اچھے کام جو بھی کرے قابل تحسین ہے

اچھے کام جو بھی کرے قابل تحسین ہے
اچھے کام جو بھی کرے قابل تحسین ہے

  

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ عدلیہ نے ڈیم بنائے ہوں۔ بجا فرماتے ہیں یہ صاحبزادے، لیکن انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا میں ایسی بھی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی ملک کی سیاسی اشرافیہ ڈیم بنانے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہو جبکہ ملک کی حالت قحط سالی کی طرف جا رہی ہو، ستر برس کے عرصے میں دو ڈیم بنے، تربیلا اور منگلا۔۔۔ وہ بھی فوجی حکومت کے دور میں باقی عرصہ سول حکومتیں تماشا دیکھتی رہیں۔ بھارت نے ڈیم پر ڈیم بنائے، ہمارے حصے کا پانی روک لیا، دوسری طرف ہم اتنا بھی نہیں کر سکے کہ بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے سے جو پانی ہمارے دریاؤں سے گزرتا ہے، اور اکثر سیلابی شکل اختیار کر کے تباہی مچاتا ہے، اسے ذخیرہ کرنے کے لئے ہی ڈیم بنا سکیں۔

آج کل انتخابی مہم زوروں پر ہے، کس جماعت کے منشور میں شامل ہے کہ ڈیم بنائے جائیں گے؟ سب کی سوئی کئی دہائیوں سے اسی نکتے پر آکر اٹکی ہوئی ہے کہ کالا باغ ڈیم نہیں بنائیں گے۔ نہ بناؤ مگر کوئی ڈیم تو بناؤ۔۔۔ یہ کراچی جو آج کل ہر سیاسی جماعت کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پانی کو ترس رہا ہے۔ لوگ دہائی دے رہے ہیں کہ ووٹ بعد میں مانگنا پہلے پانی دو، یہی بلاول بھٹو زرداری اس پانی کی کمیائی کے باعث لیاری میں لوگوں کے پتھروں کا نشانہ بھی بنتے ہیں، اس کے باوجود یہ کہہ رہے ہیں کہ عدلیہ ڈیم بنانے کا حکم کیوں دے رہی ہے، چیف جسٹس ان کے لئے فنڈز مہیا کرنے کا دعویٰ کیوں کر رہے ہیں؟

پنجابی کا ایک محاورہ ہے۔۔۔ ’’کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے‘‘۔۔۔ یہ محاورہ ہمارے سیاستدانوں پر فٹ بیٹھتا ہے کہ نہ خود کام کرتے ہیں نہ کسی کو کرنے دینا چاہتے ہیں۔ قوم کو انہوں نے تماشا سمجھ رکھا ہے، جس سے جب چاہا کھلواڑ کیا اور چلتے بنے۔ چیف جسٹس بنیادی انسانی حقوق کے آئینی اختیار کے تحت پانی کی فراہمی، علاج معالجے کی سہولتوں، بھاری ٹیکسوں اور تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کا نوٹس لیں تو یہ انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت قرار دی جاتی ہے۔ جہاں خلاء ہوگا اسے کوئی تو پورا کرنے کے لئے آئے گا۔ سیاستدان خلاء نہ چھوڑیں تو سپریم کورٹ کیسے مداخلت کر سکے گی؟ دنیا بھر کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ آنے والے پانچ سات برسوں میں پاکستان شدید قلتِ آب کا شکار ہونے والا ہے۔ اس کے آثار تو ملک کے مختلف حصوں میں نظر آنا شروع ہو چکے ہیں۔ پہلے جو پانی زمین کے دو اڑھائی سو فٹ نیچے مل جاتاتھا، وہ اب کئی جگہوں پر ہزار فٹ نیچے چلا گیا ہے۔ دریا بنجر ہو گئے ہیں اور نہری نظام آخری سانس لے رہا ہے۔

