کارگل پر ایک تازہ تصنیف (آخری قسط)

کارگل پر ایک تازہ تصنیف (آخری قسط)
کارگل پر ایک تازہ تصنیف (آخری قسط)

  

پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے سینئر افسروں کے درمیان اتفاق رائے تھا کہ انڈیا کی طرف سے نئے محاذ کھولے جانے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے ان کی رائے کیوں نہیں لی گئی جبکہ کوئی بھی دفاعی پلان جس میں انڈیا کی طرف سے جوابی حملے کا اندیشہ ہو اس کے لئے ملک کی تینوں فورسز کا اجتماعی اور مربوط ڈیفنس پلان ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس طرح تنقید کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا ۔ پاک فضائیہ کے ڈپٹی ائر چیف حیران تھے اور ان کا سوال تھا: ’’آخر اس تمام الابلا سے ہمیں حاصل کیا ہو گا؟‘‘۔ چیف آف جنرل سٹاف عزیز کا جواب تھا کہ جب انڈیا کی بڑی شاہراہ این ایچ۔ ون (NH-1) پر دباؤ پڑے گا تو انڈیا مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور ہو جائے گا۔

اس اجلاس میں محکمہ خارجہ کے سینئر افسروں نے وارننگ دی کہ اس آپریشن کا دفاع کرنا، گلوبل فورموں پر ممکن نہیں ہوگا۔ اقوام متحدہ میں ہمارے ایڈیشنل سیکرٹری ریاض محمد خان نے واشگاف الفاظ میں کہا: ’’اگر یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لایا گیا تو ہماری پوزیشن کمزور ہو گی۔ چین، سیکیورٹی کونسل کے دوسرے اراکین کے ساتھ مل کر یہی کہے گا کہ پاکستان کو وہ علاقے خالی کر دینے چاہیں جو مقبوضہ کشمیر میں ایل او سی کے پار واقع ہیں۔ سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے اس جنگ کے پھیل جانے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے شرکائے اجلاس کو بتایا: ’’میں اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ انڈیا بین الاقوامی بارڈر پر حملہ نہیں کرے گا۔‘‘ فارن سیکرٹری نے 1965ء سے پہلے آپریشن جبرالٹر کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ اس وقت بھی کلیدی ملٹری اور سویلین افسروں نے ضمانت دی تھی کہ انڈیا بین الاقوامی سرحد عبور نہیں کرے گا۔ لیکن پُرعزم آرمی چیف نے ان شکوک و شبہات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کہا: ’’ہم اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کر سکتے ہیں‘‘۔ ایک جنرل صاحب نے یہ بھی کہا: ’’ہم کچھ بھی کہتے رہیں انڈیا کے خلاف ہماری دشمنی دائمی ہے‘‘۔

وہ سفارت کار جو مسئلہ کشمیر پر اداراتی مباحث سے آگاہ تھے انہوں نے اس بات پر اپنے شکوک کا اظہار کیا کہ یہ مسئلہ اگر سلامتی کونسل میں چلا گیا تو اس سے ہمیں کچھ فائدہ ہوگا۔ کہنہ مشق سفارت کار ریاض محمد خان نے بھی صاف صاف الفاظ میں کہا: ’’اگر اس آپریشن کو اقوام متحدہ میں لایا گیا تو ہماری پوزیشن بے اساس ہوگی۔‘‘ بین الاقوامی برادری میں لائن آف کنٹرول کے تقدس کا لحاظ نہ رکھنے پر ہم پر پہلے ہی تنقید ہوتی رہی ہے۔1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں جب مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل میں بحث کی گئی تھی تو ان دونوں مواقع پر فیصلہ جنگ بندی پر ہوا تھا، مسئلہ کشمیر پر نہیں۔ کارگل تنازعے کا سوال بھی اگر سیکیورٹی کونسل میں گیا تو پاکستان کو واپسی کا کہا جائے گا اور انڈیا ایل او سی پر دفاعی انتظامات مزید مضبوط بنالے گا۔ دوسری طرف آرمی کا اصرار تھا کہ لائن آف کنٹرول کی حد بندی مبہم اور غیر واضح ہے اور کئی مقامات پر مجاہدین آج بھی انڈین آرمی سے برسرِ پیکار ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ایک آفیسر نے جب یہ پوچھا کہ مجاہدین، پوری طرح مسلح انڈین آرمی سے کیسے لڑ سکتے ہیں تو آرمی کے ترجمان رشید قریشی کا جواب تھا: ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈین ٹروپس میدانوں کے باسی ہیں اور ان میں برفانی آب و ہوا کے شدائد برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں۔ یہاں آکر وہ جلد مر جاتے ہیں۔‘‘

اجلاس ختم ہوا تو تین وزراء، سرتاج عزیز، مجید ملک اور راجہ ظفر الحق، سرتاج عزیز کے آفس میں اکٹھے ہوئے اور DCC کے اجلاس کا پوسٹ مارٹم کرنے لگے۔ ان تینوں تجربہ کار حضرات میں یہ احساس پایا جاتا تھا کہ اس آپریشن سے بہت سی خطرناک فوجی اور سفارتی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ لیکن یہ بھی کہا کہ ٹروپس کی اچانک واپسی بھی کوئی آپشن نہیں، بلکہ آرمی جو اپنی کامیابی کا اعلان کر رہی ہے اس کے کارگل طائفے (Clique) سے کون کہے گا کہ واپس آ جاؤ۔۔۔ بلّی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟۔۔۔ تاہم راجہ ظفر الحق نے کہا کہ آپریشن کوہ پیما میں جو خامیاں یا قلتیں پائی جائیں ان کو دور کیا جانا ضروری ہے۔ کوہ پیما کے منصوبہ ساز ہماری سفارشات سے یہ مطلب بھی نکالیں گے کہ یہ آپریشن جاری رکھنے کا اشارہ ہے۔ اگر آپریشن کوہ پیما فیل ہو گیا تو ناکامی کا بوجھ سویلین حکومت پر آئے گا اور اس کے بعد جو کچھ ہوگا وہ یہی ہوگا کہ آرمی ٹیک اوور کر لے گی!

چنانچہ تینوں سینئر وزراء نے ان خدشات کو محسوس کرتے ہوئے وزیر اعظم کے اس فیصلے کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا کہ آئندہ آپریشن کوہ پیما کے متعلق بحریہ اور فضائیہ کو بھی آن بورڈ رکھا جائے۔

آخر یہ جنگ کس کی ہے؟

انہی ایام میں پاکستان کی ملٹری انٹلی جنس(MI) بھی فعال ہوگئی۔ اس کے ڈی جی ،میجر جنرل احسان الحق نے مغربی ممالک کے تمام ملٹری اتاشیوں کو GHQ آنے کی دعوت دی اور آپریشن کوہ پیما پر ایک بریفنگ کا اہتمام کیا۔ یہ بریفنگ DGMI اور DGMO نے مل کر دی۔ آخر میں سوال و جواب کا سیشن شروع ہوا۔ یہ دفاعی اتاشی بریفنگ کے بعد جب GHQ سے رخصت ہوئے تو ان کی سمجھ میں یہی بات آئی کہ بریفنگ دینے والے دونوں سینئر فوجی افسروں نے تسلیم کیا ہے کہ اس آپریشن میں مجاہدین نہیں، پاک آرمی کے ٹروپس انوالو ہیں۔ اِن دفاعی اتاشیوں نے بشمول امریکہ اور برطانیہ کے دفاعی اتاشیوں کے، اپنے اپنے سفارت خانوں اور آرمی ہیڈ کوارٹروں کو مطلع کیا کہ یہ لڑائی دراصل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی علاقے میں ہورہی ہے۔ تاہم فیڈرل حکومت نے پبلک میں یہی تاثر دیا کہ اس میں صرف مجاہدین حصہ لے رہے ہیں۔ لیکن میڈیا کے وہ لوگ کہ جن کا بیک گراؤنڈ مغربی سفارت کاری کا حامل تھا انہوں نے رپورٹنگ کی کہ پاکستان کے ڈی جی ملٹری انٹلی جنس نے تسلیم کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر جو لڑائی ہورہی ہے اس میں پاک آرمی کے ٹروپس شامل ہیں اور لڑائی ایل او سی پر بھارتی علاقے میں ہو رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ اس وقت اسلام آباد میں ہمارے جو سفارتکار پوسٹ تھے ان کو بھی کچھ معلوم نہ تھا کہ لائن آف کنٹرول پر یہ ہنگامہ کیا ہے۔ وہ لوگ بھی اندھیرے میں تھے۔

ملٹری انٹلی جنس کی اس بریفنگ کے بعد پاکستان میں امریکی سفارت خانے میں متعین ملٹری اتاشی نے اپنے سفیر، ولیم میلام (William Milam) کو آکر بتایا کہ لڑائی تو ایل او سی کی انڈین سمت میں ہورہی ہے۔ اس وقت تک امریکی اطلاعات یہ تھیں کہ لائن آف کنٹرول پر صرف مجاہدین لڑائی میں مصروف ہیں اور آرمی ٹروپس نہیں۔

اس ملٹری اتاشی نے بریفنگ اٹنڈ کرنے کے بعد اِدھر اُدھر سے مزید خبریں اکٹھی کیں اور پاکستانی ملٹری اتاشی سے بھی بات کی اور مزید خبریں حاصل کیں جبکہ امریکی سفارت خانے کے سیاسی اتاشی نے بھی ریٹائرڈ ملٹری آفسروں سے ملاقاتیں کیں اور جب ان باتوں کی تصدیق ہوگئی کہ یہ مجاہدین نہیں بلکہ پاک آرمی کے ٹروپس ہیں جنہوں نے ایل او سی کراس کی ہے تو یہ سفارتکار خاصے مضطرب ہوئے اور یہ ساری اطلاعات واشنگٹن پہنچائیں۔ چنانچہ امریکی وزارتِ خارجہ کی طرف سے پہلا بیان آیا کہ پاکستان اپنے ٹروپس واپس بلائے۔

اس بیان کے آنے پر پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری طارق الطاف نے امریکی سفیر کو اپنے دفتر میں طلب کیا اور پوچھا کہ واشنگٹن نے پاکستان پر یہ الزام کیوں لگایا ہے کہ یہ لڑائی ایل او سی کے اس پار بھارتی مقبوضہ کشمیر میں لڑی جارہی ہے؟ امریکی سفیر نے ان کو بتایا کہ خود پاکستان آرمی نے یہ اطلاع دی ہے۔ جب طارق الطاف نے میلام کا یہ جواب سنا تو ہکا بکارہ گئے اور ان کا چہرہ اتر گیا۔

اس الطاف۔ میلام گفتگو کے بعد وزیر خارجہ سرتاج عزیز نے ڈی جی ملٹری انٹلی جنس سے بات کی اور اس ’’پھڈے‘‘ کی شکائت کی اور پوچھا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ہے؟َ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی بریفنگ کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود سفارتی حلقوں میں پاکستانی ٹروپس کی ایل او سی کے پار موجودگی اور امریکی دفاعی اتاشی کی یہ خبر متواتر گردش میں رہی۔

نکمّی کابینہ

مئی 1999ء کے اواخر میں پرائم منسٹر نے فیصلہ کیا کہ آپریشن کوہ پیما پر کابینہ کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کابینہ کا ایک اجلاس بلایا اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ سے کہا کہ وہ اس آپریشن پر بریفنگ دیں۔ اس میں سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد اور سیکرٹری دفاع افتخار بھی موجود تھے۔ ڈی جی آئی ایس آئی ویسے تو پہلے وزیراعظم8 کے سامنے اپنی نجی ملاقاتوں میں آپریشن کوہ پیما پر تنقید کرتے رہتے تھے لیکن اس اجلاس میں انہوں نے آپریشن کی چیدہ چیدہ اور موٹی موٹی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے مجاہدین اور آزادی خواہوں کا بھی ذکر کیا اور کہنے لگے کہ یہ آپریشن تسلی بخش طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔ تاہم انہوں نے اس آپریشن پر اپنا ذاتی تجزیہ پیش نہ کیا۔ یہی حال سیکرٹری خارجہ کا بھی تھا۔ وہ بھی اپنی پہلی ملاقاتوں میں آپریشن کوہ پیما پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہتے تھے۔لیکن اس اجلاس میں ان کو اس آپریشن میں کوئی منفی بات نظر نہ آئی۔ انہوں نے اس طرف بھی بالکل کوئی اشارہ نہ کیا کہ اس آپریشن میں پاکستان کے لئے سفارتی نقصانات کابھی کوئی امکان ہے بلکہ بجائے اس کے یہ فرمانے لگے کہ اس آپریشن سے ملک کو کئی فوائد حاصل ہوں گے!

جنرل بٹ کی بریفنگ کے بعد سخت سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔حاضرین کی اکثریت اس بات پر خوش تھی کہ آپریشن کوہ پیما کی پراگراس تسلی بخش طور سے آگے بڑھ رہی ہے۔ بجلی اور پانی کے وزیر گوہر ایوب نے اس ’’عظیم کارنامے‘‘ پر آرمی کی تعریف کی اور آپریشن کی سپورٹ پر اصرار کیا۔ وزیر ثقافت، سپورٹس، ٹورازم اور امورِ نوجواناں، شیخ رشید احمد نے بھی آرمی کی تعریف کی جبکہ وزیر مذہبی امور نے فرمایا: ’’جہاد کرنے کے لئے یہی بہترین وقت ہے!‘‘ دوسری طرف اس آپریشن کے نقاد بھی موجود تھے۔ ان میں مواصلات کے وزیر راجہ نادر پرویز اور صحت کے وزیر مخدوم جاوید ہاشمی شامل تھے۔ سب سے زیادہ سخت نقاد سیکرٹری دفاع تھے جو 20منٹ تک بولتے رہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ ’’جہاد‘‘ کو پاکستان کے دفاع میں مرکزی عنصر کے طور پر کیوں سمجھ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’کیا وجہ ہے کہ ہم نے آزادی کے 52برس بعد اب جا کر جہاد کی اہمیت کا احساس کیا ہے‘‘۔ سیکرٹری دفاع کے بھائی چودھری نثار علی خان نے بھی کئی سخت سوال اٹھائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی معلومات کے مطابق پاکستان کارگل۔ دراس سیکٹر میں شکستِ فاش کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان فوجی افسروں نے جو بریفنگ دے رہے تھے ان سے نثار نے براہ راست پوچھا : ’’اس آپریشن کا حکم کس نے دیا تھا؟‘‘ لیکن نثار کا یہ انتباہ اب اس آپریشن کے بارے میں ہو رہا تھا جو بروئے عمل لایا جا رہا تھا اور جاری تھا۔

اس کے بعد بعض پاور فل شخصیات کے مابین باہمی ’’تُو تُو میں میں‘‘شروع ہو گئی۔ ڈیفنس سیکرٹری کے خطاب کے بعد گوہر ایوب جو کافی برہم تھے انہوں نے پوچھا : ’’سیکرٹری دفاع، آرمی چیف کے پلان کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ اور شیخ رشید نے بھی سوال کیا کہ ’’سیکرٹری دفاع ان ’’رازوں‘‘ کا انکشاف اب کیوں کر رہے ہیں؟‘‘۔۔۔

اس جھک جھک پر وزیراعظم نے اجلاس ختم کر دیا اور کابینہ کے اس اجلاس میں جن لوگوں نے خدشات کا اظہار کیا تھا ،کارگل کے منصوبہ سازوں نے ان کو بالکل درخوراعتناء نہ جانا۔(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -