سیاسی رہنما،مہذب انداز، دیانتداری اور سادگی اپنائیں

سیاسی رہنما،مہذب انداز، دیانتداری اور سادگی اپنائیں

  

سیاسی قیادت کسی ملک کے مختلف شعبوں میں حالات درست یا خراب کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا میں واقع ایک بڑا ملک ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر یہاں کے سیاست کاروں کو اپنے بیشتر فروعی اختلافات کو بھلا کر معاشی، دفاعی، تعلیمی اور ثقافتی معاملات پر اپنی خصوصی توجہ اور تحقیق مرکوز کرنا اب تو روز بروز غیر معمولی نوعیت کا میدان بنتا جارہا ہے ہمارے مشرق میں بھارت کا مسلسل جارحانہ انداز اور مغرب میں افغانستان اور امریکہ بہادر کا بھی کم و بیش ویسا ہی ظالمانہ وطیرہ ملکی دفاع و تحفظ کے لئے مسلسل خطرات کے حالات پیدا کرنے کے موجب بنتے رہتے ہیں۔ بھارتی حکمران، تنازع کشمیر پر اپنی ہٹ دھرمی اور غیر منصفانہ پالیسی کی بناء پر مہذب دنیا اور اقوام متحدہ کے 193ء ممالک کے حکمرانوں کو اپنی کھلی بددیانتی پر مبنی بیان بازی سے، مسلسل دھوکا دہی کے ارتکاب سے گمراہ کررہے ہیں، حالانکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئی بار کی منظورشدہ قراردادوں پر عمل کرنے کی بجائے، بھارتی حکمران اپنی روایتی ڈھٹائی اور بے شرمی سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ایک کروڑ اور 40لاکھ لوگوں کو حق خودارادیت کے استعمال کا موقع دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

یہ امر باعثِ تعجب ہے کہ امریکہ بہادر، برطانیہ، فرانس، روس اور چین جو سلامتی کونسل کے ویٹو اختیارات رکھنے والے، پانچ مستقل رکن ممالک ہیں،وہ بھی بھارتی حکمرانوں کی تاحال عدم تعاون پر مبنی، جارحانہ پالیسی کے سامنے، بے بس اور غیر موثر ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس طرح خطہ ء جنوبی ایشیا میں قیام امن کے امکانات اکثر اوقات، خدشات اور خطرات کے رونما ہونے سے دوچار رہتے ہیں۔ ایسے حالات مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ تقریباً 70سال سے جاری ہیں، ظلم و تشدد کے باوجود وہاں کے عوام کے دلوں میں آزادی کی خواہش اور تڑپ کا جذبہ کسی لحاظ سے بھی کم یا ماند نہیں پڑا، بلکہ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ اس میں کئی گنا زیادہ اضافہ ہو گیا ہے،کیونکہ وہاں کے حریت پسند، شب و روز، حصولِ آزادی کے لئے احتجاجی مظاہرے اور اجلاس کرنے کے علاوہ مختلف مقامات پر جلوس نکال کر بھی بھارتی سیاسی قیادت کو مائل کرنے کے لئے عالمی ادارے کی قراردادوں کے احترام میں ان پر عملدرآمد کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن بھارتی ردِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اہل کشمیر پر ظلم و تشدد کے حربوں سے سردست باز آنے پر تیار نہیں۔ ان حالات سے عیاں ہے کہ اس خطہ ء ارض میں بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی اور محاز آرائی کے حالات کسی وقت بھی بگڑ کر کھلی معرکہ آرائی میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ایسے تاثرات کا اظہار آئے دن ، قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں پڑھنے اور سننے میں آتا رہتا ہے۔ یہ حالات اگر قابو میں نہ لائے گئے تو خدانخواستہ بھارت اور پاکستان میں کسی وقت بھی خوفناک باہمی چپقلش اور جنگ و جدل کے واقعات تک نوبت پہنچ سکتی ہے۔

اب چونکہ یہ دونوں ممالک ایٹمی قوت رکھتے ہیں، اس لئے ایسی جنگ اگر چھڑ گئی تو اس کی تباہ کاریوں سے محض بہت مختصر وقت میں لاتعداد قیمتی انسانی جانوں کے علاوہ اربوں اور کھربوں روپے مالیت کی املاک بھی تباہ و برباد ہو کر خاک اور ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ ایسے المناک نتائج کے انجام سے بچنے کے لئے موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو اہل کشمیر کی گزشتہ چند سال کے دوران ایک لاکھ افراد سے زائد افراد کی انسانی قربانیوں کو ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ ان کا تحریک آزادی کے بنیادی اغراض و مقاصد کے حصول کے بارے میں دیرینہ جائز مطالبہ اور غیظ و غضب تاحال سرد اور کم نہیں ہوا۔ مقبوضہ کشمیرمیں، حریت کانفرنس کے سیاسی رہنماؤں کو انسانی آزادی کا بین الاقوامی بنیادی حق طلب کرنے پر آئے دن نظر بند کرکے عقوبت خانوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔موجودہ مہذب انسانی اقدار کے دور میں بھارتی حکومت کا مسلسل ظالمانہ اور شرمناک رویہ قابلِ مذمت ہے،جبکہ بھارتی حکومت نے مذکورہ بالا افسوسناک حالات سے بچنے کی بجائے گزشتہ چند سال سے لائن آف کنٹرول پر نہتے اور پُرامن افراد پر گولہ باری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

جس کے باعث آئے دن پاکستانی شہری اپنی قیمتی جانوں سے محروم ہونے کے علاوہ اپنی املاک اور مویشیوں کی کافی تعداد کی ہلاکت کے نقصانات سے بھی دوچار ہوتے رہتے ہیں۔

بھارتی حکومت کا طرزِعمل، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کی بجائے واضح طور پر ان کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ اس روش سے ظاہر ہے کہ اقوامِ متحدہ، بھارتی حکومت پر دفاعی ہتھیاروں کے انبار لگانے اور اقتصادی حالات کی بہتری روکنے کی پابندیاں عائد کرے، جس طرح امریکہ بہادر کی جانب سے چند سال قبل ایران اور چند ہفتے قبل، شمالی کوریا پر لگائی گئیں اور ایسی پابندیوں پر درست طور پر عمل بھی کرایا گیا، اس انداز سے عالمی امن کے قیام کے لئے مذکورہ بالا عملی کارروائیاں بہت موثر کار آمد اور نتائج خیز ثابت ہوئیں۔بہتر ہے کہ بھارت کے حکمران نوشتہ دیوار پڑھنے میں مزید کوئی غفلت کوتاہی اور متکبرانہ روش میں مبتلا نہ رہیں، بلکہ ان سے جلد عبرت حاصل کریں۔ سطور بالا میں قومی سیاسی قیادت سے بہتر طرز عمل کی جو گزارش کی گئی ہے اس پر عمل کرنے میں قابل ذکر سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں کو اب اپنی سابقہ کارکردگی سے بہتر اور مثبت طرزعمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -