کیا راستے بند کرنا بھی جمہوری حق ہے؟!

کیا راستے بند کرنا بھی جمہوری حق ہے؟!

  

جناب مولانا لیاقت علی باجوہ فیروز پوری

ہمارے ملک میں جب بھی احتجاج کیا اور دھرنا دیا جاتا ہے تو فوراً راستے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ مسافروں کو تکلیف میں ڈالا جاتا ہے۔ بعض بیمار لوگ راستے میں ہی فوت ہو جاتے ہیں۔ کسی کے سالانہ پیپرز ہوتے ہیں‘ کسی نے شادی پر جانا ہوتا ہے‘ کسی نے ڈیوٹی پر جانا ہوتا ہے۔ بچوں نے سکول جانا ہوتا ہے۔ المختصر کسی کو کوئی کام اور کسی کو کوئی کام ہوتا ہے لیکن احتجاج اور دھرنے والے راستے بند کر کے لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نیک کام کر رہے ہیں۔ ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ اسلام کی سربلندی لیے کام کر رہے ہیں۔ حالانکہ نبی کریمؐ کا فرمان ہے کہ

[من اذی المسلمین فی طرقہم وجبت علیہ لعنتہم] (طبرانی)

’’جو شخص مسلمانوں کو ان کے راستوں میں تکلیف دے اس پر لعنت واجب ہو گئی۔‘‘

کیا دھرنے والے اور راستوں پر احتجاج کرنے والے علماء وسیاست دانوں کو نبی کریمؐ کا یہ فرمان نظر نہیں آتا؟ اللہ تعالیٰ سورۂ البقرہ میں فرماتے ہیں کہ

(لَا تُبْطِلُوْا صَدُقَاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی) (البقرہ)

’’اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر ضائع نہ کرو۔‘‘

اس آیت میں روحانی اور جسمانی تکالیف دونوں مراد ہیں۔ نبی کریمؐ کا فرمان ہے کہ ’’ایمان کی ستر سے اوپر یا ساٹھ سے اوپر شاخیں ہیں جن میں سے افضل شاخ لا الٰہ الا اللہ کہنا اور اس کی ادنی شاخ راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا ہے اور حیا ایمان ہی کا ایک شعبہ ہے۔‘‘ (مسلم‘ الایمان)

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے۔‘‘ (بخاری‘ المظالم)

دھرنے والے عوام کو نبی کریمؐ کے یہ فرمان کیوں نہیں سناتے؟ بلکہ یہ لوگ عوام کو حکم دیتے ہیں کہ راستے بند کر دو‘ عوام کو تکلیف دو اور پھر یہ لوگ لعنت کا موجب بھی بنتے ہیں اور صدقہ جیسے عمل سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔

راستے سے تکلیف دہ چیز دور کر دینے سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور بخشش کا پروانہ بھی مل جاتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ’’ایک بار ایک شخص جا رہا تھا‘ اس نے راستے میں ایک کانٹے دار ٹہنی پڑی دیکھی‘اس نے اسے اٹھا کر پھینک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس کام کی قدر کی اور اسے بخش دیا۔‘‘ (بخاری‘ المظالم)

قارئین کرام! اللہ تعالیٰ کتنے مہربان ہیں کہ ایک چھوٹی سی نیکی کہ راستے سے کانٹے دار ٹہنی ہٹائی اور معافی مل گئی۔ اگر ہم راستے کو بند کریں گے تو معافی کی جگہ اللہ تعالیٰ کا غضب کتنا ہو گا۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’ہر انسان 360 جوڑوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے جس نے اللہ اکبر کہا‘ الحمد للہ کہا‘ اللہ کی تسبیح بیان کی‘ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور لوگوں کے راستہ سے پتھر ہٹا دیا یا کوئی کانٹا یا ہڈی لوگوں کے راستے سے دور کر دی یا اچھی بات کا حکم دیا اور برائی سے روکا‘ ان تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد کے برابر تو روز (قیامت) وہ اس حالت میں چل رہا ہو گا کہ اس نے خود کو دوزخ کی آگ سے دور رکھا ہو گا۔‘‘ (مسلم‘ کتاب الزکاۃ: 2229)

آپؐ کا فرمان ہے کہ

’وتمیط الاذی عن الطریق صدقۃ (مسلم)

’’تکلیف دہ چیز رستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ

’’انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں۔ انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنے جوڑوں میں سے ہر جوڑ کا صدقہ ادا کرے۔ صحابہ کرام] نے عرض کیا‘ اللہ کے نبی! اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’مسجد سے تھوک ختم کرنا‘ راستے میں سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا (بھی صدقہ ہے) اگر یہ نہ ملے تو چاشت کی دو رکعتیں تمہارے لیے کافی ہیں۔‘‘ (ابوداؤد: 5242)

سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کبھی کوئی نیکی کا عمل نہیں کیا تھا۔ اس نے کانٹے دار ٹہنی راستہ سے ہٹا دی وہ یا تو درخت پر لٹک رہی تھی اسے کاٹ کر پھینک دیا یا پھر راستے میں پڑی تھی اسے ہٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نیکی کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔ (سنن ابی داؤد: 5245)

اس کے برعکس جو لوگ راستے بند کرتے ہیں اور کئی کئی دن راستے بند کر کے دھرنے دیتے ہیں اور لوگوں کو تنگ کرتے ہیں۔ کیا یہ لوگ (اپنی نظر میں بھی) جنت کے مستحق ہو سکتے ہیں؟

سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ایذا رساں چیز مسلمانوں کے راستے سے علیحدہ کر دیا کرو۔‘‘

بعض لوگ نہیں سوچتے کے ان کے کاموں سے لوگ کتنے پریشان ہوتے ہیں، مثلاً تعمیر کا سامان‘ مکان کے پرنالے‘ کوڑا کرکٹ‘ کوڑے کو آگ لگانا‘ پارکنگ‘ راستے میں تھوکنا‘ تجارت کرنا‘ راستے میں بول وبراز کرنا‘ راستے میں کھیلنا‘ راستے میں گٹر بنانا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’راستوں میں بیٹھنے سے بچو‘‘ صحابہ کرام] نے عرض کیا اگر ہماری مجبوری ہو تو آپؐ نے فرمایا: ’’تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔‘‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ راستے کا حق کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: ’’نظر نیچی رکھنا‘ ایذا نہ دینا‘ سلام کا جواب دینا‘ اچھی بات کہنا‘ برائی سے منع کرنا۔‘‘ (مسلم: 4815)

ہمیں چاہیے کہ احتجاج دھرنایا کسی اور طرح راستے بند کرنے سے بچیں اور راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو مسافروں کے لیے ہٹا دیا کریں تا کہ ہماری معافی ہو جائے نہ کہ راستے بند کر کے لعنت کا مستحق بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

۔۔۔۔۔۔bnb۔۔۔۔۔۔

مزید :

ایڈیشن 1 -