انتخابی بخار،میڈیا کا کردار،بارش کی یلغار

انتخابی بخار،میڈیا کا کردار،بارش کی یلغار
انتخابی بخار،میڈیا کا کردار،بارش کی یلغار

  

ملک کے طول و عرض میں آج کل عام انتخابات کا دور دورہ ہے،بعض علاقوں میں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انتخابی بخار چڑھا ہوا ہے۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا پر بھی انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ اس مرتبہ سوشل میڈیاکو تشہیر کی غرض سے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔پاکستان تحریک انصاف بالخصوص سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنی خوب کمپین کر رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی بھی اس حوالے سے پیچھے نہیں، لیکن مختلف ٹی وی چینلز پر سیاسی قائدین اور امیدواروں کے ساتھ دانشور و تجزیہ کار حضرات جس طرح کے تبصروں اور تجزیوں میں مصروف ہیں اس کا بھی کوئی جواب نہیں۔ بیشتر اینکرز بھی ایسے ہیں جو اپنے تجزیوں کی بنیاد پر دھڑا دھڑ فیصلے اور نتائج بھی دیئے جا رہے ہیں۔

اس صورت حال کا قوم پر نفسیاتی اثر کیا پڑ رہا ہے اس سے ہم لوگ شائد آگاہ نہیں۔ ایک بے یقینی اور ہیجان کی سی کیفیت ہے جو پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک اینکر اپنی پسند کی جماعت یا اس کے امیدواروں کو فاتح ظاہر کرنے کے لئے زمین آسمان کے قلابے ملا رہا ہے تو دوسرا اپنے من پسند سیاسی جماعت کی شان میں قصیدے پڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ کہیں خودساختہ اور من پسند سروے چلائے جا رہے ہیں تو کہیں بے بنیاد کمپنیوں کے نام پر تجزیاتی رپورٹیں پبلک ہو رہی ہیں۔ اکثر لائیو ٹاک شوز ایسے ہیں جن کے شرکاء سیاسی نشیب و فراز یا علاقائی سیاست سے ناصرف نابلد، بلکہ سیاست کی ابجد سے بھی واقف نہیں، لیکن ان کے تجزیے سن کر یوں لگتا ہے کہ قیامت قریب ہی ہے۔ بعض ایسے تجزیہ کار بھی ہیں کہ اخلاقیات ان کے قریب سے بھی نہیں گزری۔ نہ تو وہ کسی بڑے چھوٹے کا لحاظ رکھتے ہیں نہ ہی انہیں ذمہ داری کا کوئی پاس ہے۔ اکثر شوز میں نوبت گالی گلوچ اور ہاتھا پائی تک بھی آ جاتی ہے۔

الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے بھی ضابطہ اخلاق جاری کر رکھا ہے لیکن اس پر عملدرآمد کتنا کیا جا رہا ہے یہ ہم سب کے سامنے ہے۔ عدالت عظمیٰ میں بھی اس حوالے سے خاصی بحث و تمحیص ہو چکی ہے اور معیاری رپورٹنگ یا ذمہ دارانہ گفتگو پر کئی بار زور بھی دیا گیا ہے لیکن شاید ہم پر کسی بھی معاملے کا اثر نہیں ہو رہا۔ قومی سوچ پر ذاتی خیالات غالب آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ شاید ہم لوگ اپنے آگے کسی دوسرے کی سننے کو تیار ہی نہیں۔دوسرے کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا بھی ہماری کمزوری بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ کئی ایک ٹاک شوز اور پروگرام تو ایسے ہیں جو آپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ ہی نہیں سکتے۔ جن چینلز پر اخلاقیات سے عاری اس قسم کے پروگرام چلتے ہیں، شاید ان میڈیا ہاؤسز کے مالکان بھی اپنی فیملیز کے ساتھ بیٹھ کر یہ پروگرام دیکھنا پسند نہیں کرتے ہوں گے۔ محض ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں ہم اپنی اخلاقیات گھٹاتے جا رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض اطراف سے یہ مطالبہ بڑی شد و مد سے سامنے آ رہا ہے کہ غیر معیاری اور غیر اخلاقی ٹاک شوز یا پروگرام بند کر دینے چاہئیں اور اس مقصد کے لئے بالخصوص چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس ثاقب نثار کی طرف دیکھا جا رہا ہے۔

زیادہ بہتر ہو کہ چینلز مالکان یا ان کے نمائندہ انچارج صاحبان خود ہی اس طرف دھیان کریں اور ایسی راہ نکالیں کہ معاملات درست ہو جائیں۔ مقابلے کی غیر صحت مندانہ دوڑ ہمیں کس سمت لے جائے گی اس کا اندازہ کرنا زیادہ مشکل نہیں، ابھی برقی میڈیا (جسے برق رفتار میڈیا بھی کہاجا سکتا ہے)کے ابتدائی ایام ہیں، اسے فی الحال لگام دینا یا قابو کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ اگر بات ہاتھ سے نکل گئی تو پھر ہم لکیر ہی پیٹتے رہیں گے۔ان دنوں ایک اور ایشو لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر علاقوں میں ہونے والی قیامت خیز بارش بھی ہے جس نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ بارش پاکستان میں ہونے والی ریکارڈ بارشوں میں سے تھی۔ جس نے لاہور میں تو شہریوں کو خاصا پریشان کرکے رکھ دیا۔ صوبائی دارالحکومت میں چونکہ بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام بھی زیر تکمیل ہیں، اس لئے بارش رحمت کی بجائے زحمت بنتی دکھائی دی۔ شاہراہ قائداعظم پر جی پی او چوک کے نزدیک سڑک میں چوڑا شگاف پڑا وہ بھی خاصا زیر بحث رہا۔ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر یہ شگاف خوب ڈسکس ہوا اور یہ موقف اختیار کیا جاتا رہا کہ گزشتہ حکومت نے ترقیاتی کاموں میں ناقص میٹریل استعمال کروایا یا محض کارکردگی دکھانے کی خاطر عجلت میں یہ منصوبے مکمل کرنے کے دعوے کئے گئے، اس لئے پہلی ہی بارش نے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

اس طرح کی الزام تراشی تو درست نہیں لیکن اس بات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ بڑے بڑے منصوبے جن کمپنیوں کو ٹھیکے پر دیئے جاتے ہیں ان کی کڑی نگرانی بھی ضروری ہے اور معیار کی ٹیسٹنگ کا طریقہ کار بھی ٹھوس ہونا چاہیے۔ اگر کوئی کام مکمل ہونے سے قبل ہی بارش میں بہہ جائے تو اس کی پختگی کی کیا ضمانت دی جا سکتی ہے۔اسے ہماری بدقسمتی کہنا چاہیے کہ ہم نے اپنے آپ کو حادثاتی امور اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیار ہی نہیں کیا۔ جب کوئی آفت آتی ہے تو ہم فوج جیسے منظم ادارے کی طرف دیکھتے ہیں، یہ دراصل ہمارے ان اداروں کی ناکامی کا سبب ہے جن کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ان اداروں کی ری کنسٹرکشن اور اوورہالنگ کریں، خامیوں کو دور کرکے سسٹم کو مضبوط بنائیں اور ایسے نگران افسروں کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے جو اپنے ماتحتوں سے صرف متعلقہ کام لیں۔8اکتوبر 2005ء کے ہولناک زلزلے نے ہماری آنکھیں تو کھولی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ ذمہ دار اداروں کی کارکردگی بھی کھل کر سامنے آ گئی تھی لیکن ہم نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟ اسی وجہ سے جب بھی ہنگامی صورت حال سامنے آتی ہے ہم ایکسپوز ہو جاتے ہیں۔ خدا کرے کہ کوئی ایسا سبب پیدا ہو جائے کہ ہم اپنے معاملات کو خود ہی درست کر لیں۔

مزید : رائے /کالم