پشاور:خواتین کی پنک بسیں سڑکوں پر کیوں نہیں؟

پشاور:خواتین کی پنک بسیں سڑکوں پر کیوں نہیں؟

  

ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو جاپان اور اقوام متحدہ کی طرف سے ملنے والی ’’پنک بسیں‘‘ سڑکوں پر نہیں لائی گئی ہیں۔ یہ بسیں دو ماہ قبل تحفے کے طور پر پی ٹی آئی کی حکومت کے حوالے کی گئی تھیں۔ پنک بسیں خواتین کو درپیش سفری مشکلات میں کمی کے لئے خاص طور پر مہیا کی گئی تھیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے آخری ایام میں یہ بسیں پشاور پہنچیں تو پشاور، مردان اور ایبٹ آباد میں چلانے کے لئے متعلقہ محکموں کے حکام کے حوالے کردی گئیں جنہوں نے یہ بسیں جنرل بس سٹینڈ پشاور میں کھڑی کردیں۔ ان بسوں کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔ نگران حکومت قائم ہونے کے بعد ان بسوں کو فراموش کردیا گیا۔ اس پر عوامی حلقوں خصوصاً خواتین کی جانب سے شور مچایا گیا کہ یہ بسیں فوراً سڑکوں پر لائی جائیں تاکہ خواتین کے سفر کی مشکلات کم ہو سکیں۔ تاہم کوئی نوٹس نہ لیا گیا۔خواتین کو تقریباً ہر چھوٹے اور بڑے شہر میں سفری سہولتوں کی کمی کی شکایت رہتی ہے۔ بڑے شہروں میں خواتین کے لئے زیادہ مشکلات ہوتی ہیں۔خیبرپختونخوا میں بسیں نہ چلنے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ ایک خاص طبقے نے ٹرانسپورٹ کے کاروبار پر اجارہ داری قائم کر رکھی ہے،اس طبقے کے سوا کسی کو بسیں چلانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔پنک بسیں بھی غالباً اِسی وجہ سے اب تک نہیں چلائی جا سکی ہیں۔ پنک بسوں کی فراہمی سے توقع تھی کہ جن شہروں میں یہ بسیں چلائی جائیں گی، وہاؒ ں خواتین کی سفری مشکلات کم ہوں گی۔ نگران وزیر سے جب ان بسوں کو سڑکوں پر نہ لانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ان بسوں کے بارے میں کچھ معلومات نہیں ہیں، متعلقہ حکام سے دریافت کیا جائے گا۔ یہ افسوسناک صورت حال ہے۔ اس کی ذمے دار سابق حکومت بھی ہے کہ بسیں ملتے ہی انہیں خواتین کی سہولت کے لئے فوری طور پر کیوں نہیں چلایا گیا۔ اس معاملے کا نگران حکومت کو علم ہی نہیں۔ خواتین مسلسل آمدورفت کے حوالے سے پریشان ہیں۔ ان کی جانب سے اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ پنک بسوں کو فوری طور پر چلایا جائے۔ یہ مطالبہ درست اور جائز ہے، اس پر نگران صوبائی حکومت کو سنجیدگی سے نوٹس لیکر یہ بسیں چلانے کی ہدایت کرنی چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -