الیکشن کمیشن کے ضابطۂ اخلاق کی پابندی

الیکشن کمیشن کے ضابطۂ اخلاق کی پابندی

  

پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس سید کلیم امام کی ہدایت پر پولیس نے الیکشن کمیشن کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر صوبہ بھر میں گزشتہ دس روز کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے946، کارکنوں کے خلاف136 مقدمات درج کر لئے ہیں، جن میں پی ٹی آئی کے429، مسلم لیگ (ن) کے134، پیپلزپارٹی کے22، دوسری سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے361 حامیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ آئی جی پولیس نے ہدایت کی ہے کہ انتخابی ضابطہۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر بلا متیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں اور تمام متعلقہ حکام اِس ضابطے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں،انہوں نے یہ ہدایت بھی کی کہ اِس امر کا خصوصی اہتمام کیا جائے کہ شریف شہریوں کے خلاف بلاوجہ کوئی ایسی کارروائی نہ کی جائے جو اُن کے لئے پریشانی کا باعث ہو، انتخابی مہم کے دوران وال چاکنگ، نفرت انگیز تقاریر اور مواد کی اشاعت پر مکمل پابندی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔دوسری جانب ملتان سے ایک خبر کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنوں نے خلاف ضابطہ لگے ہوئے پینا فلیکس اُتارنے پر پی ایچ اے کے کارکن کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، میڈیکل رپورٹ میں تشدد ثابت ہو گیا تاہم ملزموں کے خلاف کسی کارروائی کی اطلاع نہیں۔

الیکشن کمیشن نے جو ضابطہۂ اخلاق جاری کیا ہے،بظاہر اس کا مقصد تو یہی نظر آتا ہے کہ انتخابات کے دوران امیدوار اور اُن کے حامی اپنی اپنی مہم بلاخوف و خطر چلائیں اور مخالف امیدواروں کو کسی شکایت کا موقع نہ دیں،لیکن بڑی تعداد میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور حامیوں کے خلاف مقدمات کے اندراج سے لگتا ہے کہ جوشِ جذبات میں کارکنوں کی سطح پر ضابطہۂ اخلاق کی زیادہ پروا نہیں کی جا رہی، صرف پنجاب میں دس دن کے اندر ایک ہزار کے لگ بھگ افراد کے خلاف مقدمات درج ہو گئے ہیں،جو تشویش کی بات ہے، سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اپنی انتخابی مہم اخلاقیات کے دائرے کے اندر رہ کر چلانی چاہئے اور اس کا مقصد اپنا مثبت پیغام ووٹروں تک پہنچانا ہونا چاہئے، مخالفوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں یا کسی بھی اور طریقے سے مخالفوں کی انتخابی مہم میں رخنہ ڈالنے کی کوششیں کسی بھی صورت لائق تحسین نہیں کہلا سکتیں۔ ہر امیدوار کا ماٹو یہی ہونا چاہئے کہ اپنے کام سے سروکار رکھو اور کسی دوسرے کے کام میں بلاوجہ مداخلت نہ کرو۔

شہروں کے اندر شاہراہوں پر ہورڈنگز لگانے اور بینرز لٹکانے کے لئے بھی ایک ضابط�ۂ اخلاق بنایا گیا ہے، جس میں ہورڈنگز اور بینرز کا سائز اور لمبائی چوڑائی بھی متعین کی گئی ہے،جس کی تفصیلات امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو فراہم کر دی گئی ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ پینا فلیکس ہورڈنگز اور بینر وغیرہ بنواتے وقت اس پابندی کا خیال رکھیں،اس کے لئے جو فیس مقرر کی گئی ہے وہ بھی ادا کریں، تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے ٹکٹ کے امیدواروں سے کروڑوں اربوں روپے جمع کر رکھے ہیں اسی میں سے انتخابی اخراجات بھی کئے جاتے ہیں اِس لئے یہ ضروری ہے کہ جو بینر وغیرہ لہرائے جائیں اُن کی مقررہ فیس بھی ادا کی جائے اور یہ کوشش نہ کی جائے کہ عملے کی ملی بھگت کے ساتھ بغیر ادائیگی کے بینر لہرادیئے جائیں، اسی طرح جو بینر مقررہ سائز سے زیادہ ہوتے ہیں متعلقہ محکمہ پہلے سے خبردار کر چکا ہے کہ وہ اتار دیئے جائیں گے، ملتان میں ایسا ہی ایک پینا فلیکس اُتارنے پر اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنا دیا گیا، ایسا طرزِ عمل درست نہیں،محکموں کے اہلکار اپنے افسرانِ اعلیٰ کی ہدایت پر ہی ایسی کوئی کارروائی کرتے ہیں۔اگر اس سلسلے میں کوئی شکایت تھی تو متعلقہ ادارے سے رجوع کرنا چاہئے تھا، اہلکار سے زیادتی کسی طور روا نہیں۔ سیاست بنیادی طور پر عوام کی خدمت کا ہی طریقہ ہے اگر سیاسی کارکن اپنے ہی جیسے انسانوں کو اس طرح تشدد کا نشانہ بنائیں گے تو پھر اُن کے بھائی بندوں سے ووٹ کس مُنہ سے مانگیں گے؟

انتخابی ضابطہۂ اخلاق کے تحت امیدواروں یا اُن کے گن مینوں کی طرف سے اسلحہ لہرانے پر بھی پابندی ہے،لیکن مقام افسوس ہے کہ بعض امیدواروں کے گن مین اسلحہ لہرانے(اور اس طرح مخالفین پر رعب ڈالنے) کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔لاہور کے ایک صوبائی حلقے میں ایک امیدوار کے دو گن مین اِس سلسلے میں گرفتار بھی ہوئے ہیں۔اِس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ جو امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں اور جنہوں نے اپنی حفاظت کے نام پر گن مین رکھے ہوئے ہیں جو اُن کے ساتھ کارنر میٹنگوں میں جاتے ہیں۔اُنہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ اُن کے پاس جو اسلحہ ہے اس کی نمائش یا کسی بھی طریقے سے اسلحے کے ذریعے خوف و دہشت کی فضا پیدا کرنا خلافِ قانون ہے،ہمارے ہاں جس کے پاس بھی اسلحہ ہوتا ہے وہ اس کا اپنا ہو یا کسی دوسرے کا وہ اس کی نمائش کر کے دوسروں پر رعب ڈالنا اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں بے گناہ لوگ قتل ہوتے رہتے ہیں، ایسی اندوہناک وارداتیں بھی ہو جاتی ہیں کہ معمولی رنجش پر گولی چلائی گئی حفاظتی خود اختیاری اور دوسروں کو خوفزدہ کرنے میں بنیادی فرق ملحوظ رکھنا چاہئے جو امیدوار کنویسنگ کے لئے ووٹروں کے پاس جا رہے ہیں، اُن کا مقصد تو اپنے لئے ووٹ مانگنا ہوتاہے اُنہیں مرعوب کرنا نہیں، اِس لئے باڈی گارڈوں کو بھی یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ حفاظت کے نام پر امیدواروں اور خود اپنے لئے مشکلات پیدا نہ کریں۔

کارنر میٹنگوں یا جلسوں وغیرہ میں تقریریں کرنے والے بعض امیدوار اپنے رہنماؤں کی پیروی میں مخالفین کے خلاف اشتعال انگیز گفتگو پر اُتر آتے ہیں اور مخالفوں پر اس طرح کیچڑ اُچھالتے ہیں کہ جواب میں وہ بھی مشتعل ہو کر الزام تراشی پر اُتر سکتے ہیں اِس لئے اس سے احتراز ہی بہتر ہے،دھرنا کلچر نے ہماری سیاسی لُغت میں جس طرح غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال عام کیا ہے اُسے یک قلم مسترد کرنا ہو گا ورنہ اس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں،سیاسی رہنماؤں کو دہشت گردوں کی جانب سے بھی دھمکیاں مل رہی ہیں اِس لئے یہ اور بھی ضروری ہے کہ انتخابی مہم کو پُرامن رکھا جائے تاکہ کسی واقعے کی آڑ میں کسی دہشت گرد کو کارروائی کا بہانہ نہ مل سکے، کیونکہ دیکھا یہی گیا ہے کہ دہشت گرد ایسے ہی مقامات پر کارروائی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں جہاں دو فریق آپس میں پہلے سے اُلجھے ہوئے ہوں یا اشتعال انگیز فضا پیدا کی گئی ہو،اِس لئے انتخابات کے بروقت اور پُرامن انعقاد کے لئے ضروری ہے کہ امیدوار خود بھی ضابطہۂ اخلاق کی پابندی کریں اور اپنے گردو پیش کے لوگوں کو بھی اس کی تلقین اور ہدایت کریں،تشدد کا راستہ ہر کسی کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -