ٹکٹوں کی تقسیم میں ناانصافی کے باوجود (ن) لیگ اور ایم ایم اے سے اتحاد قائم رہے گا : ساجد میر

ٹکٹوں کی تقسیم میں ناانصافی کے باوجود (ن) لیگ اور ایم ایم اے سے اتحاد قائم رہے ...

  

لاہور (سٹی رپورٹر) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان اور ایم ایم اے کے نائب صدرسینیٹر پروفیسر ساجد میر نے 2018 ء کے انتخابات کے حوالے سے پارٹی پالیسی کا اعلان کردیا ہے ۔ مرکز اہل حدیث 106 راوی روڈ سے جاری ویڈیو پیغام میں اپنے کارکنان اورووٹرز سے مخاطب ہوکر انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے اور مسلم لیگ ن دونوں نے ٹکٹوں کی تقسیم پر ہمارے ساتھ نا انصافی کا مظاہرہ کیا لہذا آپ کی اولین ترجیح پارٹی امیدوار ہونے چاہییں۔ پھر ایم ایم اے اور ن لیگ کے دیگر امیدوار۔ پروفیسر ساجدمیر کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے ہماری حق تلفی کی ہے اور حق دینے میں شدید کوتاہی کا ارتکاب کیا ہے ۔ مگر ہم ایک جمہوری اور شورائی جماعت ہیں ہماری مجلس شوریٰ مسلم لیگ ن کو دیگر جماعتوں کی نسبت اسلام اور پاکستانیت کے حوالے سے قریب سمجھتی ہے ، لہذا ہم ان سے اتحاد توڑ نہیں سکتے۔ ہم بطور حلیف جماعت مسلم لیگ ن کا ساتھ دیتے رہیں گے ۔ دینی جماعت ہونے کے ناتے اور ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایم ایم اے کے ساتھ 2002 میں بھی ہمارا انتخابی اتحاد ہوا تھا اور آج 2018 ء میں بھی انتخابی اتحاد ہے ۔ مگر ماضی کی نسبت اس بار ایم ایم اے نے بھی ہمارے ساتھ ناانصافی کی جتنا ہمارا حق بنتا ہے اس قدر حصہ نہیں دیا۔ بدقسمتی سے ایم ایم اے کی دو سرکردہ جماعتوں نے ہمارے ساتھ ایثار تو دور کی کی بات انصاف سے بھی کام نہیں لیا ۔مگر ملکی مفاد اور جمہوریت کے استحکام کی خاطر ہمار اتحاد ایم ایم اے سے بھی برقرار رہے گا ۔ ہمارے قومی اورصوبائی امیدواروں کی اکثریت ایم ایم اے کے نشان پر الیکشن لڑ رہی ہے تاہم بعض حلقوں میں ہمارے امیدوار آزاد حیثیت سے بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔

ساجد میر

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -