’’خانی‘‘ کی آخری قسط نے مقبولیت کا نیا ریکارڈ قائم کردیا

’’خانی‘‘ کی آخری قسط نے مقبولیت کا نیا ریکارڈ قائم کردیا

  

لاہور(فلم رپورٹر)نجی ٹی وی سے نشر کی جانے والی ڈرامہ سیریل’’خانی‘‘ کی آخری قسط نے مقبولیت کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی تاریخ میں ایک اور سنگ میل عبور کرلیا ہے۔آخری قسط کی ریٹنگز نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ خانی کی اختتامی قسط سب سے زیادہ دیکھے جانے والی قسط بن گئی۔اس ڈرامے نے ریٹنگز چارٹس کو تہس نہس کرکے تمام ڈراموں کو پیچھے چھوڑ دیا اور اپنی مقبولیت کی دھاک بٹھادی۔ عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی کی نگرانی میں بننے والے ڈرامے نے انڈسٹری میں کامیابی کی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔ پیک ریٹنگ17.6، کانٹینٹ ریٹنگ 14.3 رہی جو پاکستانی میڈیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا نجی ٹی وی کا بلاک بسٹر سیریل ’خانی‘ اپنی آخری قسط میں بھی ترقی اور کامیابی کی نئی منزلوں پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا اور اپنے اختتامی لمحات میں بھی یہ ڈرامہ انڈسٹری کا نیا اور منفرد ریکارڈ قائم کرگیا۔ناقابل فراموش کہانی کے ذریعے دْنیا بھر کے کروڑوں ناظرین نے ’’ہادی ‘‘ کا خوشگوار انجام دیکھا۔ 2? جولائی کو 8 بجے سے 9 بجے کے درمیان نشر ہونے والی اختتامی قسط کی مصدقہ چارٹ کے مطابق ہائی ایسٹ ایور پیک ریٹنگ 17.6 ریکارڈ کی گئی جبکہ ایوریج کونٹینٹ ریٹنگ 14.3 اور ایوریج ٹائم سلوٹ ریٹنگ 11.9 رہی جو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا نیا اور بہت بڑا ریکارڈ ہے۔

پاکستان سمیت دْنیا بھر میں موجود کروڑوں لوگوں کی جانب سے اس ڈرامے کو پسند کرنے پر سیونتھ اسکائی انٹرٹینمنٹ کی انتظامیہ نے ناظرین کا شکریہ ادا کیا ہے۔ڈرامہ سیریل’’خانی‘‘نے شروع سے ناظرین کی توجہ مبذول کرالی تھی اور اس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ڈرامے کی آخری قسط میں جب میر ہادی کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا جاتا ہے تو اس وقت ناظرین دھاڑیں مار کر رونے لگے تاہم ڈرامے کا اختتام توقع کے عین مطابق ہوا ۔میرہادی کا کردار کرنے والے فیروزخان کو شاندار پرفارمنس پر لاکھوں لوگوں نے مبارکباد دی ہے جبکہ ان کی والدہ کا کردار کرنے والی اداکارہ ثمن انصاری کی پرفارمنس بھی اس قسط میں ناقابل فراموش رہی۔فیروز خان کے ساتھ ساتھ ثنا خان کی پرفارمنس بھی یادگار رہی۔اس سیریل کی رائٹر اسماء نبیل اور ڈائریکٹر انجم شہزاد تھے۔سیریل کا ٹائٹل سانگ راحت فتح علی خان نے گایا تھا۔

مزید :

کلچر -