امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے پر 206 ملین ڈالرز خرچ ، مساجد پر حملے بڑھ گئے

امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے پر 206 ملین ڈالرز خرچ ، مساجد پر حملے ...
امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے پر 206 ملین ڈالرز خرچ ، مساجد پر حملے بڑھ گئے

  


ٹیکساس (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے تمام انسانوں کے حقوق کا چیمپیئن بننے کے سب سے بڑے دعویدار اور مسلمانوں کو شدت پسندی کے طعنے دینے والے امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف کتنی نفرت پائی جاتی ہے اس بات کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں مسلمانوں کے خلاف نفرت پروان چڑھانے کیلئے 206 ملین ڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں۔

مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے حوالے سے کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (کیئر) اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے نے ایک تحقیق کی ہے اور اپنی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں اسلام کا خوف اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں 74 گروپ مصروف ہیں جو 2008 سے 2013 کے دوران مجموعی طور پر 206 ملین ڈالر ( 21 ارب پاکستانی روپے) خرچ کرچکے ہیں۔

کیمرے پر پکڑا جانے والا یہ شخص مسجد میں کیا ناپاک چیز پھینک رہا ہے؟ جان کر آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

رپورٹ کے مطابق ان گروہوں میں سے 33 گروپوں کا بنیادی مقصد مسلمانوں اور اسلام کے خلاف تعصب یا نفرت کو فروغ دینا ہے۔رپورٹ کی مصنفہ کا کہنا ہے کہ یہ گروپ جس انداز سے نفرت کی آگ بھڑکارہے ہیںاس کے نتائج امریکہ میں مساجد پر بڑھتے ہوئے حملوں اور مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ قوانین کی شکل میں ظاہر ہورہے ہیں۔

دنیا کا وہ ملک جہاں اسلام پہلی مرتبہ پاکستانیوں نے پہنچایا

مصنفہ نے مزید بتایا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے والے گروپوں کاواشنگٹن میں واقع ”سینٹر فار سیکیورٹی پالیسی“ اور ”ایکٹ فار امریکا“ نامی اداروں کا سب سے زیادہ اثرو رسوخ ہے۔ سینٹر فار سیکیورٹی پالیسی اور ڈیوڈ ہارووٹز فریڈم سینٹر نے گزشتہ دنوں سینیٹر جیف سیشنز کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا۔ جیف سیشنز کا تعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزری کمیٹی سے ہے اور ٹرمپ کے صدر بن جانے کی صورت میں ان کے نائب صدر بننے کا قوی امکان ہے۔

سعودی عرب میں مسجد کے باہر برقعہ پہن کر بھیک مانگنے والی خاتون دراصل مرد نکلا

رپورٹ میں 2 اور مسلم دشمن نام، جوزف شمٹز اور ویلڈ فاریز بھی ایکٹ فار امریکا کے بورڈ ممبر رہ چکے ہیں۔ اسی رپورٹ میں اسلام مخالف بلوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو امریکا کی 10 ریاستوں میں قانون کے طور پر نافذ ہوچکے ہیں۔واضح رہے کہ امریکہ میں 2015 کے دوران ایسے 78 واقعات منظرِ عام پر آئے جن میں بطور خاص مساجد کو نشانہ بنایا گیا اور یہ کسی بھی ملک میں مساجد پر حملوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی ہے۔

6 سالہ پاکستانی بچہ جس نے اتنی سی عمر میں بڑے بڑے پروفیسروں کو بھی مات دے دی، تفصیلات جان کر آپ کی حیرت کی انتہا رہے گی نہ فخر کی

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں