سندھ میں اچھوتوں کے ووٹ

سندھ میں اچھوتوں کے ووٹ
سندھ میں اچھوتوں کے ووٹ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قومی انتخابات کے موقع پر سیاسی جماعتوں کے علاوہ قبائل، برادریوں اور دیگر عناصر کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بھی ملک کے بڑے ایوان میں نمائندگی حاصل کر سکیں۔ بھلا ایسی صورت میں نظر انداز کئے گئے محروم طبقات، گروہ یا برادریاں کیوں کر مبرا رہ سکتی ہیں۔ سندھ میں کراچی ہو یا کوئی اور علاقہ، سب ہی جگہ ایسے گروہ پائے جاتے ہیں جو آواز اور شناخت سے محروم رہتے ہیں۔ کراچی تو ملک کا سب سے بڑا شہر کہلاتا ہے، اس کی کئی بستیاں ایسی ہیں جہاں لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، اسی طرح دیگر شہروں کی صورتحال ہے۔ تھرپارکر کے وسیع و عریض علاقہ میں ایسی برادریاں رہائش رکھتی ہیں جو بنیادی سہولتیں تو درکنار، تحفظ سے بھی محروم ہیں۔ انہیں اپنی محرومیت ختم کرنے کا بہتر موقع انتخابات کے وقت ہی ملتا ہے۔ برقی نشریاتی ابلاغ کے رابطوں کے علاوہ موبائل فون اور سو شل میڈیا نے لوگوں کو اپنی آواز اٹھانے اور سنانے کا بھرپور موقع فراہم کردیا ہے۔ ان ہتھیاروں میں تعلیم کا ہتھیار سرفہرست ہے۔ جن بھی برادریوں کے لوگوں نے تعلیم کے ہتھیار کو اٹھا لیا ہے، انہیں اپنی محرومیت دور کرنے کے مواقع حاصل ہوگئے ہیں۔ تعلیم نے ملازمت کے حصول کے راستے پیدا کئے تو یہ شعور بھی دیا کہ حقوق کے حصول کے لئے قانونی جنگ لڑی جاسکتی ہے اور لوگ ہیں کہ وہ قانونی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ اب تو خواتین اس جنگ میں پیش پیش ہیں۔ کس نے تصور کیا تھا کہ پاکستان میں اقلیت کے اچھوت بھی اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کر سکیں گے۔

ہندو ملک بھر سے سب سے زیادہ رہائش سندھ میں رکھتے ہیں۔ ہندوؤں میں ذات پات کی اونچ نیچ کی وجہ سے اچھوت موجود ہیں، وہ اچھوت جنہیں دَلت بھی کہا جاتا ہے۔ سندھ میں ان اچھوتوں کی ماضی میں تو کوئی بات ہی نہیں کرتا تھا۔ بھیل، کولہی، میگواڑ اور اودھ کو کمی، کمین اور کم ذات کہا جاتا تھا۔ ہر وہ کام جو ہندو برادریوں میں لوگ نہیں کرنا چاہتے تھے اسے سر انجام دینے کے لئے اچھوتوں کو ذمہ دار بنایا جاتا تھا۔ آج پاکستان میں ان ہی اچھوت طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ اونچے اونچے سرکاری عہدوں پر فائز ہیں، ان کی سماجی حیثیت ان کی معاشی حیثیت سے جڑ گئی ہے، لیکن لاکھوں میں چند سو افراد کی حیثیت تبدیل ہو جانے سے پورے طبقے کی حیثیت تو تبدیل نہیں ہو سکی ہے، اسی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لئے لوگوں نے انتخابات میں حصہ لینا بھی شروع کر دیا ہے۔ کل کون کہہ سکتا تھا کہ دور افتادہ ریگستانی علاقہ کی کوہلی عورت کرشنا کماری پاکستان کے ایوان بالا (سینٹ ) کی رکن بن جائیں گی۔ ان علاقوں کے لوگ ڈاکٹر، انجینئر اور وکیل بن جائیں گے۔ قانونی عدالتوں میں منصف ہوں گے، لیکن آج ایسا ہی ہے۔ معاشرتی امتیازات اپنی جگہ، لیکن محروم اور نظر انداز کئے گئے طبقات کو اپنی آواز بلند کرنے کا مواقع تو ملے۔ یہ مواقع البتہ اتنے محدود ہیں کہ لوگوں کے لئے اطمینان کا باعث نہیں ہیں۔

نواب یوسف تالپور کئی مرتبہ عمر کوٹ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ مرحومہ بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ہیں۔ شاہ محمود قریشی ایک درگاہ کے گدی نشیں ہونے کے علاوہ قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں، سابق وزیر خارجہ ہیں۔ یہ دونوں حضرات عمر کوٹ سے قومی اسمبلی کی نشست کے حصول کے لئے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان دونوں کی توقع کے برعکس ایک خاتون بھی امیدواروں میں شامل ہیں۔ نیلم والجی میگواڑ اپنی سماجی سرگرمیوں کی وجہ سے علاقہ میں جانی پہچانی جاتی ہیں۔ میگواڑ اچھوتوں میں بھی کم درجہ کی ذات قرار دی جاتی ہے۔ اگر بھیل اور کولہی ایک برتن میں ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے ہیں تو یہ دونوں میگواڑوں کو ساتھ بٹھا کر کھانا نہیں کھاتے ہیں۔ اس ذات کی عورت کا مسلمان گدی نشیں اور زمیندار کے مقابلہ پر انتخابات میں حصہ لینا اچنبھے کی بات نہیں تو اور کیا ہے۔ نیلم بیک وقت قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی امیدوار ہیں اور اگر میگواڑ، بھیل، کولہی اور اودھ متحد ہوجائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ نیلم جیسی دس خواتین امیدوار کامیاب نہ ہو سکیں ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ووٹروں کی فہرست میں ان ہی لوگوں کی بھاری اکثریت ہے۔ عمر کوٹ کی آبادی کا باون فیصد ویسے ہی ہندو برادری پر مشتمل ہے اور بقول نیلم ان باون فیصد کا اسی فیصد اچھوت پر مشتمل ہے۔ اتنی بڑی تعداد کو کون شکست دے سکتا ہے۔ اتنی بڑی اکثریت کا منفی پہلو یہ ہے کہ ان کے درمیاں اتحاد نہیں ہو پاتا ہے۔

نیلم میگواڑ یقین رکھتی ہیں کہ وہ لوگوں کو متحد کرنے کے علاوہ اچھوت عورتوں کو پولنگ اسٹیشن تک لے آئیں گی جو ان کی کامیابی کا سبب بنے گی۔ ان کے استدلال میں وزن ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ زمینداروں اور کاروباری حضرات اور بڑے گھرانوں کی تعلیم یافتہ خواتین ووٹ دینے گھروں سے نہیں نکلتی ہیں ، امیدواروں کا سارا زور اچھوت طبقے کی خواتین پر ہوتا ہے جو انہیں ووٹ دے کر کامیاب کراتی ہیں۔ کامیابی کے بعد وہ لوگ پلٹ کر پوچھتے بھی نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے اچھوتوں کے لئے سماجی تحفظ ، انصاف، برابری کا درجہ جیسے اہم سوالات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ نیلم ان ہی سوالات کا جواب لینے اور حصول کے لئے انتخابی میدان میں اتری ہیں۔ وہ کس حد تک کامیابی حاصل کرتی ہیں، علیحدہ بات ہے لیکن ایک بات تو یقینی ہے کہ ان کی وجہ سے نواب یوسف تالپور اور شاہ محمود قریشی کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ ان کی کامیابی کا دارومدار ہی اچھوتوں کے ووٹوں پر ہے۔ وہ اچھوت جو ان کی ذاتی مالی حیثیت میں اہم درجہ رکھتے ہیں اور کاشت کاری سے لے کر ان کے لئے دیگر ہر قسم کی خدمات انجام دہتے ہیں۔ جب محروم طبقات انگڑائی لیتے ہیں تو ان کا استحصال کرنے والوں کو محرومی سے دوچار کردیتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کو ریگستانی علاقہ اسی وقت یاد آتا ہے جب انہیں الیکشن لڑنا ہوتا ہے۔

انتخابات کے خاتمہ کے بعد وہ پلٹتے نہیں ہیں کہ لوگوں سے ان کی عمومی زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔ اپنی انتخابی مہم پر وہ عملاً ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کرتے ہیں کہ ان کی مہم کی ذمہ داری عمرکوٹ میں ان کے مریدوں اور بہی خواہوں پر عائد ہوجاتی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں وہ یوسف تالپور کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے ۔ اس مرتبہ وہ دو حلقوں سے امیدوار ہیں۔ وہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر امیدوار ہیں، یوسف تالپور پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔ مسلم لیگ نواز شریف کو نام نہاد ’’ الیکٹ ایبلز‘‘ میسر نہیں تھے تو ٹکٹ نیلم کے حوالے کر دیا گیا۔ امان اللہ تالپور تجربہ کار سیاسی کارکن ہیں، لیگ نے ایک صوبائی حلقے سے انہیں نامزد کیا ہے۔ امان اللہ نے نیلم میگواڑ، اور مریم بھیل کو نامزد کردیا ۔ نیلم اور مریم سیاسی تدبر اور حکمت عملی کا مظاہر ہ کرنے اور دیہاتوں میں لوگوں سے رابطے کرنے میں سرگرمی کا مظاہرہ کرسکیں تو کامیابی ان اور مریم کے قدم چوم سکتی ہے۔

مزید : رائے /کالم