پہلے سے لگے ہوئے ٹیوب ویل ناکارہ ہو گئے ہیں اور نئے سرے سے کھدائی کی جا رہی ہے۔ اتنی زیادہ خطرناک صورت حال کے باوجود سیاسی جماعتوں میں اس حوالے سے کوئی ایمر جنسی نظر نہیں آتی۔ ان کی معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ پچھلے پانچ برس جو پارلیمینٹ رہی، اس نے ایک بار بھی اس سنگین ایشو پر توجہ نہیں دی۔ ایک آسان سا بہانا مل گیا کہ کالا باغ ڈیم پر چونکہ اتفاق رائے نہیں اس لئے ڈیم نہیں بن سکتا۔ اگر کالا باغ نہیں بن سکتا تو کیا یہ طے ہو گیا ہے کہ اب پاکستان میں کوئی ڈیم بنانا ہی نہیں۔ باقی جو ڈیم منظور ہو چکے ہیں، ان پر کام کیوں نہیں شروع کیا گیا؟ بجٹ میں ان کے لئے فنڈز کیوں مختص نہیں کئے گئے؟ کیا یہ ڈیم ہوا سے بننے تھے اور انہیں کسی غیبی مخلوق نے بنانا تھا؟سیاستدانوں کو اپنا کریڈٹ چھن جانے کی پڑی ہے، وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں چیف جسٹس ثاقب نثار کا شکر گذار ہونا چاہئے، جنہوں نے دو ڈیموں بھاشا اور مہمند کی تعمیر کا حکم جاری کردیا ہے اور سپریم کورٹ کی سطح پر ان کے لئے خصوصی فنڈ بھی قائم کیا ہے، جس میں دس لاکھ روپے خود سے جمع کرادئیے ہیں۔

رجسٹرار سپریم کورٹ کے نام سے کھلنے والے اس اکاؤنٹ میں قوم دل کھول کر حصہ لے گی، کیونکہ ہر پاکستانی یہ سمجھتا ہے کہ پانی ہمارے مستقبل کی خوشحال یا بد حال زندگی کی وجہ بن سکتا ہے، اگر پانی کا ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیمز نہ بنائے گئے تو آج بنجر ہوتی زمین کل موت کا صحرا بن جائے گی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کو یقیناً اس کا کریڈٹ ملنا چاہئے کہ انہوں نے تمام رکاوٹیں ختم کرکے دونوں ڈیموں کی تعمیر فوری طور پر شروع کرنے کا حکم جاری کردیا ہے، اور یہ بھی کہا ہے کہ سپریم کورٹ خود ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے معاف کرائے گئے قرضوں کی واپسی سے حاصل ہونے والی رقم کو بھی استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ فنڈز کی قلت کے باعث یہ منصوبے اب نہیں رکیں گے، کیونکہ پوری قوم یہ چاہتی ہے کہ پانی کے مسئلے پر فوری توجہ دے کر ملک کو خطرناک صورت حال سے بچایا جائے۔ چاہئے تو یہ کہ ہر سیاسی جماعت سپریم کورٹ کے اس اقدام کی حمایت کرے۔

یہ کریڈٹ لینے دینے کا چکر ایک فضول سی بات ہے، اصل مسئلہ ملک کے مسائل حل کرنا ہے۔ سیاستدان خدا لگتی کہیں کہ کیا وہ اگلے دس بیس سال تک بھی ڈیم بنانے کی پالیسی اختیار کرسکتے تھے؟ بنیادی مسائل پر تو ان کی توجہ جاتی ہی نہیں۔ جو پارلیمنٹ آج تک پولیس رولز کو تبدیل نہیں کرسکی اور وہ 1861ء کا ہی چل رہا ہے، وہ ایسے مسائل پر کیا توجہ دے گی، جن کا ممبران اسمبلی کو سامنا ہی نہیں ہوتا، مثلاً یہ پانی، بڑے زمینداروں کو آسانی سے مل جاتا ہے اور غریب مزارعے نہری پانی کو ترستے رہتے ہیں، اسی طرح بڑے لوگوں کے لئے منرل واٹر بھی ہے اور نہانے کے لئے پانی کے ٹینک بھی، جبکہ غریبوں کو پینے کے لئے بھی پانی نہیں ملتا، ایسے میں اگر چیف جسٹس نے اس معاملے پر توجہ دی ہے تو یہ ان کا قوم پر احسان ہے۔ دنیا میں اس کی مثال تلاش کرنے کی بجائے، سیاسی اشرافیہ کو اپنے گریبان میں جھانک کر یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا کسی اور ملک میں بھی جمہوریت کے نام پر اسمبلیوں میں بیٹھنے والے بنیادی مسائل سے ایسی ہی مجرمانہ غفلت برتتے ہیں؟

جب قوم بحران کا شکار ہوتی ہے، حالتِ جنگ میں آجاتی ہے یا گھمبیر مسائل اسے گھیر لیتے ہیں تو سب کو مل کر کام کرنا پڑتا ہے، پانی کا مسئلہ ایسا ہی معاملہ ہے جس پر پوری قوم کو یکسو ہوکر سوچنا اور عمل کرنا ہے۔یہ توایک ایسا معاملہ بن گیا تھا جس کا سرا ہی نہیں مل رہا تھا، اب کم از کم چیف جسٹس نے اس مسئلے کا سرا تو تلاش کرلیا ہے، اور ڈیموں کی تعمیر کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ 25 جولائی کے انتخابات سے معرض وجود میں آنے والی حکومت ڈیموں کی تعمیر کے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے اور چیف جسٹس صاحب فنڈز کی فراہمی کے ضمن میں ڈوبے ہوئے قرضوں کی واپسی سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کام کرنے سے ہی کریڈٹ ملتے ہیں، آپ کوئی کام ہی نہ کریں تو کس بات کا کریڈٹ لے سکتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان منفی کاموں کا کریڈٹ لیتے ہیں، مثلاً اسفند یار ولی جب یہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ سمیت کوئی مائی کا لعل کالا باغ ڈیم نہیں بنا سکتا تو ایک طرح سے مولا جٹ بن کر کریڈٹ لے رہے ہوتے ہیں۔

انہیں یہ بھی تو بتانا چاہئے کہ کالا باغ ڈیم اگر نہیں بنانا تو پھر ملک کو پانی کے بحران سے کیسے نکالنا ہے؟ اس طرف تو وہ آتے ہی نہیں، کوئی دوسرا اس طرف آئے تو یہ ڈھنڈورا پیٹنے لگتے ہیں کہ ان کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے؟ وہ اپنی حدود میں رہیں، قوم کا موڈ بتا رہا ہے کہ اب یہ تھانیداری نہیں چل سکتی، چیف جسٹس کی جس طرح قوم حمایت کررہی ہے وہ اس امر کا اظہار ہے کہ لوگ اس بات سے ماورا ہوکر سوچنے لگے ہیں کہ کس کا کام تھا اور کون کررہا ہے، وہ تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا حل ڈھونڈا جائے۔ سیاسی اشرافیہ صرف وہی کام کرتی ہے، جو اس کے مفاد میں ہوتا ہے۔ ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں کے دورے کرکے چیف جسٹس نے ان کی حالتِ زار کے بارے میں جو از خود نوٹسز لئے ہیں ان سے کچھ نہ کچھ تو بہتری آئی ہے، وگرنہ تو ہر صوبائی حکومت سب اچھا کا راگ الاپ رہی تھی۔ اسی طرح موبائل فون کارڈ پر جو پینتیس فیصد لوٹ مار ہورہی تھی، اسے بھی روکنے کا فریضہ چیف جسٹس نے ادا کیا، گویا یہ سب کچھ موبائل کمپنیاں اور سرکاری ادارے مل کر جاری رکھے ہوئے تھے۔

کرپشن کے کتنے ہی کیسز چیف جسٹس ثاقب نثار کے از خود نوسٹوں کی وجہ سے سامنے آئے، اب ان کریڈیٹس کو کون ان سے چھین سکتا ہے؟ یہاں سیاستدان قوم کے پیسے سے ایک فلٹر پلانٹ لگاتے ہیں تو اس پر تختی بھی لگواتے ہیں اور عمر بھر حلقے کے عوام پر احسان بھی جتاتے ہیں۔ چیف جسٹس تو بہت بڑے کام کررہے ہیں، سیاستدانوں کو ان کی مخالفت کرنے کی بجائے اچھے کاموں میں ان کا مقابلہ کرنا چاہئے، خاص طور پر ڈیمز بنانے کے معاملے پر تو سب سیاسی جماعتیں چیف جسٹس کے اقدامات کی حمایت کریں، کیونکہ جو کام ان کے کرنے کا تھا اور وہ کئی دہائیوں سے نہیں کرسکی تھیں، وہ چیف جسٹس کے عزم و ارادے سے ممکن ہوگیا ہے۔ نہ تو یہ کوئی غلط کام ہے اور نہ ہی اسے مزید ٹالا جاسکتا ہے، یہ انتہائی ضروری اور فوری نوعیت کا کام ہے، کیونکہ ہم پہلے ہی اس معاملے میں غفلت برت کر اپنا بہت نقصان کرچکے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اپنی الیکشن مہم پر توجہ دیں اور جو اچھے کام ادارے کررہے ہیں ان پر سیاست کرنے سے گریز کریں۔

مزید :

رائے -کالم -