افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں کے پیچھے بھاگنا امام کعبہ ڈاکٹر سعود الشریم کا وقیع خطبہ

افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں کے پیچھے بھاگنا امام کعبہ ڈاکٹر سعود الشریم کا ...

  

اے لوگو! انسان فطری طور پر خبروں کے حصول کا شیدائی اور افواہوں پر کان دھرنے والا ہے۔ ہمیشہ اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ کوئی خبر زمین تک پہنچنے سے قبل فضاء ہی سے اچک لے۔ دوسری طرف یہ ان افواہوں کی تحقیق اور ان سے متعلق سمجھ بوجھ اور طبیعت میں ٹھہراؤ پیدا کرنے کے معاملہ میں انتہائی لاپرواہی کا مرتکب ہے۔ زیادہ تر لوگوں کی حالت یہی ہے سوائے ان چند افراد کے جن پر اللہ کی خاص رحمت ہے۔ سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے:

’’انسان جلد باز مخلوق ہے‘‘۔ (الانبیاء:37)

مزید فرمایا:

’’انسان ہے ہی بڑا جلد باز‘‘۔ (بنی اسرائیل: ۱۱)

عقلی اور شرعی طور پر یہ بات ثابت شدہ ہے کہ مستحکم واقعات اور امت سے متعلق وہ عمومی خبریں جو بنیادی اہمیت کی حامل ہیں ان میں خوب جانچ پرکھ سے کام لینا چاہئے اور ان کے وقوع کی تصدیق میں اس وقت تک جلد بازی نہ کی جائے جب تک کہ کسی خبر کے وقوع کی ساری شرطیں اکٹھی نہ ہو جائیں، جبکہ ان کی تحقیق بھی ایسے لوگوں کو کرنی چاہئے جو دانش مند ہوں، بحرانوں میں بہترین کردار نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور حقوق و ذمہ داریوں میں غیر سنجیدہ اور ان کا مذاق اڑانے والے نہ ہوں۔

بہت سارے لوگ سنی سنائی باتیں ،افواہیں اور خلاف حقیقت خبریں پھیلانے میں جلد بازی سے اس لئے کام لیتے ہیں کیونکہ وہ اپنی خامیوں اور کمزوریوں پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ اس طرح کا رویہ شکوک و شبہات کے وقت پیچیدگیوں کو اور بڑھا دیتا ہے اور مشکلات کے وقت عقل و خرد سے تہی دامن کر دیتا ہے، لہٰذا جس مصیبت اور مشکل سے نکلنے کی کوشش کی جاتی ہے اس میں انسان اور پھنستا اور اس کا مزید شکار ہوتا جاتا ہے۔

انسانی عقل و فکر کا معیار تو یہ ہے کہ معاملات میں سوچ بچار کرے اور غوروفکر کرے خصوصا ان معاملات میں جو لوگوں کے حقوق سے، ان کے فرائض سے ، ان کی آبرو سے، ان کے مال سے اور ان کے دین سے متعلق ہوں۔

جلد بازی کی مذمت یہی بہت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جلد بازی کا انجام ندامت و حسرت بتایا ہے۔ یہ ندامت آدمی کو اس وقت لاحق ہوتی ہے جب کہ ندامت کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہیں خبر دے تو اس کی ا چھی طرح تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پرنادم اور پشیمان ہو جاؤ‘‘۔(الحجرات: ۶)

زیادہ تر افواہوں اور بے سرو پا خبروں کے پیچھے فضول شوق اور ٹوہ پسندی کے جذبات کارفرما ہوتے ہیں اور بعض لوگ تو بغیر کسی سبب کے خبروں کے حصول کے لئے پیسے تک خرچ کر ڈالتے ہیں۔ حالانکہ چند لمحات صبرو تحمل سے کام لیا جائے تو وہی خبریں بلا معاوضہ ان تک پہنچ جاتی ہیں۔ پرانے زمانے سے کہا جاتا ہے: بہت جلد شب و روز کی گردش ایسی خبریں اور معلومات آپ تک پہنچا دے گی جس سے آپ نا آشنا تھے اور جن کے حصول کے لئے آپ نے کسی کو نہیں بھیجا۔

اور خبریں آپ کے پاس وہ لے کر آئے گا جسے آپ نے کبھی خبروں کی ٹوہ لگانے کا نہیں کہا اور نہ ہی کبھی اس کے لئے وقت دیا۔

ہمیشہ افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں کے پیچھے فضول شوق ہی نہیں ہوتا بلکہ اکثر اوقات ان کا بڑا مقصدافراتفری پھیلا کر فکری، سیاسی، اجتماعی، اقتصادی یا دینی مقاصد حاصل کرنا ہوتا ہے تاکہ اس طرح مستحکم کو غیر مستحکم کیا جا سکے اور نظم و نسق میں انارکی پھیلا کر وحدت کو منتشرکیا جا سکے۔

سنجیدہ معاشرے میڈیا کی فضول باتوں کو اپنے اندر سرایت نہیں کرنے دیتے کہ جن سے وحدت پیدا ہونے کی بجائے شیرازہ بکھرتا ہے، فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے، تعمیر و ترقی کے لئے کی جانے والی ساری محنت اور کاوش رائیگاں چلی جاتی ہے،بلکہ افواہیں پھیلانا اور بے سروپا خبروں کی ترویج تو بیوقوف، کم عقل اور کند ذہن معاشرے کی علامات ہیں جو اپنے فراغت کے اوقات اس طرح گزارتے ہیں، جو انہیں مزید نکما بنا دیتے ہیں اور ان کے سینے کسی راز کو چھپانے کے قابل نہیں رہتے بلکہ باتیں اگلنا ان کی مزید کمزوری بن جاتی ہے، کیونکہ جو معاشرے اپنی عمر کے قیمتی اوقات کو قیل و قال میں صرف کرنا شروع کر دیں ان میں ذہنی پختگی نہیں آتی اور نہ ہی ایسے لوگ مشکلات کا بار اٹھانے کے قابل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ بخاری کی روایت میں ہے، نبی پاک ؐ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تین چیزیں تمہارے لئے ناپسند کی ہیں: قیل و قال، کثرتِ سوال اور مال کا ضیاع‘‘۔

اللہ آپ کا بھلا کرے! غور کریں کہ حدیث میں قیل و قال، کثرتِ سوال اور اضاعتِ مال کو کس طرح پرویا گیا اور ارشاد کیا گیا کہ مال کا ضیاع افلاس کا سبب بنتا ہے، سوالات کی کثرت مشقت میں پڑنے کا ذریعہ بنتی ہے اور اسی طرح وقت کا ضیاع اپنے قیمتی اوقات سے فائدہ اٹھانے کی بجائے ان کی تباہی کا سبب بنتا ہے جس سے ماحول میں اور زیادہ الجھنیں اور پریشانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ابن جوزی ؒ فرماتے ہیں کہ:

’’میں نے بہت سارے لوگوں کو دیکھا جو زندگی کا معنی تک نہیں جانتے اور اپنا وقت حکمرانوں اور ارزانی و مہنگائی کی باتوں میں ضائع کرتے ہیں تو مجھے سمجھ آگئی کہ اللہ تعالیٰ نے وقت کی قدر اور انسانی عمر کے شرف کی سمجھ صرف ان لوگوں کو دی ہے جو ان اوقات کو غنیمت جانتے ہیں۔

’’اور یہ بات انہی کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کریں اور اسے ماسوائے بڑے نصیب والوں کے کوئی نہیں پا سکتا‘‘۔(فضیلت)

ایک بار حضرت عمر فاروق ؓ نے سُنا کہ نبی ؐ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے چنانچہ وہ اپنے گھر سے نکلے مسجد میں آئے اور دیکھا کہ لوگ بھی یہی بات کر رہے ہیں تو حضرت عمر ؓ سے رہا نہ گیا یہاں تک کہ نبی پاک ؐکے پاس تشریف لے گئے اور دریافت کیا کہ کیا آپ ؐنے طلاق دے دی ہے؟ نبی ؐنے فرمایا: ’’نہیں‘‘۔

عمرؓ اٹھے مسجد کے دروازے پر آکر بلند آواز سے پکارا اور کہا کہ نبی ؐنے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی، تب یہ آیات نازل ہوئی:

’’یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن لیتے ہیں اْسے لیکر پھیلا دیتے ہیں، حالانکہ اگر یہ اْسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آ جائے جو اِن کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کر سکیں‘‘۔ (نساء:83)

اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہمارے کان ان لوگوں کی طرح نہیں ہونے چاہئیں جو بغیر سوچے سمجھے سنتے اور خبریں اکٹھی کرتے ہیں اور پھر بے لگام اور بلاروک ٹوک اوروں کو ان کی ترسیل شروع کر دیتے ہیں۔ (النساء: ۸۳)

کسی بھی خبر میں بنیادی چیز اس کی سچائی اور جھوٹ کی تحقیق ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس خبر کا معنی اور مفہوم کیا ہے تو اسے اس کے اصل مفہوم ہی میں اتارنا چاہئے اور اس کے مفہوم میں اضافہ نہیں کرنا چاہئے جس سے اس کا معنی بدل جائے۔ اگر ہم بے تکی سنتے سناتے رہیں تو اس طرح انسان جھوٹ بولنے کا عادی بن جاتا ہے اور پھر گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔

نبی پاک ؐ کا فرمان ہے: ’’کسی شخص کو (برباد کرنے کے لئے) اتنا جھوٹ ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی باتیں کرتا پھرے۔‘‘

اور جب اس خبر کا تعلق دینی معاملات سے ہو تو معاملہ اور بھی گھمبیر ہو جاتا ہے مثلاً نبی کریم ؐکے حوالے سے کوئی بات بیان کرنا یا سوشل میڈیا اور اجتماعات میں بغیر تحقیق کئے اعمال کی فضیلتیں بیان کرنا حالانکہ نبی ؐ فرما چکے: ’’جس شخص نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے‘‘۔

اللہ کے بندو! ہمارے دین نے ہمیں ایسی ہی تعلیم دی ہے۔ کیا کوئی عقلمند ایسا ہے جو ان تعلیمات کو یاد رکھے اور ذرائع ابلاغ میں ان کا لحاظ کرے، جبکہ موجودہ دور میں یہ اہم ترین چیز ہے، کیونکہ واقعات، افواہیں اور خبریں نقل کرنے کے لئے یہ اہم ترین ذریعہ ہے اور انہیں مدنظر رکھ کر ہی کوئی دانش مند ذرائع ابلاغ کے سچے یا جھوٹے ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔

اسی طرح ان تعلیمات کا انفرادی زندگی میں بھی خیال رکھنا چاہئے کہ ہر فرد اپنی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور ہاتھوں سے لکھی ہوئی ٹھوس تحریر کا ذمہ دار ہے اور اس کا اس نے حساب دینا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

’’کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لئے ایک حاضر باش نگران موجود نہ ہو‘‘۔(ق:18)

اللہ تعالیٰ نے خبروں کی نشرواشاعت اور ان کے مطابق عملی قدم اٹھانے سے قبل ان کی تحقیق اور جانچ پڑتال کا جو حکم ہمیں دیا ہے وہ اس کے خطرناک پہلوؤں سے انسانیت کو بچانے کے لئے ہے اور اس لئے بھی کہ ان کی وجہ سے پانچ بنیادی چیزیں یعنی دین، عقل، عصمت و آبرو اور خون بری طرح متاثر ہوتی ہیں جن کی حفاظت شریعت کا اولین مقصد ہے۔

کتنی ہی جھوٹی خبریں ہیں جن کی وجہ سے ناحق قتل ہوئے یا کچھ لوگ پابند سلاسل ہوئے، کتنی ہی جھوٹی خبریں ہیں جن کی وجہ سے میاں بیوی میں طلاق ہوئی اور پورے کے پورے خاندان اجڑ گئے، کتنی جھوٹی خبریں اور افواہیں ہیں جن کی وجہ سے پوری قوم خوف و ہراس کا شکار ہو گئی اور کچھ قومیں مفلس اورکنگال ہو گئیں اور لوگ انکے بارے میں بدظنی اور بدگمانی کا شکار ہو گئے۔ انہی افواہوں کی وجہ سے کتنے لوگ بے آبرو ہوئے ،ان کے مال وجان پر زیادتیاں ہوئیں اور ان کی دینداری کی وجہ سے ان پر ظلم ہوا۔

عمومی طور پر خبروں کے بارے میں غلط روش دو طرح سے ہوتی ہے: یا تو خبر دینے والے کے صدق و کذب میں غلطی کی وجہ سے یا پھر خبر کو سمجھنے اور مناسب موقع پر چسپاں کرنے میں غلطی کی وجہ سے۔ اس لئے خبریں حاصل کرنے والوں میں دو بنیادی عناصر کا ہونا ضروری ہے۔ ایک علم اور دوسرے عدل و انصاف۔

علم اس لئے ضروری ہے کہ کسی چیز کے بارے میں صحیح فیصلہ اس کے صحیح تصور ہی کی بنیاد پر لگایا جا سکتا ہے جبکہ عدل کا عنصر اس لئے ضروری ہے تاکہ آنے والی خبر کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا جا سکے، نہ تو ذاتی پسند کی وجہ سے اسے پذیرائی دی جائے اور نہ ہی ذاتی رنجش اس کے بارے میں انصاف سے کام لینے میں مانع ہو۔

اگر لوگ سنجیدگی، متانت، وقار اور تمکنت سے کام لیں تو بہت ساری پریشانیاں اور خوف و ہراس ختم ہو سکتے ہیں، کیونکہ بہت ساری خبریں سرے سے درست ہی نہیں ہوتیں، ایسی خبریں پہنچتے ہی ان کی تحقیق کر لی جائے تو غلط ہونے کی صورت میں انکے انجام بد سے بچا جا سکتا ہے۔

اور صحیح ہونے کی صورت میں حالات سے ہم آہنگی اور موزو نیت میسر آتی ہے۔ کتنے ہی خاموش لوگ ایسے ہیں جن کی طرف سے بے سروپا باتیں پھیلائی اور اڑائی جاتی ہیں۔

صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی پاک ؐنے چار رکعت والی نماز میں دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ جلد باز لوگ جلدی جلدی نکل گئے اور کہنے لگے کہ نماز کم کر دی گئی ہے۔

ایک ’’ذوالیدین‘‘ نامی شخص نے نبی پاک ؐ سے دریافت کیا کہ کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟‘‘ نبی ؐنے فرمایا: ’’نہ نماز میں کمی کی گئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں۔‘‘ تو اس نے عرض کی کہ آپ ؐ بھول گئے ہیں، چنانچہ جب آپ ؐ کو یہ حقیقت معلوم ہوئی تو آپ ؐنے دو رکعتیں اور پڑھائیں اور پھر سلام پھیرا۔

زبان کی برائیاں بھی انسان کے لئے حد درجہ خطرناک ہیں۔ نبی پاک ؐکا ارشاد ہے:

’’لوگوں کو اوندھے منہ جہنم میں صرف زبان کی لغزشیں ہی گرائیں گی۔‘‘ (ترمذی)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بیان کردہ تمام بیماریوں سے محفوظ رکھے اور ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق دے۔آمین!(مترجم : حافظ محمد سرور)

مزید :

ایڈیشن 1 -