آتا دیکھ کر ملزمان اسلحہ لہراتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ثمینہ بی بی جس کی چھوٹی بہن جو گونگی ہے اسے بھی ملزمان نے شدید زدوکوب کیا۔ اور فرار ہوتے وقت دھمکی بھی دی کہ وہ ثمینہ کو اٹھا کرلے جائیں گے اور محمد عمران کوجان سے مار ڈالیں گے اس بارے میں ثمینہ کے گھر والوں نے پولیس کو اطلاع کر دی جس پر DSPصدر عبدالرحیم لغاری نے فوری کاروائی کرتے ہؤے ملزمان کی گرفتار کے لئے چھاپے مارنا شروع کردیئے ہیں اورملزمان کے خلاف مقدمہ درج کردیاہے جبکہ ملزمان ظفر۔ شکورموہانہ وغیرہ سمیت نامعلوم افراد کے خلاف مزید کاروائی کرنے کا بھی حکم جاری کردیاہے۔ اس موقع پر ثمینہ بی بی نے بتایاکہ ظفر موہانہ وغیرہ نے مجھے اسلحہ کے زور پر پہلے بھی اغوا کیا اور برباد کردیاہے اور اب ہم غریبوں کا جینا دوبھرکردیاہے ملزمان کے خوف سے ہماری زندگی اجیرن ہوگئی ہے ۔ اور اگر ظفرموہانہ وغیرہ کو گرفتارکرکے سخت کاروائی نہ کی گئی تو وہ DPOآفس کے سامنے خود سوزی کرے گی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر