این اے 129 کا دنگل، ایاز صادق، علیم خان میں گھمسان کارن

این اے 129 کا دنگل، ایاز صادق، علیم خان میں گھمسان کارن

  

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سیاسی حلقہ بندیوں کا سب سے گہرا اثر این اے 129 پر پڑا ہے جہاں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدوار میدان میں اترے ہیں تاہم میدان نیا ہونے کے باعث قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق اور عبدالعلیم خان کو نئے علاقوں اور نئے ووٹرز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس حلقے کی بستیوں کے نئے اور پرانے نام بھی شاید ان امیدواروں کے لئے یاد رکھنا مشکل ہوگا اور درجنوں ایسے علاقے اس حلقے میں شامل ہیں جن سے دونوں امیدواروں کی آشنائی پہلے کبھی نہ تھی۔ اگرچہ دونوں مذکورہ امیدوار پہلے بھی ایک دوسرے کے مدمقابل رہ چکے ہیں اور ضمنی انتخاب میں نہایت کم مارجن سے سردار ایاز صادق کو کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن این اے 122 کی جگہ نئی حلقہ بندی کے تحت این اے 129 ایک نیا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد تقریباً 3 لاکھ سے زائد ہے جن میں خواتین کے ساتھ نئے ووٹرز کی غالب اکثریت بھی شامل ہے۔ این اے 129 کے معروف اور گنجان آباد علاقوں میں غازی آبا د، کمہار پورہ، فتح گڑھ، ہربنس پورہ، تاجپورہ، تاج باغ، دھرم پورہ، میاں میر پنڈ، کینٹ کے علاقے، بیدیاں روڈ، نادر آباد، بھٹہ چوک سرفہرست ہیں، مغلپورہ کا کچھ حصہ بھی ان میں شامل ہے۔ مسلم آباد لال پل بھی حلقے میں شامل ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے این اے 129 کا شمار شہر کے گنجان آباد بستیوں میں ہوتا ہے جہاں جدید بستیوں کے ساتھ ساتھ کم آمدنی والے لوگوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔ مغلپورہ سے آگے نہر کے اطراف میں بسائی جانے والی درجنوں نئی آبادیاں بھی اس حلقے کا حصہ ہیں۔ جہاں کسی ایک برادری کی اکثریت نہیں بلکہ یہ علاقہ اپنے اندر تمام برادریوں کو سموئے ہوئے ہے۔ ان میں زیادہ تر آبادی آرائیں برادری سے تعلق رکھتی ہے تاہم ملک، رحمانی، جٹ، پٹھان، سید، شیخ، مغل، راجپوت، قریشی، کشمیری، صدیقی بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ اس حلقے سے گزشتہ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے شیخ روحیل اصغر ایم این اے اور ایم پی اے ملک وحید اور وحید گل کامیاب ہوئے تھے اب جبکہ این اے 129 سے مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کو امیدوار نامزد کیا ہے، ان کے دونوں ’’ذیلی‘‘ حلقوں پی پی 156 سے ملک وحید پی پی 157 سے خواجہ سلمان رفیق لیگی امیدوار ہیں۔ قومی اسمبلی کے اس حلقے کی ایک منفرد حیثیت یہ ہے کہ اس کے نیچے صوبائی اسمبلی کے تین حلقے آتے ہیں۔ مذکورہ دو کے علاوہ پی پی 158 کا پون حصہ بھی اس کی حدود میں ہے جہاں (ن) لیگ نے ایک نئے امیدوار رانا احسن شرافت کو ٹکٹ دیا ہے اگرچہ یہ ان کا پہلا الیکشن ہے لیکن وہ انتخابی مہم بڑے منجھے ہوئے انداز میں چلا رہے ہیں۔ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی نے این اے 129 سے سردار ایاز صادق کے پرانے حریف عبدالعلیم خان کو میدان میں اتارا ہے۔ وہ پی ٹی آئی سنٹرل پنجاب کے صدر ہیں جنہیں قائد تحریک عمران خان کا دست راست ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انہیں لاہور کی انتخابی سیاست میں تشہیری مہم پر بے دریغ دولت خرچ کرنے کا ماہر بھی کہا جاتا ہے۔ سردار ایاز صادق کے ساتھ ضمنی الیکشن میں معرکے کے دوران انہوں نے جس منظم انداز سے مہم چلائی تھی وہ آج تک یادگار بنی ہوئی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عبدالعلیم خان جس بھی حلقے سے الیکشن لڑتے ہیں اس کی ایک ایک گلی میں چار چار انتخابی دفتر کھول دیئے جاتے ہیں اور پورے علاقے میں بینرز، پوسٹرز، ہورڈنگز، فلیکسز اور علیم خان کی قد آور تصاویر سے بھر دیا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی نے اس کے ذیلی حلقے پی پی 156 سے مقامی امیدوار میاں افتخار، پی پی 157 سے الحاج شعیب صدیقی کو امیدوار نامزد کیا ہے۔ ان دونوں کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مقامی سطح پر خاصے مقبول ہیں۔ شعیب صدیقی مسلم لیگ (ق) میں عام کارکن کی حیثیت سے اپنے قائدین کی سیاسی مہم چلاتے رہے ہیں اور انتخابی پیچ و خم سے خوب آگاہ ہیں۔ اس طرح میاں افتخار آرائیں برادری سے تعلق ہونے کے ساتھ یوسی ناظم رہ چکے ہیں اور وہ ہربنس پورہ کے مقامی شہری ہیں، اب تک دونوں بڑی جماعتوں کے امیدواروں نے انتخابی مہم کا آغاز تو کر دیا ہے لیکن اس میں انتخابات کی روایتی گہماگہمی نہیں آئی۔ علاقے میں بینرز اور چھوٹے چھوٹے فلیکس بھی بڑی تعداد میں آویزاں کئے گئے ہیں، کارنر میٹنگز کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گزشتہ دو اتواروں کو دونوں امیدواروں کے حامیوں نے لاہوری ناشتوں کا اہتمام بھی کیا۔ رات گئے تک انتخابی دفاتر میں تھوڑا بہت رش بھی دکھائی دیتا ہے لیکن زمینی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پی پی آئی کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے دونوں کے امیدواروں میں سخت معرکہ آرائی ہوگی اور اس امر کا غالب امکان ہے کہ جیت کا فیصلہ انتہائی کلوز مارجن کے ساتھ ہوگا۔ پاکستان پیپلزپارٹی، متحدہ مجلس عمل، ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک یارسول کے امیدواروں سمیت 13 امیدوار میدان میں ہیں مگر ان کی انتخابی مہم نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہاں میدان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی میں ہی ہوگا لیکن دوجماعتوں کے دو بڑے پہلوان عبدالعلیم خان کا تعلق پٹھان برادری جبکہ سردار ایاز صادق کا تعلق شیخ برادری ہے، اس حلقے میں ’’شیخوں کا انتہائی قحط‘‘ ہے جبکہ پٹھان برادری خاصی زیادہ ہے تاہم مقابلہ برادریوں میں نہیں امیدواروں اور پارٹیوں میں ہوگا۔

مزید :

علاقائی -